امیزنگ نیوز (عجب عجب مگر غضب غضب)

(Hukhan, karachi)

عجب عجب مگر غضب غضب

اس میں کیا شک ہے کہ ہم دنیا سے بہت الگ ہیں،،،ہماری ہر ادا نرالی ہے،،،کیا خوب ہے وہ،،،
ادا بھی نرالی،،،ہائے میری چائے کی پیالی،،،اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم دنیا سے بہت سےمعاملات،،
خاص کرتعلیم۔۔صحت۔۔سوشل سروسز میں دنیا سے کم سے کم نصف صدی پیچھے ہیں،،،
ہمارا نقطہ آج یہ ہے کہ ہم دنیا سے الگ(یا چلیں عزت دیتے ہیں خود کو)ہم دنیاسے منفردکیوں ہیں،،،
پاکستانی جن باتوں یا خبروں پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں،،،وہ دنیا سے مطابقت نہیں رکھتی،،،جیسے،،
پورے محلےمیں اس وقت جشن کا سماں ہوتا ہے،،،جب وزارتِ بجلی کہتی ہے‘‘عید کی چھٹیوں میں،،
بجلی نہیں جائے گی،،،یہ الگ بات ہے کہ اس دوران کچھ ٹیکنیکل فالٹ پیدا کرکے زندہ بجلی کو،،
موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے،،،
گھر کے سرکاری نلکے میں پانی آتا دیکھ کر اس پانی سے ذیادہ ہمارے خوشی کے آنسو بہنے لگے،،،
جب سرکار یہ کہتی ہے‘‘،ہمیں اپنی عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے‘‘،اس ضمن میں ہم نے،،،
فلاں فلاں سٹینڈنگ کمیٹیز بنا دی ہیں‘‘،
یقین جانیے ہر پاکستانی کامنہ حیرت سے ایسے کھل جاتا ہےجیسے بارشوں میں سرکارکی ایڈمنسٹریشن،،
کا پول کھل جاتا ہے،،،مرزا صاحب کے جاننے والے ہیں،،،اک دن ان کی ماں جی کو دل میں دردہوا،،
ان کے ابا نےکہا‘‘بیٹا جلدی سے ماں کو کارڈیو ہسپیٹل لے جاؤ،،،تھوڑی دیر بعدان کی بیگم۔بیٹا،،،
خوش خوش گھرلوٹے،،،باپ نے فکر مندی سے پوچھا‘‘کیا ہوا بیٹا؟؟؟
وہ بولاابا جان ‘‘چھوٹاسااٹیک تھا،،،ڈاکٹر بھی تھا،،،میڈیسن بھی تھی،،،بس،،اب اماں کو آرام کرنا ہے کچھ دن،،
پندرہ دن کی میڈیسن بھی دی ہے،،،ابا جان کامنہ حیرت سے کھل گیا،،،اپنا سینہ پکڑکربولے،،،
بیٹا سچ‘‘،،سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹربھی تھا،،،بیڈ بھی تھا،،،میڈیسن بھی تھی،،،بس،،
پھر وہ اوپرکوچ کرگئے،،،میری گزارش سب پڑھنے والوں سے ہے،،،کہ ایسی خبر ذرا دھیان سے اور،،،
وقفے وقفے سے سنانی چاہیے،،،
اک دفعہ وزارتِ پٹرولیم نے اعلان کیا‘‘،،اس دفعہ پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی جائے گی،
ہمارے دوست نے یہ خبر سن لی،،،خوشی سے میری بائیک کی بریک لگانابھول گیا،،،اور اک
موٹی عورت سے ٹکراگیا،،،آنکھ ہسپٹل کے بیڈ پر کھلی،،،ڈاکٹر نےپوچھا‘‘بیٹا کیا ہوا تھا؟؟؟
دیکھ کر بائیک کیوں نہیں چلاتے آپ،،،میرا دوست بو لا‘‘ڈاکٹر صاحب،،،میری غلطی نہیں،،
میں تو سیدھا سڑک پر جا رہا تھا،،،اک پہاڑ چلتا ہوا روڈ کے بیچ آگیا،،،آپ بتائیں،،
میں کونسا گلگت میں بائیک چلارہا تھا،،کہ پہاڑ پر ہی نظر رکھتا۔۔۔۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Sep, 2017 Total Views: 210 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 667 Articles with 232924 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
hahah khbh dost
By: sohail memon, karachi on Sep, 12 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 12 2017
0 Like
v nice
By: rahi, karachi on Sep, 12 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 12 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB