تُو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے!!

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

میں ایک نغمے کی ویڈیو دیکھ رہاتھا ۔ایک شخص زمین پر ہاتھ رکھتاہے اور وہاں سے مٹی اُٹھاتاہے اوراسے چوم لیتاہے ۔پاکستان کا جھنڈا اُٹھائے ایک بابا جی فخر سے آسمان کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہوتے ہیں ۔یہ وہ مناظر ہیں جو دل کی دنیا کو ہلاکر رکھ دیتے ہیں ۔

میں اپنی ہی کیفیت بتاؤں کے میں جب بھی اولہاڑ کا پل کراس کرتاہوں اور ایک جانب خداحافظ پاکستان اور ایک جانب حدود کشمیر لکھا ہوتاہے ۔تو جیسے ہی کشمیر میں داخل ہوتاہوں تودل کی دنیا میں ایک وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ایک اپنی مہک ایک اپنی خوشبو محسوس ہورہی ہوتی ہے ۔پاکستان میری جان میرامان بلکہ میری زندگی ہے ۔یہ وہ سرزمین جس سے مسلمہ امۃ کی شان باقی ہے ۔وہ پیاری سرزمین جس نے ہم کشمیریوں ،افغانیوں کو مشفق ماں کا پیاردیابھلااپنے محسن کو کیسے بھول سکتے ہیں ۔وہ وطن پاک جس نے ہر محاذ پر ہم کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی ۔اس تمام تر احسان کے باوجود ایک انسان ہونے کے ناطے جیسے ہی کشمیر میں داخل ہوتاہوں مجھے نہیں معلوم مجھے نہ جانے ایک اپنا ہی سکون مل جاتاہے ۔
اسے آپ تعصب سے تعبیر نہ کیجئے گا۔اسے فطرت سمجھئے گا۔میں آپ کو یہی بتانا چارہاہوں کہ وطن سے محبت غیر اختیاری ہوتی ہے ۔اس کے لیے خود کو مطمئن اور حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار کرنے کے لیے دلائل کی حاجت یا نصیحت کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ یہ فطرت نے ہمارے رگ و پہ میں شامل کردیاہے ۔
آئیے !اب میں آپ کو وطنیت کے بارے میں بتاتاہوں کہ یہ ہے کیا؟

بارگاہِ رسالت سے اس جذبہ اور اس کیفیت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔یارسو ل اﷲ !!آپ ہی ہمیں سمجھادیجئے یہ کیا لطف ہے ۔یہ کیا جذبہ ہے ؟یہ اپنی مٹی سے پیار ہے کیا؟
قارئین!پڑھیے میرے آقا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ سلم کی سیرت کہ جب پیارا مکہ چھوڑ کراپنوں کے زخم لیے ہجرت فرمارہے تھے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ سلم نے جو ارشاد فرمایا۔پڑھ یا سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے سیل اشک رواں ہوجاتے ہیں ۔دل کی دھڑکنیں بے ربط ہوجاتی ہیں ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’مَا اَطْیَبَکِ مِنْ بَلَدٍ وَاَحَبَّکِ إِلَیَّ، وَلَوْلَا اَنَّ قَوْمِی اَخْرَجُوْنِی مِنْکِ مَا سَکَنْتُ غَیْرَکِ.‘‘
(سنن الترمذی، 5: 723، رقم: 3926، صحیح ابن حبان، 9: 23، رقم: 3709، المعجم الکبیر للطبرانی، 10: 270، رقم: 10633))
’’تُو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے!اگر میری قوم تجھ سے نکلنے پر مجھے مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔‘‘(سنن الترمذی، 5: 723، رقم: 3926، صحیح ابن حبان، 9: 23، رقم: 3709، المعجم الکبیر للطبرانی، 10: 270، رقم: 10633))
بات یہاں ختم نہیں ہوئی ۔شہر مدینہ میں سکونت اختیار فرمائی تو اس سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ سلم نے ارشاد فرمایا۔
’’اللّٰہُمَّّ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ عَبْدُکَ وَخَلِیلُکَ وَنَبِیُکَ، وَإِنِّی عَبْدُکَ وَنَبِیُکَ وَإِنَّہُ دَعَاکَ لِمَکَّۃَ وَإِنِّی اَدْعُوکَ لِلْمَدِینَۃِ بِمِثْلِ مَا دَعَاکَ لِمَکَّۃَ وَمِثْلِہِ مَعَہُ.(صحیح مسلم)
اے اﷲ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے دعا کی تھی۔ میں ان کی دعاؤں کے برابر اور اس سے ایک مثل زائد مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں (یعنی مدینہ میں مکہ سے دوگنا برکتیں نازل فرما)۔

سبحان اﷲ !!وطن بھی کیاچیز ہے ۔کہ بندہ اس سے کتنی محبت کرتاہے ۔میں نے جب بھی وطنیت پر تقریر کی یا کالم لکھامجھے نہ جانے کیا ہوجاتاہے ۔رونا سا آجاتاہے ۔ایک رقت انگیز کیفیت بند ھ جاتی ہے ۔سوچوں میں گم ہوجاتاہوں ۔خیر ۔بات وطنیت کی کررہے تھے ۔میں ایک کتاب کا مطالعہ کررہاتھاکہ اس دوران میرے سامنے سے ایک روایت گزری ۔پڑھ کر جی بھر کر روگیا۔میں بتانہیں سکتا میری کی کیفیت ہوگئی ۔شاید اس کی وجہ یہ بھی ہوکہ میراآبائی علاقہ کشمیر متنازعہ ہے ۔ظلم و زیادتی دشمن کی یلغار کا سامناہے ۔اس وجہ سے ۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔وجہ یہ تھی کہ ایک ایسی ہستی جن کے صدقے سب کچھ ملا وطن کی یاد میں ان کی مبارک باحیا آنکھوں سے بھی اشک جاری ہوگے ۔ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ کوئی شخص مکہ مکرمہ سے آیا اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا۔ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اس سے پوچھا کہ مکہ کے حالات کیسے ہیں؟ جواب میں اُس شخص نے مکہ مکرمہ کے فضائل بیان کرنا شروع کیے تو رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی چشمانِ مقدسہ آنسووں سے تر ہوگئیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لَا تُشَوِّقْنَا یَا فُلَانُ.اے فلاں! ہمارا اِشتیاق نہ بڑھا۔
ایک اور روایت میں ملتاہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے فرمایا:
دَعِ الْقُلُوْبَ تَقِرُّ.دلوں کو اِستقرار پکڑنے دو (یعنی اِنہیں دوبارہ مکہ کی یاد دلا کر مضطرب نہ کرو)۔(شرح الزرقانی علی الموطا،السیرۃ الحلبیۃ، )
اف !وطن سے محبت بھی ایک عجیب احساس ہے ۔آپ کو وطن سے محبت ہوگی تو آپ خوب سمجھ سکیں گے ۔
اپنے دل کی ترجمانی تو ایک شاعر کی نظم کرتی ہے ۔
میرے مولا میری دھرتی کو سلامت رکھنا لعل و یاقوت سی مٹی کو سلامت رکھنا
میری دھڑکن، میری پہچاں مرا اثباتِ وجود میرے خالق ! میری ہستی کو سلامت رکھنا
رہیں نابود سدا اس کے بدی خواہ سارے میرے گلشن میری بستی کو سلامت رکھنا
تحفہء لااِلہ سے عشق عبادت ہے میری میری اِس نسبتِ عبدی کو سلامت رکھنا
نذرِ طوفان ہوئی اپنی ہی نادانیوں سے میرے اسلاف کی کشتی کو سلامت رکھنا
ہوگا عالم میں کبھی اونچا ہلالی پرچم میرے ایقان و تسلی کو سلامت رکھنا
بن کے مستانہ سدا گیت وطن کے گاؤں میرے مہ خانہء مستی کو سلامت رکھنا
ساری دنیا میں رضا ایک ہے جو گھر اپنا میری اس چار دیواری کو سلامت رکھنا

دوستو!!اپنے وطن کی قدر کیجئے ۔اپنے وطن سے پیار کیجئے ۔آپ موٹیویشنل ٹریننگ ،کیرئیر پلاننگ اور دیگر علمی خدمات کے حوالے سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔آئیں ملک کر وطن عزیز کے لیے کچھ اچھا کرتے ہیں ۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Aug, 2017 Total Views: 87 Print Article Print
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

i am scholar.serve the humainbeing... View More

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 203 Articles with 141073 views »
Reviews & Comments
we proud of you DR ZAHOOR.
I FEEL HERT TOUCHING ARTICLE.
ME INSPIRE BY YOUR ARTICLE
By: WASEEM NAJMI, DUABI on Aug, 13 2017
Reply Reply
0 Like
میں جب یہ مضمون پڑھ رہی تھی تو ایسا لگا جیسے کسی سحر میں آگئی ۔کسی نے میری روح پر قابو پالیا۔وطن کی محبت میں ڈاکٹر ظہوراحمد دانش کی تحریر ہی نہیں دل کی ترجمانی بھی ہے ۔اآپ کو ہماراسلام ہماراسلام۔جب تک اآپ کی طرح کے محبت وطن اور قلمکار موجود ہیں کوئی ہم سے ہمارے وطن کی محبت ہمارے دل سے نکا ل نہیں سکتا۔شکریہ شکریہ ۔
By: روبینہ, کراچی on Aug, 12 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB