ہلاکو خان کی موت اور مظلوم کی بددعا٬ عبرتناک واقعہ

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

ہلاکو خان اپنے گھوڑے پہ شان سے بیٹھا ہوا تھا۔ چاروں طرف تاتاری افواج کی صفیں کھڑی تھی۔ سب سے آگے ہلاکو خان کا گھوڑا کھڑا تھا۔ ہلاکو خان کے سامنے تین صفیں کھڑی کی گئی تھیں جس کو آج ہلاکو خان نے قتل کرنا تھا” انکے سر قلم کردو“ ہلاکو خان نے گرج کر کہا اور جلاد لوگوں کے سر کاٹنے شروع ہوگئے۔ پہلی صف میں ایک کی گردن گئی‘ دوسرے کی گردن گئی، تیسرے چوتھے کی۔

پہلی صف میں ایک بوڑھا غریب کھڑا تھا اور موت کے ڈر کی وجہ سے دوسری صف میں چلا گیا۔ پہلی صف کا مکمل صفایا ہوگیا۔ہلاکو خان کی نظروں نے اس بوڑھے کو دیکھ لیا تھا کہ وہ موت کے خوف سے اپنی پہلی صف چھوڑ کر دوسرے صف میں چلا گیا تھا۔ ہلاکو خان گھوڑے پہ بیٹھا ہوا ہاتھ میں لیمو لیے اچھال کر اس سے کھیل رہا تھا اور لوگوں کے قتل کا منظر دیکھ کر اس کھیل سے خود کو خوش کررہا تھا۔

جلادوں نے دوسری صف پہ تلوار کے وار شروع کیے۔ گردنیں آن کی آن میں گرنے لگیں۔جلاد تلوار چلا رہے تھے اور خون کے فوارے اچھل اچھل کر زمین پہ گررہے تھے۔ اس بوڑھے بابا نے جب دیکھا کہ دوسری صف کے لوگوں کی گردنیں کٹ کر اس کی باری بہت جلد آنے والی ہے تو وہ بھاگ کر تیسری صف میں کھڑا ہوگیا۔ ہلاکو خان کی نظریں بوڑھے پہ جمی ہوئی تھیں کہ اب تو تیسری صف آخری ہے اسکے بعد یہ کہاں چھپنے کی کوشش کرے گا۔ اس بیوقوف کو میری تلوار سے کون بچا سکتا ہے۔سو انسان مار دیئے تو یہ کب تک بچے گا؟ تیسری صف پہ جلادوں کی تلوار بجلی بن کر گر رہی تھی۔ ہلاکو خان کی نظریں مسلسل اس بوڑھے پہ تھی کہ کیسے وہ بے چین ہوکر موت کی وجہ سے بے قرار ہے۔

تیسرے صف کے انسانوں کی گردنیں گررہی تھی، جلاد بجلی کی سی تیزی سے اس بوڑھے بابا کو پہنچا تو ہلاکو خان کی آواز گرجی۔” روک جاؤ۔ اس کو ابھی کچھ نہ کہو! بابا بتاﺅ‘ پہلی صف سے تم دوسری صف میں بھاگ آئے!جب وہ ختم ہوئی تو تم تیسری صف میں بھاگ آئے ‘بابا اب بتاﺅ پیچھے تو کوئی اور صف بھی نہیں اب کہاں جاﺅ گے؟ اب تم کو مجھ سے کون بچائے گا؟اس بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا پھر کچھ وقت بعد کہا” میں نے پہلی صف کو اس لیئے چھوڑا کہ شاید میں دوسرے میں بچ جاﺅ لیکن موت وہاں بھی پہنچی۔ پھر میں نے دوسرے صف کو چھوڑ دیا کہ شاید تیسری میں بچ جاﺅں ہلاکو نے لیمو کو ہاتھ میں اچھالتے ہوئے کہا بابا کیسی خام خیالی ہے یہ کیسی بہکی باتیں کررہے ہو‘ بھلا میری تلوار سے بھی کوئی بچ سکتا ہے؟اس بوڑھے نے کہا ” وہ اوپر والی ذات اگر چاہے تو ایک لمحے میں انقلاب آسکتا ہے اور مجھے بچا سکتاہے“ کیسے بچا سکتا ہے ‘ہلاکو خان نے اتنے جوش میں کہا کہ اسکے ہاتھ سے لیمو گر گیا‘

ہلاکو خان چابک دست ہوشیار جنگجو اور چالاک انسان تھا۔ ہلاکو خان گھوڑے کے اوپر بیٹھتے ہوئے گرتے ہوئے لیمو کے لیے خود کو جھکایا کہ زمین پہ گرنے سے پہلے وہ لیمو کو پکڑ لے۔ اس کوشش میں ہلاکو خان کا پاﺅں رکاب سے نکل گیا اور وہ اس کوشش میں گھوڑے سے نیچے گر گیا۔ہلاکو خان کا گھوڑا اتنا ڈر گیا کہ وہ بدک گیا‘ہلاکو خود کو بچانے کی کوشش کی‘لشکر بھی حرکت میں آگیا لیکن گھوڑا اتنا بدک گیا تھا کہ اس نے ہلاکو کو پتھروں میں گھسیٹ کر اس کا سر پتھروں سے پٹخ پٹخ کر مار دیا‘لشکر نے جب ہلاکو خان کا گھوڑا پکڑا تو اس وقت ہلاکو خان مر گیا تھا۔ ہلاکو کا لشکر اس بابے سے اتنا خوفزدہ ہوگیا تھا کہ لشکر نے اس بوڑھے کو نظر انداز کردیا۔مظلوم کی آہ سے ڈر کیونکہ جب وہ آہ کرتا ہے تو قبولیت بہت دور سے اسکا استقبال کرنے آتی ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
15 Jul, 2017 Total Views: 5120 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Moral: wahaN sirf ek he mazlom tha. ek writer ki rooh thi.
By: anees, haripur on Jul, 22 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB