دنیا کے طویل العمر افراد

(Rafi Abbasi, Karachi)

جنوبی اٹلی کے مغربی ساحل پر واقع قصبے ’’ایکیارویلی‘‘ میں100سال کی عمر کے 300جب کہ اوکیناوا میں 740افراد رہتے ہیں
رواں سال انڈونیشیامیں 145برس کی عمر میں انتقال کرنے والے شخص نے 1992میں اپنی موت کا کتبہ تیار کرالیا تھا
برطانیہ میں معمر ترین جوڑے نے اپنی شادی کی 90ویں سالگرہ منائی

قدیم دور کے انسانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر افراد نے کئی سو سال تک زندہ رہے لیکن حالیہ زمانے میں بھی کئی درجن لوگ اپنی طویل العمری کی وجہ سے مشہورہیں بلکہ کئی اشخاص نے لمبی عمر تک جینے کےعالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں ۔ آج اس زمانے میں جب آسائشوں نے بنو آدم کی نقل و حرکت میں کمی کردی ہے اور وہ تساہل پسند ہوگیا ہے، اس کی اوسط عمر میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور وہ بہ مشکل ہی 60سال کی حد عبور کرکے 80برس تک جی پاتے ہیں۔ لیکن اب بھی دنیا میں ایسے کئی درجن افراد ہیں جنہوں نے اپنی عمر کی ایک صدی مکمل کرکے اگلی صدی میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں سے بیشتر نے تین صدیوں کے حالات کامکمل ہوش و حواس کے ساتھ مشاہدہ کیا ہے۔

دنیا کامعمر ترین شخص مباہ گوٹھو انڈونیشیا میں رہتا تھا، جس کا 13؍اپریل 2017کو 145برس کی عمر میں انتقال ہوا، 31دسمبر 1870میں پیدا ہوا، 1880میں سراجن کے علاقے میں شکر کا کارخانہ تعمیر ہوتے دیکھا، بیسوی صدی میںانڈونیشا سمیت دنیا بھرمیں رونما ہونے والے انقلابات،دو عالمی جنگیں، کئی ممالک کی شکست و ریخت دیکھی۔ اکیسویں صدی کے حالات و واقعات دیکھنے کے بعد 2017میں انتقال کرگیا۔گوٹھو کے 10بہن بھائی، چار بیویاں اور تمام بچے کافی عرصے پہلے مر چکےتھے، اور وہ بھی اتنی طویل عمر سے عاجز آگیا تھا۔اس کی بینائی اس قدرکمزور ہوگئی تھی کہ وہ ٹی وی نہیں دیکھ سکتاتھا، اس لیے وہ اپنا وقت ریڈیو سنتے ہوئے گزارتاتھا۔ جب اس سے اس کی طویل زندگی کا راز پوچھا گیا، تو اس کا کہنا تھا کہ ’’ صبر و تحمل ہی طویل زندگی کا رازہے۔ اس نے 1992ء ہی میں اپنی موت کی تیاری شروع کر دی تھی اور قبر کا کتبہ تک لکھوالیا تھا، لیکن اس کے بعد بھی وہ.پچیس سال زندہ رہا۔ انتقال سے تین ماہ قبل وہ اس حد تک لاغر ہوگیا تھا کہ اسے چمچے سے خوراک دی جاتی تھی اور وہ تیزی سے موت کے قریب جارہا تھا۔

دنیا کے معمر ترین شخص ہونے کا دعوے دار تو نائیجیریا سے تعلق رکھنے والا جیمز اولو فنٹوئی بھی ہے، جس کے بیان کے مطابق اس کی عمر 171برس ہے جب کہ افریقہ کے ایک اور ملک ایتھو پیا سے تعلق رکھنے والے ’’ڈھاکابو ایبا‘‘ بھی سب سے زیادہ عمر کے حامل ہونے کا دعویٰ کیا ہے ، اس نے اپنی عمر 163 برس بتائی ہے، لیکن مصدقہ دستاویزات کے بغیر انہیں دنیا کے معمر ترین شخص کا اعزاز نہیں دیا جا سکتا۔ مباہ گوٹھوا سے قبل طویل ترین عمر کا حامل ہونے کا اعزاز جاپانی شخص جرومون کموراکے پاس رہا ہے، 12 جون 2013ء کو ان کا116برس کی عمر میں انتقال ہوا۔

دنیا کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں کثیر تعداد میں 100برس سے زیادہ عمر کے لوگ موجود ہیں۔ لمبی عمر پانے کی خواہش ہر شخص کے دل میں موجود ہوتی ہے لیکن جنوبی اٹلی کے مغربی ساحل پر واقع قصبے ’’ایکیارویلی‘‘ کے سیکڑوں افراد کی عمریں 100 سال سے زائد ہوچکی ہیں۔ اخبار ’’دی انڈیپینڈنٹ ‘‘کے مطابق مذکورہ قصبے میں اس وقت 300 سے زائد افراد کی عمر 100 سال سے زائد ہوچکی ہے، لیکن یہ لوگ بڑھاپے کے باوجود نہ صرف اچھی صحت کے مالک اور مکمل طور سے چاق و چوبند ہیں جب کہ پہاڑی راستوں پربھی جوان افراد کی طرح چلتے پھرتے ہیں ۔ ان کی بصارت اور یادداشت بھی بہت اچھی ہے۔برطانوی اخبار میں اس قصبے کے بارے میں فیچر کی اشاعت کے بعد اٹلی اور برطانیہ کے طبی محققین نے ان کی طویل العمری کا راز جاننے کے لیے تحقیق و تفتیش کی جس کے دوران معلوم ہوا کہ ایکیار ویلی کے افراد مچھلی اور زیتون کا تیل بکثرت استعمال کرتے ہیں،اس کے علاوہ دشوار گزار پہاڑی راستوں پر سفر کرتے ہیںجس سے ان کے جسمانی اعضاء متحرک رہتے ہیں اور ان ورزش بھی ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ اپنی معمول کی خوراک کے ساتھ جامنی پھولوں والی قدرتی جڑی بوٹی’’ روز میری‘‘ کا بھی کھاتے ہیں، اس میں دیگر صحت بخش قدرتی اجزاءکے علاوہ کارنوسک ایسڈ نامی کیمیاوی جزو بھی پایا جاتا ہے جو یادداشت اور دماغی صحت کے لئےبے انتہا مفید ہے۔

جاپان کے ساحل سے 360 میل دور’’ اوکیناوا‘‘کے جزائر پھیلے ہوئے ہیں ، جن کی مجموعی آبادی تیرہ لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 740 افراد کی عمریں 100 سال کے لگ بھگ ہیں- یہاں بسنے والے نہ صرف طویل العمر ہوتے ہیں بلکہ اعلیٰ ترین صحت مند زندگی بھی گزارتے ہیں-ان میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوئے۔ اس جزیرے میں بسنے والے مردوں کی اوسط عمر78جب کہ خواتین کی 80برس ہوتی ہے۔حال ہی میں جاپان کے شمال مغربی علاقے’’ فوکی‘‘ کے رہنے والے یاسوتا روکوڈی 112سال کی عمر میںدل کا دورہ پڑنے کے باعث چل بسے۔ وہ 1903میں فوکی میں پیدا ہوئے اورپیشے کے اعتبار سے ٹیلر ماسٹرتھے۔ موت سے کچھ عرصے قبل گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ان کے نام کا دنیا کے معمر ترین شخص کی حیثیت سے اندراج کیا گیا تھا۔اس سلسلے میں انہیں ایک سندبھی دی گئی تھی جس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنےاپنے تاثرات میں انہوں نے یکسر متضاد اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ طویل عرصے تک جینے کے لیے زندگی کومشقتوں سے بچا کرچین و سکون کے ساتھ گزارنا چاہیے۔1903 کو پیدا ہوئے اور پیشے کے اعتبارسے درزی تھے۔

ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 54 افراد 110برس سے زائد عمر کے حامل ہیں لیکن ان 54 میں سے جاپان کے یاسوتاروکوڈی واحد مرد تھے اور فہرست میں بقیہ 53 خواتین ہیں۔ اس طرح یاسوتاروکوڈی کے انتقال کے بعد اس فہرست میں اب کوئی مرد شامل نہیں۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں امریکا کی خاتون سوسانا مشت جونز اس وقت دنیا کی معمرترین خاتون ہیں جن کی عمر116 سال ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی خواتین کا شمار دنیا کی بزرگ ترین عورتوں میں ہوتا ہے جو اپنی زندگی کی سو بہاریں دیکھ چکی ہیں ۔ وہ دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے بے شمار واقعاتکا مشاہدہ کرچکی ہیں، جن میں دومرتبہ ہلاکت خیز جنگیں جن میں کروڑوں انسان بے گناہ مارے گئے، ، روس، فرانس اور چین کا انقلاب، دنیا کا دو بلاکوں میں منقسم ہونا، ہوائی جہاز اور ٹی وی اور ایٹم بم کی ایجادکے بعدآج وہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی دنیا میں زندگی گزار رہی ہیں۔ ان خواتین میں سے پانچ خواتین قابل ذکر ہیں جن میں سے تین کا تعلق امریکا سے ہے، جب کہ ایک خاتون جاپان اور ایک اٹلی سے تعلق رکھتی ہیں۔جاپانی خاتون مساؤ اوکاوا 5 مارچ 1898ء کو جاپان میں پیدا ہوئیں۔انہیں دنیا کی طویل العمر خاتون ہونے کا اعزاز 12 جنوری 2013ء کو دیا گیا لیکن اپنی 115 ویں سالگرہ کے بعد وہ چل بسیں۔مِسو اُکاوا کو جاپان کے سب سےلمبی عمر پانے والے فرد کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔ جب کہ ایشیا کے طویل العمر افراد میں ان کا چھٹا جب کہ دنیا بھر میں 115 برس تک پہنچنے والے لوگوں میں وہ تیسویں نمبر پر ہیں۔ سو سال کی عمر کی حد عبور کرنے کے بعد بھی وہ بغیر کسی سہارے کے چلتی تھیں لیکن110 سال کی عمر سے انہوں نے احتیاطاً وہیل چیئر کا استعمال شروع کیا۔

امریکی خاتون گارٹروڈ ویور 4 جولائی 1898ء کو ریاست آرکنساس میں پیدا ہوئیں، وہ جاپانی خاتون مساؤ اوکاوا سے صرف تین ماہ چھوٹی ہیں۔ یہ بھی اپنی زندگی کے 116 برس گزار چکی ہیں۔امریکا کے طویل العمر افراد میں وہ پہلے نمبر پر ہیں جب کہ مِساؤ ُکاواکے مرنے کے بعد وہ عالمی درجہ بندی میں بھی پہلےدرجے پر فائز ہیں۔ امریکا کی بزرگ ترین شہری کا اعزاز انہیں دینا مینفرڈینی کی 17 دسمبر 2012ء کوان کی موت کے بعد حاصل ہوا۔ گرٹریوڈ ویویور بھی دنیا کےمیں بزرگ افراد کی فہرست میں ٹاپ ٹین افراد میں شامل ہو چکی ہیں۔ اس فہرست میں ان کا درجہ ساتواں ہے۔گارٹروڈ ویور 18 جولائی 1915ء کو رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئیں، ان کی116ویں سالگرہ میں شرکت کرنے والے ان کے صرف ایک صاحب زادے ’’جوئی‘‘ ہی زندہ تھے، جن کی عمر 93سال ہے ، باقی بچے دنیائے فانی سے کوچ کرچکے ہیں۔115ویں سال گرہ کے بعد سے ان کی صحت متاثر ہوئی ہے، مگر انہیں کوئی دائمی مرض لاحق نہیں ہے۔116 ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں سابق امریکی صدباراک اوباما اور میئرکے مراسلے بھی موصول ہوئے، جس میں ان کے جنم دن کو ’’گارٹروڈ ڈے‘‘ (Gertrude Day) قرار دیا گیا ہے۔

23 مئی 1899ء کو امریکی ریاست جارجیا میں پیدا ہونے والی سیاہ فام امریکی خاتون جیرالین ٹیلی، دنیا کی تیسری اور امریکا کی دوسری طویل العمر شہری ہیں آنکھ کھولی۔ وہ دنیا کی تیسری اور امریکا کی دوسری طویل العمر شہری ہیں۔ ٹیلی کو اس سے قبل ایلسی تھامپسن کے بعد سب سے بوڑھا امریکی سمجھا جاتا تھا، حالاں کہ یہاں تک کہگارٹروڈ ویور،ان سے زیادہ معمر تھیں لیکن وہ جولائی 2014ء تک منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔ ٹیلی کے گیارہ بہن بھائی تھے، 1935ء میں وہ مشی گن منتقل ہو گئیں، ایک برس بعد وہ الفریڈ ٹیلی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ان کی واحد اولاد ، ان کی بیٹی تھیلماہولووے،1937ء میں پیدا ہوئیں۔ 1988ء میں ان کے شوہر 95 برس کی عمر میں چل بسے۔ ان کی صاحبزادی کے بقول ان کی والدہ اب بھی مستعد ہیں، وہ کپڑے سینے، روئی کے گدے اور لحاف بنانے کا کام کرتی رہی ہیں۔ اب بھی وہ مچھلیوں کے سالانہ میلے میں شریک ہوتی ہیں۔

سوسانامشاٹ جونزبھی سیاہ فام امریکی خاتون ہیں، جو6 جولائی 1899ء کو پیدا ہوئیں۔ انہیں مجموعی طور پر امریکا کی تیسری اور دنیا کی چوتھی معمر ترین فرد کا اعزاز حاصل ہے۔ ان سےپہلے بزرگ ترین افراد میں جاپان کی مساؤ اوکاوا،ہم وطن گارٹروڈویور اورجیرالین ٹیلی لین موجود ہیں۔سوساناکوحال ہی میں امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ’’تین صدیاں کو دیکھنے والے شخص‘‘ کا اعزاز دیا گیاہے۔ 1928ء میں ان کی شادی ہوئی، مگر پانچ برس بعد ہی طلاق ہو گئی۔ ان کی کوئی اولاد نہیں، تاہم ان کے سو سے زائد بھتیجے، بھتیجیاں ہیں۔عمر کے سو سال پورے کرنے کے بعد ان کی جسمانی صحت خاصی حد تک متاثر ہوئی ہے۔ وہ وہیل چیئرپر چلتی پھرتی ہیں،۔ قوت گویائی پر بڑھتی ہوئی عمر کا خاصا اثر پڑا ہے جب کہ آنکھ میں کالاپانی اترنے کی وجہ سے ان کی بینائی جاتی رہی۔

ایما مورانو نے 29 نومبر 1899ء میں اٹلی میں پیدا ہوئیں، اس وقت وہ نہ صرف اٹلی، بلکہ یورپی یونین کی بزرگ ترین فرد ہیں۔ ان کا شمار عالمی سطح پر پانچویں طویل العمر شخص میں ہوتا ہے۔ اٹلی میں بزرگ افراد کی فہرست میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں، ان سے قبل یہ اعزاز ڈائنا مین فریڈن کے پاس رہا ہے جنہوں نے امریکا میں رہائش اختیار کرلی تھی اور 115 برس اور 257 دن کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں
ایما مورانوکو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ واحد یورپی ہیں، جنہوں نے انیسویں صدی میں آنکھ کھولی، بیسویں صدی میں زندگی گزارنے کے بعد اب 21ویں صدی کے حالات و واقعات کو ملاحظہ کررہی ہیں۔ ان کے خاندان کےبیشتر افراد میں سے والدہ، خالہ اور بہن بھائیوںنے 90 برس سے زائد عمر پائی۔ ان کی ایک بہن اینجیلا مورانو کا انتقال 2011ء میں 102 برس کی عمر میں ہوا۔ اپنی 114 ویں سال گرہ کے موقع پر انہوں نے ایک ٹی وی کو براہ راست انٹرویو بھی دیا۔ عمر کے اس حصے میں بھی وہ اپنے گھر میں تنہا رہتی ہیں۔ طویل زندگی کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کبھی نشہ آور شے استعمال نہیں کی، روزمرہ کی خوراک میں وہ تین انڈے اور کبھی کبھی چاکلیٹ استعمال کرتی ہیں۔

طویل العمر افراد میں بہت سے افراد ایسے ہیں جو عالمی ریکارڈ کا حصہ بننے سے محروم ہیں، انہی میں سے بھارت کے شہر پونا کے ڈاکٹر بلونت گھٹپانڈے نے رواں سال اپنی 102ویں سالگرہ منائی۔ وہ آج بھی چاق و چوبند ہیں باقاعدگی سے اپنے کلینک میں بیٹھتے ہیں، جاپان کے جزیرے کیوشو میں ’’یوسیجی چوگانچی‘‘کا اس سال 114برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈمیں 2015میں ایک انوکھی تقریب منعقد ہوئی، جس میںبرطانیہ کے معمرترین جوڑے نے اپنی شادی کی 90ویں سالگرہ کا کیک کاٹا۔ 110سالہ کرم چند1905 میں بھارتی پنجاب میںپیدا ہوئے جب کہ ان کی اہلیہ 103سالہ کرتاری 1912کو اسی علاقے میں پیدا ہوئیں۔ 1925میں دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور ان کی رفاقت 90سال تک قائم رہی۔ان کے 8 بچے، 27 پوتے پوتیاں اور 23 پڑ پوتے اور پڑ پوتیاں ہیں۔2016میں وہ 111برس کی عمر میں چل بسے، ان کی اہلیہ اس وقت 105برس کی ہیں اوربقید حیات ہیں۔

انٹرنیٹ جدید دور کی ایجاد ہے مگر دنیا کی قدیم ترین خاتون موجودہ دور میں نہ صرف اس سے مستفید ہورہی ہیں بلکہ ’’یوٹیوب ‘‘ کی معمر ترین صارف کی حیثیت سے عالمی شہرت کی حامل ہیں۔ بھارتی ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والی 106 سالہ خاتون مستان اماں،کھانا پکانے کا کام کرتی ہیں۔۔ انٹرنیٹ پر’’ گرینی‘‘ کے نام سےمشہور، مستان اماں آندھرا پردیش کے مقامی کھانے تیار کرتی ہیں جو ان کے یوٹیوب چینیل 'کنٹری فوڈزپر لاکھوں افراد دیکھتے ہیں۔ مذکورہ خاتون کا پوتا، کھانوں کی تیاری کے تمام مراحل کی فلم بندی کرتا ہے اور یوٹیوب چینل پر چلاتا ہے جواس کے ذاتی کنٹرول میں ہے ۔ اس کے صارفین کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ ۔مذکورہ بزرگ خاتون کھانے کے لیے تازہ اجزاءکا استعمال کرتی ہیں اور ان کا سب سے مقبول پکوان انڈا ڈوسا ہے۔ اس عمر میں بھی وہ بیشتر نوجوانوں سے زیادہ ایکٹو ہیں اور کھانے پکانے کے لیے وہ اپنے بیٹے یا بہو کی مدد بھی نہیں لیتیں بلکہ ہر کام وہ خود کرتی ہیں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Sep, 2017 Total Views: 2367 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Centenarians, and supercentenarians - people over 110 years old - are frequently the subject of widespread interest as they reach their latest milestone birthday.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB