وہ کیا تھا۔۔۔۔؟؟؟

(Naila Rani, karachi)

میں اس مشغلے میں مگن تھی کہ میرے ا متحان سر پر آ گئے میر ی تیا ری بلکل بھی نہ تھی مگر گھر والو ں کے ڈر سے میں نے پیپر د ینے کا ارادہ کر لیا تھا اس دن میرا پہلا پیپر تھا اور میں اور میں متفکر تھی کہ کیا کروں گی بلکل بھی تیا ری نہیں ہے مگر میر ی ساری تو جہ اس غا ئبا نہ آواز پر ا ٹکی ہو ئی تھی جو مجھے نا ول اور شا عری سنا تی تھی اب تو با قا عدہ اس نے مجھ سے با تیں کر نی شروع کر دی تھیں اور میں گھنٹو ں وہاں بیٹھی اس آوازسے با تیں کر تی ر ہتی اس آواز میں ا یسا سرور تھا کہ مجھے اس آواز سے عشق سا ہو گیا تھا میں اس آواز کے پیچھے چھپے چہرے کو د یکھنا چا ہتی تھی مگر اس میں کسی طر ح بھی کا میا ب نہ ہو پا ئی تھی لہذا میرا پہلا پیپر تھا میں پیپر د ینے بیٹھ گئی اور جیسے ہی سوال کا جواب سو چنا شروع کیا میرے کا نو ں میں و ہی آواز آ نے لگی سارے سوا لو ں کے صحیح صحیح جواب د ینے کے بعد جب میں نے ٹیچر کو پیپر د یا تو ا بھی ایک گھنٹہ ٹا ئم با قی تھا سب حیران کہ میں نے کیسے ا تنی جلدی پیپر حل کر لیا ہے ا بھی تک تو لا ئق سے لا ئق لڑ کی کا پیپر بھی حل نہ ہوا تھا اسکے بعد میر ے سارے پیپر اسی طرح اس آواز کی مدد سے حل ہو گئے تھے اور میں ا متحا نو ں میں ا چھے نمبرو ں سے پا س ہو گئی تھی اب تو وہ آواز میرا پیچھا کر تے کر تے گھر تک آ گئی تھی جیسے ہی میں اپنے کمرے میں جا تی میرا فون بجنے لگتا میں فو ن ر سیو کر تی اور پو چھتی تم کو ن ہو تو جواب آ تا ۔۔۔احمد۔۔۔اسکی آواز ہی نہیں با تیں بھی دل کو موہ لینے وا لی ہو تی اب تو میرا یہ حال ہو گیا کہ میں سارا سارا دن احمد نا می آواز سے با تیں کر تی ر ہتی جب گھر وا لو ں نے پو چھا کہ میں کس سے با تیں کر تی ر ہتی ہو ں گھنٹو ںگھنٹو ں تو میرے پا س کو ئی جوا ب نہ تھا لہذا اب آواز نے سب کی مو جو دگی میں آنا شروع کر د یا جیسے ہی آواز آتی میں فون اٹھا کر با تیں کرنا شروع کر د یتی جیسے ہی کو ئی دوسرا شخص با ت کر نے لگتا تو آواز بند ہو جا تی گھر والو ں نے مجھے ما ہر نفسیا ت کو چیک کروا نا منا سب سمجھا کیوں کہ میر ے گھر وا لے پڑھے لکھے اور ما ڈرن تھے وہ غا ئبا نہ چیزوں پر یقین نہ ر کھتے تھے میں نے ا نھیں بہت سمجھا نے کی کو شش کی مگر بے سود۔۔۔!لہذاوہ مجھے ڈاکٹر کے پا س لے گئے جس نے مجھے کچھ نشہ آور دوا ئیا ں دے د یں جن سے میں یا تو نیند میں ر ہتی یا نیم بے ہو ش ر ہتی کچھ عر صہ میں نے وہ دوا ئیا ں کھا ئی جن سے میں بہت مو ٹی اور بھدی ہو گئی پھر میں نے وہ دوا ئیا ں چھو ڑ دیں اب میں بلکل ٹھیک ہو ں آواز نے آ نا چھو ڑ د یا مگر میں اس آواز کے با رے میں آج بھی سو چتی ہو ں کہ وہ سب کیا تھا اور وہ کو ن تھا ۔۔۔۔ختم شد عنبر ین
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
17 Jul, 2017 Total Views: 112 Print Article Print
NEXT 
About the Author: naila rani riasat ali

i am Naila i have done masters in mass communication i love poetry and books and my relatives and friends walking is my hobby i love birds and nature.. View More

Read More Articles by naila rani riasat ali: 74 Articles with 41497 views »
Reviews & Comments
issay Schizophrenia kehtay hain yai aik zehni beemari hay ..... or is kay mareez ko awaazain ana .... or baaz dafa wo cheezain dikhayee daiti hain jis ka wajood hi nahi hota .... or mareez ko bawar kerana mushkil hota hay .... khair Allah raham karay ameen ....... waisay Pakistan may psychatrist ko dikhana mayoob sumjha ja ta hay magar yai mahaz aik beemari hay agar shrooo may hi diagnose hojay to mareez kay sahath yaab honay ki umeed ki jasakti hay magar adwiyaath sari zindagi khana parhti hain takay dobara say aap ka neurons active na hojain .... Allah hum sub ko aisi beemariyon say mehfooz rakhay ... ameen

By: farah ejaz, Karachi on Jul, 18 2017
Reply Reply
0 Like
kabhi kbhi esa hota hai awaazo ka ana psychological cases mein hota hai mgr is haqeeqat sy b inkaar nahi kia ja skta k ghair-marayi quwawatein mojood hain yahan...... interesting story... horror story ek naya izafa hai is silsilay ko jari rakhiye..... stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Jul, 18 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB