آج کے کامیاب طلباﺀ ہمارے کل کے حکمران - خصوصی انٹرویو

 

سو سال قبل کی دنیا کے مقابلے میں آج کی دنیا بڑی حد تک تبدیلی ہوچکی ہے- آج جو جدت اور ترقی ہمیں اپنے اردگرد دکھائی دیتی ہے اس کی کوئی مثال ہمیں ایک صدی قبل نہیں دکھائی دیتی- لیکن یہ تمام کامیابیاں صرف بےپناہ علم کے حصول اور تحقیق کے ذریعے ہی ممکن ہوئی ہیں- ترقی کرنے والے ممالک کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات جو سب میں مشترک دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ان تمام ممالک نے علم اور تحقیق پر بھرپور توجہ دی- اسی علم کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے والے چند طلبا کی ایک جھلک گزشتہ روز کراچی میٹرک سائنس و جنرل گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2017 کے پوزیشن ہولڈرز کی صورت میں دکھائی دی- گزشتہ روز کراچی میٹرک بورڈ نے سائنس و جنرل گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2017 کے ریگولر و پرائیوٹ کے نتائج کا اعلان کیا- میٹرک بورڈ کی جانب سے اس موقع ان امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کے اعزاز میں ایک تقریب بھی منعقد کی- اس پروقار تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے معروف سائنسدان جناب ڈاکٹر عطاء الرحمٰن تھے جنہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نہ صرف پوزیشن ہولڈرز کو ان کی اس کامیابی پر مبارکباد پیش کی بلکہ آگے بڑھنے کے حوالے سے ان حوصلہ افزائی بھی کی- تقریب میں پوزیشن ہولڈر طلبا کو انعامی رقم کے چیک سے نوازا گیا- پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلم کو 50 ہزار٬ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلم کو 30 ہزار اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلم کو 20 ہزار روپے کے چیک سے نوازا گیا- یقیناً یہ پوزیشن ہولڈر طالبعلم دوسرے طلبا کے لیے نہ صرف ایک زندہ مثال ہیں بلکہ ترقی کے اعتبار سے آج کے کامیاب طلباﺀ ہمارے کل کے حکمران بھی بن سکتے ہیں- ہماری ویب نے ان طلبا سے خصوصی بات چیت کی جو کہ اب آپ کے پیشِ خدمت ہے-

آئیے سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں علی ضیا خان سے جنہوں نے میٹرک سائنس کے سالانہ امتحانات برائے 2017 میں پہلی پوزیشن حاصل کی- علی نے 850 میں سے 798 نمبر حاصل کیا اور اے ون گریڈ اپنے نام کیا:

 


ہماری ویب: اسکول کا نام؟
علی ضیا خان= کے بی وی سول ایوی ایشن اسکول٬ کیمپس ون-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
علی ضیا خان= میں اپنی خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا٬ میں اﷲ تعالیٰ کا بےحد شکر گزار ہوں- یہ میرے والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی محنت کا نتیجہ ہے-

ہماری ویب: آپ نے اس سے قبل کوئی پوزیشن حاصل کی ہے؟
علی ضیا خان= جی ہاں اسکول لائف میں ہمیشہ میری پہلی پوزیشن آتی تھی-

ہماری ویب: آپ کتنا ٹائم پڑھائی کو دیتے ہیں؟
علی ضیا خان= میں اسکول کے علاوہ گھر پر بھی روزانہ دو گھنٹے ضرور پڑھتا تھا-
 


ہماری ویب: تعلیم میں کامیابی کے لیے والدین کے کردار کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
علی ضیا خان= اس کامیابی میں تمام تر کردار والدین کا ہی تو ہے- انہوں نے ہی مجھے سپورٹ کیا تو آج میں اس مقام پر ہوں-

ہماری ویب: تعلیم کے نظام کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے؟
علی ضیا خان= تعلیمی نظام میں بہترین کی گنجائش موجود ہے- اس کے علاوہ امتحانی مراکز میں سہولیات بھی مہیا کی جانی چاہئیں-

ہماری ویب: آئندہ کس مضمون کے انتخاب کا ارادہ رکھتے ہیں؟
علی ضیا خان= میں اب پری انجینئیرنگ میں داخلہ لوں گا-

ہماری ویب: مستقبل میں خود کو کہاں دیکھتے ہیں؟
علی ضیا خان= اﷲ تعالیٰ نے چاہا تو میں ائیر فورس جوائن کروں گا اور بطورِ پائلٹ اپنی خدمات سرانجام دوں گا-

ہماری ویب: آج کل کے دور میں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی سہولت ہر عمر کے فرد کے پاس موجود ہے٬ لیکن کیا اسکول کے طلبا کو اس کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیے؟
علی ضیا خان= میں خود استعمال کرتا ہوں اور ایک محدود حد تک اس کا استعمال ضروری ہے-

ہماری ویب: آپ دوسرے طالبعلموں کو تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کیا پیغام دیں گے؟
علی ضیا خان= اپنی تمام سرگرمیاں نارمل رکھیں اور پڑھائی کے وقت صرف پڑھائی پر توجہ دیں- اس کے علاوہ نماز کی پابندی بھی لازمی کریں-

اس کے بعد ہم بات کریں گے میٹرک سائنس کے سالانہ امتحانات برائے 2017 میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کرنے والے سید عفان احمد بخاری سے- عفان نے 850 میں سے 795 نمبر حاصل کیا اور اے ون گریڈ اپنے نام کیا:
 


ہماری ویب: اسکول کا نام؟
سید عفان احمد بخاری= کریسنٹ اکیڈمی کیمپس 1 -

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
سید عفان احمد بخاری= اچھا محسوس کر رہا ہوں٬ بہت خوشی ہورہی ہے اور بالخصوص اس بات کی کہ ایک مدت بعد کسی لڑکے نے پوزیشن حاصل کی ہے-

ہماری ویب: ہمیشہ خود سے پڑھائی کی یا پھر کوچنگ بھی جوائن کیا؟
سید عفان احمد بخاری= نہیں میں ہمیشہ خود ہی پڑھتا ہوں-
 


ہماری ویب: اکثر طالبعلم میٹرک تو سائنس سے کرتے ہیں لیکن انٹر میں کوئی دوسرا مضمون اختیار کرلیتے ہیں کہ ان کی نظر میں وہ آسان ہوتا ہے٬ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
سید عفان احمد بخاری= کوئی مضمون آسان یا مشکل نہیں ہوتا٬ اس کا انحصار دلچسپی پر ہوتا ہے کہ میری اس مضمون میں کتنی دلچسپی ہے-

ہماری ویب: آئندہ کس مضمون کے انتخاب کا ارادہ رکھتے ہیں؟
سید عفان احمد بخاری= میں پہلے ہی آغا خان کالج میں پری میڈیکل میں داخلہ لے چکا ہوں

ہماری ویب: میٹرک بورڈ کے اقدامات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
سید عفان احمد بخاری= اس بار کے انتظامات پچھلی مرتبہ کے مقابلے میں زیادہ بہتر تھے- اور نقل کا رجحان بھی کم نظر آیا-

ہماری ویب: آپ کے خیال میں نصاب میں کس طرح کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟
سید عفان احمد بخاری= نصاب میں جدت لانے کی کوشش کرنی چاہیے٬ کچھ نیا بھی شامل کیا جائے- وہی پرانی چیزیں دہرائیں جارہی ہیں-

ہماری ویب: آج کل کے دور میں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی سہولت ہر عمر کے فرد کے پاس موجود ہے٬ لیکن کیا اسکول کے طلبا کو اس کی اجازت ہونی چاہیے؟
سید عفان احمد بخاری= ہر چیز کا منفی پہلو بھی ہوتا ہے اور مثبت بھی- اب یہ چیز استعمال کرنے والے کے اوپر ہے کہ اس کا کیسے استعمال کرتا ہے-

آخر میں ہم بات کریں گے لاریب شہزاد سے جنہوں نے میٹرک سائنس کے سالانہ امتحانات برائے 2017 میں تیسری پوزیشن حاصل کی- لاریب نے 850 میں سے 794 نمبر حاصل کیا اور اے ون گریڈ اپنے نام کیا:
 


ہماری ویب: اسکول کا نام؟
لاریب شہزاد= پروگرامر اسکول٬ نارتھ کراچی-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
لاریب شہزاد= بہت اچھا لگ رہا ہے اور بہت خوشی ہورہی ہے٬ اﷲ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے یہ مقام عطا کیا- میرے والدین اور میرے اساتذہ کی محنت رنگ لے آئی-

ہماری ویب: آپ نے اس سے قبل کوئی پوزیشن حاصل کی ہے؟
لاریب شہزاد= جی ہاں ہائیر سیکنڈری اسکول کلاسز میں پوزیشن حاصل کی ہے-
 


ہماری ویب: آپ کتنا ٹائم پڑھائی کو دیتی ہیں؟
لاریب شہزاد= اس کا انحصار میری پڑھائی پر دی جانے والی توجہ پر ہوتا ہے- ویسے اسکول کے بعد 4 سے 5 گھنٹے تو لازمی پڑھتی تھی-

ہماری ویب: ہمیشہ خود سے پڑھائی کی یا پھر کوچنگ بھی جوائن کیا؟
لاریب شہزاد= جی ہاں کوچنگ بھی جوائن کیا لیکن اسکول کے اساتذہ نے بھی کافی محنت سے پڑھایا-

ہماری ویب: اکثر طالبعلم میٹرک تو سائنس سے کرتے ہیں لیکن انٹر میں کوئی دوسرا مضمون اختیار کرلیتے ہیں کہ ان کی نظر میں وہ آسان ہوتا ہے٬ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
لاریب شہزاد= میں انشاﺀ اﷲ آگے بھی سائنس کا ہی انتخاب کروں گی کیونکہ میرا ڈاکٹر بننے کا ارادہ ہے-

ہماری ویب: تعلیم میں کامیابی کے لیے والدین کے کردار کو کس طرح دیکھتی ہیں؟
لاریب شہزاد= میرے والدین نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے پڑھائی اور محنت کرنے پر آمادہ کیا-
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
07 Aug, 2017 Total Views: 1579 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Congratulations...
By: zai,, karachi. on Aug, 08 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Announcement of result or Preparation of result is very easy but successfully passing the Examination is very hard. Those students can evaluate who gets leading position in the results and make their parents and teachers proud. These students should be encouraged at every stage. On this purpose Hamariweb has chit chat with position holders of the matric science.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB