ہماری ویب رائیٹرز کلب کے زیر اہتمام مکالمہ بعنوان “ پاکستان کے70 سال اور موجودہ تحریکیں“

 

تحریر و ترتیب : خواجہ مصدق رفیق

ہماری ویب رائیٹرز کلب کے زیر اہتمام ہفتہ 19 ا گست کی شام مجلس مکالمہ کا اہتمام کیا گیا جس کا عنوان تھا ’’پاکستان کے 70سال اور موجودہ تحریکیں‘‘۔ مکالمے میں ہماری ویب ‘ رائیٹرز کلب کے اراکین نے شرکت کی۔ صدارت کے فرائض ہماری ویب ‘ رائیٹرز کلب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رئیس صمدانی نے انجام دیے جب کہ پروفیسر شفیع ملک تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
 


مجلس مکالمہ ورکرز کلب گلشن اقبال کے بورڈ روم میں منعقد ہوئی۔ مکالمے کا بنیادی مقصد قیام پاکستان کی تاریخ اور حالات حاضرہ کی سیاست کا جائزہ لینا تھا۔ ہماری ویب ‘ رائیٹرز کلب آن لائن لکھنے والوں کا ایک ادارہ ہے جس میں لکھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اس کے لکھنے والے اور اراکین پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک میں موجود ہیں۔ موجودہ عہد انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے ، ہماری ویب ‘ رائیٹرز کلب آن لائن لکھنے والوں خاص طور پر نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انہیں وہ تمام ہنر سے آگاہ کرتا ہے کہ وہ کس طرح آن لائن اپنی تحریر وائرل کرائیں۔

مجلس مکالمہ کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہماری ویب ‘ رائیٹرز کلب کے صدر ڈاکٹر رئیس صمدانی جو کہ 25اگست کو حج پر تشریف لے جارہے ہیں کو ہماری ویب رائٹرز کلب کے چئیرمین اور ہماری ویب کے سی ای او جناب ابرار احمد صاحب کی جانب سے جناب مصدق رفیق اور ان کے ساتھیوں نے پھولوں کا تحفہ پیش کیا گیا۔ تقریب میں موجود دیگر ساتھیوں نے بھی اپنے صدر کو مبارک باد دی اور پھولوں کے ہار پہنائے۔ ڈاکٹر صمدانی نے اس موقع پر اپنے لکھاری ساتھیوں اور جناب ابرار احمد صاحب کا شکریہ ادا کیا۔
 


تقریب کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے ہماری ویب ‘ رائیٹرز کلب کے سیکریٹر جنرل معروف صحافی و کالم نگار عطا محمد تبسم نے مکالمہ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے مکالمے کے موضوع پر اظہار خیال بھی فرمایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح نے جس ایمانداری اور سچائی سے کام کرنے کا درس دیا تھا افسوس ہم نے اسے بھلا دیا۔ پاکستان کے حکمرانوں نے قومی مفاد پر اپنے ذاتی مفاد کو فوقیت دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان ہر اعتبار سے ترقی کے بجائے پیچھے کی جانب چلا گیا۔ جناب عطا محمد تبسم صاحب نے تقریب میں موجود لکھاریوں سے اپنا تعارف کرانے کی استعدا کی ، ہر ایک نے اپنا تعارف بیان کیا۔

بعد میں سیکریٹری جنرل نے ہماری ویب رائیٹرز کلب کے صدر ڈاکٹر رئیس صمدانی صاحب کو آج کے موضوع پر اظہار خیال کرنے اور موضوع کو ایوان میں اظہار رائے کے لیے عام کرنے کی استعدا کی۔ ڈاکٹر رئیس صمدانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ وہ بھی ستر کے ہوچکے ہیں ۔ البتہ معروف کالم نگار جو سرکاری کالم نگاری کرتے ہیں جناب عطاء الحق قاسمی صاحب کی دلچسپ بات بھی دوستوں سے شئیر کی کہ قاسمی صاحب جب ستر کے ہوئے تو انہوں نے کالم لکھا کہ میں ویسے تو ستر کا ہوگیا ہوں لیکن ایک لکھاری کی اصل عمر وہ ہوتی ہے جب سے وہ لکھنا شروع کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے لکھتے ہوئے صرف تیس سال ہوئے ہیں اس اعتبار سے میں ابھی چالیس کا ہی ہوا ہوں۔ ڈاکٹر صمدانی نے کہا کہ انہوں نے 75میں لکھنا شروع کیا تھا اس اعتبار سے وہ ابھی بیالیس کے ہی ہیں۔
 


موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر صمدانی نے کہا کہ اس موضوع کا انتخاب کرنے کا مقصد پاکستان کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالنے کے علاوہ موجودہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرنا مقصد ہے تاکہ ہم موجودہ حالات کو ایک دوسرے کے خیالات کی روشنی میں سمجھ سکیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر اقتدار میں آنے والے نے پاکستان کو نقصان پہنچایا اپنے اقتدار کو طول دینے اور کرسی کو برقرار رکھنے کی تدابیر کیں اور اسی تگ و دو میں وہ کبھی فوج کے ہاتھوں نکالا گیا، کبھی صدر مملکت نے نکالا اور کبھی عدلیہ نے اسے نکال باہر کیا۔ پاکستان کو مخلص اور بے لوث قیادت کی اشد ضرورت ہے۔ ایسی قیادت کیسے آئے گی اس پر ہم سب کو سوچ بچار کرنا ہوگی۔
 


ہمارے ویب کے کالم نگار محمد اعظم عظیم اعظم نے مکالمے میں گفتگو کرتے ہوئے ان عوامل پر روشنی ڈالی جن کے باعث پاکستان ابتری کا شکار ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید نے تفصیل سے قیام پاکستان اور قائد اعظم محمد علی جناح کے ارشادات بیان کیے انہوں نے شریف الدین پیرزادہ کی کتب کا حوالہ بھی دیا ۔ہماری ویب کے معروف کالم نگار دو ٹوک اور بے باک لکھنے والے سید انور محمود نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔ بہت سے مسائل اس وجہ سے پیدا ہوئے۔ نئے پود کی تربیت اس انداز سے نہیں ہوسکی جیسے کے ہونی چاہیے تھی۔ مکالمہ میں محمد ارشد قریشی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی بھی کمی نے بہت سے مسائل کھڑے کردیے۔ اس موقع پر عبد السلام سلامی، خالد زاہد اور غوری صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مغرب کی نماز اور چائے کے بعد تقریب مکالمہ اختتام کو پہنچی۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
21 Aug, 2017 Total Views: 1350 Print Article Print
Reviews & Comments
بہت شکریہ مصدق صاحب اس تفصیلی رپورٹ کا
By: Syed Anwer Mahmood, Karachi on Aug, 21 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
HamariWeb's Writers Club organized an event on Saturday 19th August 2017 at We Trust Pakistan Workers Training & Education trust, Gulsha e Iqbal. This event is related to Pakistan independence day.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB