لازوال قسط نمبر 18

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

وجیہہ صفائی کرنے کمرے میں آئی تو ضرغام کا موبائل بجتا ہوا پایا۔ ایک ایم ایم ایس آیا تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا مگر ضرغام کہیں نہیں تھا۔
’’ لگتا ہے آج اپنا موبائل گھر ہی بھول گئے۔۔‘‘ زیر لب کہا اور پھر جھک کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا
’’ کس کا میسج ہے۔۔!!‘ ‘ بے نیازی سے موبائل چیک کیا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ایک پل کے لئے تو وہ جیسے سانس لینا ہی بھول گئی۔ اوپر کی سانسیں اوہر اور نیچے کی نیچے رہ گئیں۔ہاتھوں سے موبائل خوبخود نیچے گرگیا
’’ ضرغام ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘اسے جیسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا
’’وہ ہماری تصاویر۔۔۔۔ نہیں۔۔‘‘ وہ مزید سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔آنکھوں سے آنسو خوبخود بہنے لگ گئے۔ وہ زمین بوس ہوتی گئی۔چہرے کی چمک دمک ایک سیکنڈ میں خزاں میں تبدیل ہوگئی۔وہ اس لمحے کے بارے میں سوچنے لگی جب ضرغام نے خود اسے اپنے پاس آنے کو کہا تھا۔ وہ ضرغام کی نیت کو اسی وقت کیوں نہیں بھانپ سکی تھی۔ اس لئے کہ وہ اس کا شوہرتھا۔ اسے اپنے شوہر پر پورا یقین تھا مگر اب وہ یقین کہاں گیا تھا؟اس کا سارا یقین کرچی کرچی ہوچکا تھا۔موبائل پر تصاویر خوبخود تبدیل ہور ہی تھیں۔ مختلف زاویوں سے لی گئی تصاویر اس کے سامنے تھی۔ جس میں وہ اور ضرغام تھے۔وہ اتنا بے حیا کیسے ہوسکتا ہے؟ کیسے اپنی اور میری تصاویر کو دوسروں کو سینڈ کرسکتا ہے۔ بھیجنے والا ایک انجان تھا۔جسے وہ نہیں جانتی تھی
’’تم کیا سمجھتے ہو ضرغام یہ تصاویر بھیج کر تم مجھ سے دور چلے گئے ہو۔۔ نہیں ۔۔ تم مجھ سے دور کبھی نہیں جاسکتے۔۔ تم ہمیشہ میرے پاس تھے اور ہمیشہ میرے پاس ہی رہو گے۔میرے اور تمہارے درمیاں نہ ہی تمہاری بیوی آسکتی اور نہ ہی کوئی اور ۔۔۔تم ہمیشہ سے میرے تھے اور میرے ہی رہو گے۔میں تمہیں کبھی کسی اور کا نہیں ہونے دونگی۔۔اور ایک بات یاد رکھنا اگر تم میرے نہ ہوسکے تو کبھی کسی کے بھی نہیں ہوسکو گے۔۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔ کسی کے بھی نہیں ہوسکو گے۔۔‘‘
٭ ٭ ٭
’’ کیوں بلایا ہے مجھے۔۔۔‘‘ضرغام نے بے رخی دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
’’ابھی تک غصہ ہو؟‘‘اس کے بازوؤں کو اپنے گرد حمائل کرتے ہوئے اس نے دلفریب انداز میں کہا تھا
’’جس کام کے لئے بلایا ہے وہ بتاؤ۔۔ ‘‘ اس نے فوراً اس کے ہاتھ جھٹک دیئے
’’اتنی بے رخی اچھی صحت کے لئے اچھی نہیں ہوتی بے بی۔۔‘‘پیار سے اس کے چہرے کو اپنی طرف کرتے ہوئے کہا تھا
’’آئی تھِنک تم نے ڈرنک کی ہے ، اس لئے اپنے ہوش میں نہیں ہو، میں جا رہا ہوں۔۔‘‘وہ جیسے ہی باہر جانے لگا تو اس نے پیچھے سے ضرغام کا ہاتھ پکڑ لیا
’’مذاق بھی نہیں سمجھتے تم تو۔۔‘‘ ایک زور دار قہقہ فضا میں گونجا۔ضرغام نے ترچھی آنکھوں سے اس کی طرف استفہامیہ انداز میں دیکھا او ر پھر منہ بگاڑ کر گویا ہوا
’’یہ مذاق تھا تو بہت گھٹیا مذاق تھا۔۔‘‘
’’اوہ بے بی۔۔۔ادھر آؤ ۔۔ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے بیڈ روم میں لے گئی ۔
’’جو بات کرنی ہے ۔۔یہی کرو۔۔۔‘‘ وہ کہتا رہا مگر اس نے ضرغام کی ایک نہ سنی ۔ کمرے میں پہنچتے ہی ضرغام نے عنایہ کا ہاتھ ایک جھٹکے سے دھکیلا
’’کیا بات کرنی ہے تم نے؟‘‘وہ تقریباً غرایا تھا
’’جسٹ چِل بے بی! اتنا غصہ نہیں کرتے۔۔ تم سنو گے ناں خوشی سے پھولے نہیں سماؤ گے۔۔‘‘اس نے معنی خیز لہجے میں کہا تھا
’’ اچھا ۔۔ پہلو بتاؤ تو صحیح کہ آخڑ کیا بات ہے جسے سن کر میں اپنا آپا کھو دوں گا۔‘‘تیکھی نظروں سے اس نے عنایہ کی طرف دیکھا
’’پہلے بیٹھو تو صحیح۔۔۔‘‘ اسے ایک جھٹکے سے بٹھایا تو اس اچانک حملے سے نہ بچ پایا اور دھڑام سے بیڈ پر جا بیٹھا۔نرم و ملائم گدے میں وہ دھنستا ہی جا رہا تھا۔اس نے اپنے آپ کو سہارا دینے کے لئے ہاتھ کو پیچھے کیا تو اس کی انگلیاں فو م کے اندر تک دھنس گئیں۔
’’تم عروج چاہتے ہو۔۔‘‘معنی خیز نگاہوں سے اس نے ضرغام کی طرف دیکھا تھا۔ اس کی نگاہیں نہ جانے کیا سمیٹے ہوئے تھیں کہ ضرغام ان نگاہوں کی تابناکی کو برداشت نہ کرسکا۔
’’ کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ اس نے اپنی نظروں کو چراتے ہوئے کہا مگر اس طرح نظریں چرانا عنایہ سے برداشت نہ ہوا۔ وہ آگے بڑھی اور ضرغام کے ٹھوڑی کو پکڑ کر ااپنی طرف کی
’’ یوں میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرو۔۔۔‘‘اس کی ہر ادا میں ایک جادو سا تھا۔ ہر ادا معنی خیز تھی۔ وہ ضرغام کو مائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی مگر ہمیشہ کی طرح آج بھی ایک اوٹ اسے عنایہ کے فریب سے بچائے ہوئے تھی۔ پہلے تو صرف ایک ماں کی دعا تھی اب تو ماں کی دعا کے ساتھ ساتھ ایک بیوی کا اعتماد بھی تھا۔جو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ توڑنا نہیں چاہتا تھا
’’دور رہ کر بات کرو۔۔‘‘بے دردی سے اس کی کلائی نوچ کر پیچھے کی مگر وہ اس کی اس ادا پر بھی جاں نثار تھی۔ اس کی طرف سے دئیے گئے درد کو بھی ہنسی خوشی برداشت کرنے کو تیار تھی
’’اتنا دور چلے گئے ہو مجھ سے کہ پاس آنے کا موقع بھی نہیں دو گے۔۔‘‘ہنستے ہوئے اس نے اپنی کلائی کے اس حصے کو محسوس کرنے کی کوشش کی جہاں سے ضرغام نے اسے چھوا تھا
’’بس یہی بات کرنے کے لئے بلایا تھا۔۔۔‘‘وہ اٹھنے لگا تو عنایہ نے آگے بڑھ کر ایک دھکا دیا تو وہ اپنا توازن کھو بیٹھا اور ایک بار پھر دھڑام سے بیڈ پر جا گرا۔ فوم اس قدر نرم تھا کہ وہ تقریباً دو بار اچھلا تھا۔ہوا میں اس کے بال، اس کی شرٹ سب معلق تھے۔اس کی جسامت کے مطابق فوم اندر تک دھنس چکا تھا۔سانسوں کی روانی تیز ہوتی جا رہی تھی۔عنایہ کی نظروں کا نشا بڑھتا جا رہا تھا۔ممکن تھا کہ وہ اپنے حواس کھو دیتا اور عنایہ کے بہکائے گئے راستے پر چل نکلتامگر چند آوازوں نے اسے روک دیا
’’آپ کو معلوم ہے ضرغا م! رسول اکرم ﷺ جب معراج پر تشریف لے کر گئے تھے تو آپ نے دیکھا کچھ مر د اور خواتین ایسے ہیں جن کے سامنے دو قسم کے گوشت ہیں۔ ایک پکا ہوا اور خوشبودار اور دوسرا کچا اور بدبودار۔وہ مر د وخواتین اس لذیذہ اور خوشبو دار گوشت کو چھوڑ کر اس بدبو دار گوشت کو لینے کے لئے آگے بڑھتے ہیں اور پھر اسی گوشت کو کھاتے ہیں۔جب نبی کریم ﷺ نے حضرات جبرائیل علیہ السلام سے وجہ دریافت فرمائی تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو حلال راستہ چھوڑ کر حرام راستہ اپنا کر اپنی خواہشات پوری کیا کرتے تھے۔ یہ و ہ مرد ہیں جو اپنی پاک اور حلال بیویوں کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتے تھے۔‘‘
’’ضرغام آپ جانتے ہیں سب سے حرام کام شرک ہے اور شرک سے بھی بڑا گناہ زنا ہے۔اسی لئے تو اللہ نے خود فرمایا ہے: ’زنا کے قریب بھی نہ جاؤیہ بے حیائی اور برا راستہ ہے۔‘ اب آپ خود دیکھیں ضرغام اللہ تعالی نے زنا کرنے سے تو روکا ہی ہے بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی فرما دیا اس راستے کے پاس بھی مت جانا۔اب آپ خود اس کی قباحت کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا گنا ہ ہے‘‘
’’آپ جانتے ہیں ضرغام جو شادی شدہ آدمی اس گھناؤنے کام کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی سزا دنیا میں سنگسار کردینا ہے۔‘‘
’’ضرغام ! آپ جانتے ہیں کہ زنا ایک قرض کی مانند ہے جو پلٹ کر واپس ضرور آتا ہے یعنی بہن، بیٹی کی صورت میں۔۔اس لئے اس گناہ سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ عزت زندگی میں صرف ایک بار ملتی ہے اگر ایک بار چلی جائے تو ساری زندگی کا پچھتاوا بھی اس کھوئی ہوئی عزت کو واپس نہیں لا سکتا۔اور یہ عزت صرف عورت کے لئے ہی مخصوص نہیں۔مرد و عورت دونوں کی عزت اسی زمرے میں آتی ہے۔‘‘
ایک کے بعد ایک وجیہہ کی باتیں اس کے کانوں میں رس گھولنے لگیں۔سامنے عنایہ تھی۔وہ لیٹا تھا۔ بیچ میں نفس تھا۔مگر کانوں میں وجیہہ کی باتیں اور چاروں طرف ماں کی دعائیں۔ گناہ بالکل تیار تھا فاصلہ انتہائی کم تھا۔ ذہن تھا کہ مفلوج ہورہا تھا مگر وجیہہ کی باتیں مسلسل اپنا رس گھول رہی تھیں۔وہ بالکل قریب آگئی۔اس کے اوپر تقریبا جھک گئی۔ ضرغام کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے اٹھا کر اپنے پشت پر حمائل کرنا چاہا ہی تھا کہ وہ ایک زور دار جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ حملہ اتنا اچانک تھا کہ عنایہ کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔وہ نیچے فوم پر گر پڑی۔اب فوم پر عنایہ تھی، سامنے ضرغام کھڑا تھا۔ مگر نیتوں میں فرق تھا۔اس کی آنکھیں دہک رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں سے رومانیت چھلک رہی تھی
’’تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ ایسی گھناؤنی حرکت کرنے کی۔تمہیں شرم نہیں آتی عورت ہو کر اپنی عزت کے ساتھ ایسا کھلوار کرنے کی۔تمہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے ۔ ایک عورت کے لئے تو اُس کی عزت ہی سب کچھ ہوتی ہے اور تم اپنے ہی ہاتھو ں سے اپنی عزت سر عام نیلام کرنے پر تُلی ہوئی ہو۔۔‘‘وہ اس پر اپنا غصہ اتار رہا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس کو اُس راستے کی ہولناکیوں کا احساس ہوا تھا جس پر اس کے قدم گامزن تھے۔اسے پہلی بار اس راستے کی وحشت کا احساس ہوا تھا۔ اسے ایسا لگا تھا جیسے وہ ایک ایسی راہ پر نکل پڑا تھا جہاں پر منزل گمنام تھی۔راستے سب ایک جیسے تھے مگر سب کے سب پرخطر تھے۔کانٹے ہر سو بکھرے ہوئے تھے۔صرف چند آوازیں ہی تھیں جو اسے ان راہوں سے باہر لے آئیں۔ اس نے پہلی بار اپنے آپ کو وجیہہ کا شوہر مانتے ہوئے سوچا تھا۔جس پر وہ اس کا شکر گزار تھا کہ اُس جیسی لڑکی اس کی زندگی میں آئی اور اسے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئی
’’ضرغام۔۔۔۔‘‘ وہ قہقے لگا کر ہنستی جا رہی تھی۔ بیڈ پر چت لیٹی اس کی نظریں ضرغام پر مرکوز تھیں۔وہ استہزائیہ انداز میں ضرغام کو دیکھ رہی تھی۔ضرغام اس کی آنکھوں کا مقصد سمجھ نہیں پا رہا تھا
’’اب پاگلوں کی طرح کیا ہنس رہی ہو‘‘ پہلی بار اس کی آواز میں عنایہ کے سختی تھی
’’تمہاری حالت پر ہنس رہی ہوں۔۔‘‘ وہ قہقے لگاتے ہوئے کھڑی ہوئی تھی
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ وہ سچ میں عنایہ کو ابھی تک سمجھ نہیں پایاتھا۔
’’ تم کیا سمجھے میں تمہارے ساتھ۔۔۔ اوہ ۔۔۔‘‘ اس نے انگلی سے پہلے اپنی طرف اور پھر ضرغام کی طرف اشارہ کیا اور پھر دوبارہ ایک زوردار قہقہ ہوا میں گونجا
’’تو پھر کیا تھا یہ؟‘‘ ضرغام نے کراخت لہجے میں پوچھا تھا
’’ یہ تو میں تمہیں تیار کر رہی تھی۔۔‘‘
’’ تیار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ مطلب؟‘‘ ضرغام نے سپاٹ لہجے میں استفسار کیا
’’ مطلب۔۔۔ مطلب ابھی سمجھاتی ہوں۔۔‘‘ وہ اپنے قہقوں کو ضبط کرتے ہوئے وارڈ روب کی طرف بڑھی اور ایک نیلے رنگ کی فائل نکال کر لائی اور اسے ضرغام کے ہاتھوں میں تھمادی
’’کیا ہے یہ؟‘‘ ضرغام نے فائل سے زیادہ اس کی نظروں پر اکتفا کیا
’’تم خود ہی دیکھ لو۔۔۔‘‘ عنایہ کے کہنے پر اس نے فائل کھولی تو سارے شکن غائب ہوتے گئے۔یاس کی جگہ امید چھا گئی۔ نفرت کی جگہ محبت نے لے لی اور جہاں کچھ دیر پہلے غصہ تھا اب ایک مسکراہٹ تھی
’’یہ سچ ہے؟‘‘اس نے لاشعوری طور پر تصدیق چاہی تھی
’’ہاں سچ ہے۔۔اسی لئے تو تمہیں بلایا تھا۔۔‘‘عنایہ اپنے قہقوں کو ضبط کر چکی تھی
’’عنایہ۔۔ عنایہ۔۔۔ میں بتا نہیں سکتا میں کتنا خوش ہوں۔۔‘‘وہ خوشی میں جو کچھ ہوا تھا سب بھول گیا اور مسکراہٹ کے ساتھ اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا
’’چلو۔۔۔ تم خوش ہو ناں۔۔۔ تو میں بھی خوش ہوں۔۔‘‘طمانت کے ساتھ اس نے ضرغام کو دیکھا
’’میرا ہمیشہ سے ڈریم تھا کہ میں فلم میں کام کروں۔۔۔اور تم نہیں جانتی کہ تم نے اس فلم کی کاسٹ میں میرا نام ڈال کر مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔۔‘‘
’’اور وہ بھی ایک ہیرو کے طور پر۔۔۔‘‘ عنایہ نے فوراً ٹوکا
’’ ہاں ہاں۔۔ ہیرو کے طور پر ۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔تھینک یو سو مچ عنایہ۔۔تم نے ہمیشہ میری ہلیپ کی ہے۔ زندگی کو پانے میں تم نے جتنا ساتھ دیا اتنا تو شاید کسی اپنے نے بھی نہیں دیا۔۔‘‘وہ خوشی میں اس کے احساس جتلا رہا تھا
’’بس بس۔۔ اب بس۔۔‘‘ اس کے جذبات کو ٹھہراؤ دیتے ہوئے کہا
’’لیکن۔۔۔‘‘ اس کے بہار سے کھلے چہرے پر ایک دم خزاں نے قدم جمانے شروع کردیئے۔
’’ لیکن کیا؟‘‘عنایہ کو کھٹکا سا ہوا
’’اور یہ جو حرکت تم نے ابھی کی تھی ۔ اُس کا اس پروجیکٹ سے کیا تعلق؟‘‘ اس کے کانوں میں عنایہ کہ وہ الفاظ گونجنے لگے جو اس نے ابھی ابھی کہے تھے کہ وہ اسے تیار کر رہی تھی
’’وہ۔۔۔۔‘‘ کچھ سوچتے ہوئے اس نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی
’’ وہ کیا ۔؟ مجھے بتاؤ؟‘‘ اس بار ضرغام کو کھٹکا ساہوا تھا
’’وہ تم خود پیچ نمبر سولہ پر دیکھ لو۔۔۔‘‘ عنایہ نے یہ کہہ کر آنکھیں چرا لیں ۔ ضرغام نے فی الفور ورقے پلٹے اور عنایہ کے بتائے ہو ورق پر پہنچا۔شروع سطر کو پڑھتے ہی اس کے چہرے کے رنگ فق ہوگئے۔انگلی پھیرتا جا رہا تھا۔ نظریں حرکت کرتی جا رہی تھیں۔شروع سے درمیان اور پھر صفحہ کی آخری سطر تک پہنچا اور پھر اگلا ورق اور پھر اس سے اگلا۔چہرے پر امڈتی بہار غائب ہوگئی۔ وہی جلال وہی غصہ وہی دبدبہ ایک بار پھر غالب آگیا
’’اور جو لوگ لوگوں کو بے حیائی کی طرف بلاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب تیار ہے‘‘
’’ضرغام! برائی کر کے دوسروں کو دیکھانا بھی ایک برائی ہے۔ جس طرح ایک صدقہ جاریہ ہوتا ہے جس سے انسان کو مسلسل نیکیاں ملتی رہتی ہیں اسی طرح کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے جسم سے تو ایک بارسرزد ہوتا ہے مگر اس کا گناہ ہمیں تسلسل کے ساتھ ملتا رہتا ہے۔‘‘
’’عنایہ۔۔۔‘‘اس نے فائل کو ہوا میں اڑا دی اور عنایہ کو اپنی طرف کھینچ کر ایک زور دار طماچہ اس کے دائیں رخسار پر رسید کیا
’’ضرغام۔۔‘‘ ضرغام کے اچانک وار سے وہ نہ بچ سکی اور اس کے قدم بوکھلا گئے وہ ہکا بکا اسے دیکھنے لگی
’’ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ایسی فلم میں کاسٹ کرنے کی۔۔جس میں،۔۔۔‘‘ وہ بولتے بولتے رک گیا
’’جس میں کیا ضرغام؟جس میں کیا؟‘‘اس بار وہ دھاڑی تھی
’’جس میں اتنے بولڈ سین ہوں۔۔۔‘‘اس نے حقارت بھرے لہجے میں کہا تھا
’’تو اس میں اتنا غصہ ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘ وہ جھلائی تھی
’’ تمہیں یہ معمولی سی بات لگتی ہے جو تم ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو؟‘‘دونوں کندھوں سے پکڑ کر اس کو جھنجوڑا تھا
’’تو اس میں اتنی بڑی بھی کیا بات ہے؟ آج کل سب ایسے سین کر رہے ہیں اور اگر تم بھی کر لو گے تو ایسی کیا بڑی با ہوجائے گی؟‘‘اس نے ضرغام کو سمجھانے کی کوشش کی
’’عنایہ۔۔۔ اپنی لمٹ میں رہو۔۔ایسے گندے فعل کرنے سے بہتر ہے کہ میں ایسی جاب کو لات ماروں۔۔‘‘ اس نے جبڑے بھینچتے ہوئے کہا تھا
’’اس سے بہتر کوئی تمہیں فلم آفر بھی نہیں کرنے والا۔ تمہیں تو شکر منانا چاہئے کہ میں نے ڈائریکٹر سے بات چیت کر کے تمہیں یہ رول دینے پر آمادہ کیا اور تم اس کی ناقدری کر رہے ہو۔۔شرم تو تمہیں آنی چاہئے ‘‘
’’ مجھے شرم آتی ہے تو اسی لئے اس فلم کو ٹھکرا رہا ہوں۔۔‘‘اس نے صاف گوئی سے کام لیا
’’ لیکن آخر برائی کیا ہے ان سین میں؟سب کرتے ہیں ، سب کو معلوم ہے یہ کچھ ہوتا ہے۔۔‘‘اس نے پیار سے اس کے چہرے کو اپنی طرف کرنے کی ناکا م کوشش کی
’’ ہاں۔۔ یہ سب جانتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ایسا ہوتا ہے مگر یہ سب بند کمرے کی باتیں ہوتی ہیں۔اور بند کمرے کی باتوں کو اظہار تم جانتی ہو کتنا بڑا گناہ ہے۔تم مجھے اس گناہ میں شریک کرنا چاہتی ہو ۔۔ لیکن میں کبھی تیار نہیں ہونگا ۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔ مجھے ایسی فلم نہیں چاہئے جس سے لوگ گناہ سیکھیں اور اس کا وبال مجھ پر آئے۔۔ سنا تم۔۔ نہیں چاہئے مجھے ایسی فلم۔۔‘‘چیخ چیخ کر اس نے اعتراف کیا۔
’’لیکن یہ بات یاد رکھو اگر تم نے اس فلم کو رد کیا ناں تو نہ صرف اس فلم سے ہاتھ دوھو بیٹھو گے بلکہ لازوال بھی تم سے چھین لیا جائے گا۔۔ تمہارا سارا کرئیر ایک منٹ میں ختم ہوجائے گا۔ یہ مت بھولو میں تمہیں اس فیلڈ میں لائی ہوں تو اس فیلڈ سے نکال بھی سکتی ہوں۔۔۔‘‘
’’ مجھے دھمکی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘
’’ یہ دھمکی نہیں ہے میں کر کے دیکھاؤں گی۔۔۔‘‘اس نے چیلنج کیا
’’ ہمت ہے تو چھین لو مجھ سے میرا کرئیر ۔۔۔ لیکن تم کیا چھینو گی میں خود تمہارے اس دیئے گئے کرئیر پر تھوکتا ہوں۔۔‘‘اس نے حقارت بھری نگاہوں سے عنایہ کو دیکھا تھا۔
’’ ضرغام۔۔‘‘ وہ چلائی
’’ چلاؤ مت۔۔‘‘ وہ دھاڑا
’’تم پچھتاؤ گے۔۔‘‘عقابی نظروں سے اسے گھورا
’’پچھتاتا وہ ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہو۔۔ اور میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر مجھے پچھتاوا ہو۔۔۔‘‘اس نے گھورتے ہوئے کہا
’’یہ تو وقت بتائے گا۔۔۔‘‘ چٹکی بجاتے ہوئے چیلنج کیا
’’ دیکھیں گے۔۔۔‘‘ حقارت آمیز لہجے میں کہتا ہوا وہ وہاں سے چلا آیا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ناول میں پیش آنے والے اتار چڑھائو آپ پڑھ سکیں گے اگلی قسط میں
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 Sep, 2017 Total Views: 143 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 32172 views »
Reviews & Comments
well done...... zabrdast...... stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Sep, 12 2017
Reply Reply
0 Like
thank u so much
By: Muhammad Shoaib, Faisalabad on Sep, 12 2017
0 Like
very well done
good luck and stay blessed always
By: uzma ahmad, Lahore on Sep, 11 2017
Reply Reply
0 Like
thank u so much
By: Muhammad Shoaib, Faisalabad on Sep, 12 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB