سچّی محبّت

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)

جب بیٹا سعودیہ واپس آیا تو اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی اس بارے آگاہ کیا۔تمام بھائی اس رات جاگتے رہے۔اور *باہم مل کر چندہ جمع کیا۔ اسی ایک رات میں 5 ملین ریال اپنے والد مرحوم سے منسوب اس ادارہ کیلئے انہوں نے چندہ جمع کیا۔جس کو انکی دوسری ماں نے انکے والد سے بے لوث محبت کی بنیاد پر قائم کی تھی۔۔۔سبحان اللہ..
یہ واقعہ وہاں کےعربی اخبار میں بھی چھپ چکا ہے..

ایک سعودی شخص نے کسی فلپینی عورت سے چھپ کے شادی کی. چونکہ وہ پہلے ہی شادی شدہ تھا۔اور پہلی بیوی کیساتھ اولاد بھی تھیں۔

جب اس شخص کو بیماری لاحق ہوئی تو اس نے اپنے پہلے بیوی کیساتھ جو اولاد تھیں ، ان کو وصیت کیلئے جمع کیا اور ان میں سے اپنے بڑے بیٹے کو بتایا۔۔" بیٹا میں نے چھپ کے فلپینی کسی عورت سے بھی شادی کی ہوئی ہے۔میرے بعد ان کا خیال رکھنا۔اور وراثت میں انکو بھی حق دینا" ۔اور ساتھ ہی انکا مکمل پتہ بھی دیا۔جہاں وہ رہتی تھی۔۔۔کچھ دن بعد وہ شخص وفات پاگیا تو انکا بیٹے قاضی کے پاس گیا۔اور پوری تفصیلات بتا دی۔قاضی نے فیصلہ رکوادیا اور حکم دی فلپینی عورت کو بھی یہاں پیش کریں۔تو بڑے بیٹے اپنے والد مرحوم کے دیئے ہوئے ایڈریس کے مطابق فلپین پہنچا۔ بڑی مشکل سے اس گلی میں پہنچا جہاں وہ رہتی تھی۔دوسری طرف وہ عورت جو اس کے والد کی زوجہ تھی۔انہیں دیکھ کر ہی بتا دیا۔

" میں وہی عورت ہوں۔جو تو تلاش کر رہا ہے۔اور مجھ تک یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ میرا شوہر کا انتقال ہوگیا ہے" ۔تو بیٹے نے بھی ساری تفصیلات بتادی اور انکو سعودیہ کی طرف سفر کے لئے قائل کیا ۔اور اپنی دوسری ماں کو لیکر سعودی پہنچے اور سیدھا قاضی کے پاس گئے تو اس عورت کی حصے میں 8 لاکھ ریال آیا۔(جو پاکستانی روپیوں میں تقریبا 2کروڑ 16لاکھ کے لگ بھگ بنتے ہیں ) اور ساتھ ہی قاضی نے حکم دیا انکو عمرہ کی ادائیگی کے بعد فلپین روانہ کیا جائے۔ بڑے بیٹے نے ایسا ہی کیا۔

اس کے واقعہ کے ٹھیک چار سال بعد بڑے بیٹے فلپین اپنے دوسری ماں سے ملنے اور حال احوال پوچھنے کی غرض سے گیا تو وہاں پہنچ کر اس کو بہت تعجب ہوا۔اور اس سے کہا ماں جی آپ کو اتنی بڑی رقم وراثت ملنے کے باوجود وہی پرانے خستہ حال مکان میں رہ رہی ہے۔؟

ماں جی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ایک جگہ پر لے گئی۔جہاں ایک بڑا اسلامی ادارہ قائم تھا۔وہاں حفظ القرآن کا شعبہ بھی تھا اور یتیم خانہ بھی۔۔۔ ماں جی نے کہا " بیٹا سر اٹھا کر ادارے کے بورڈ کی طرف دیکھنا۔۔۔ " بورڈ دیکھ کر بیٹے کی آنکھوں میں آنسو امڈ آیا۔کیوں کہ بورڈ پر انکے والد کا نام لکھا ہوا تھا۔اس نیک صفت عورت نے کہا "میں نے یہ ادارہ اپنے وراثت کے پیسے سے بنایا ہے اور اپنے شوہر کے نام پر وقف کیا ہے۔تاکہ ان کو اس ادارے کی وجہ سے ثواب ملتا رہے"۔یہ تھی سچی محبت ورنہ اس پیسے سے وہ ایک عالی شان بنگلہ بھی بنا سکتی تھی۔پر انہوں نے سوچا محبت کے مقابلے میں عالی شان بنگلہ کی کیا حیثیت بنگلہ تو عارضی چیز ہے البتہ یہ اسلامی ادارہ انکو اور انکے شوہر کو آخرت میں کام آئیگی۔

جب بیٹا سعودیہ واپس آیا تو اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی اس بارے آگاہ کیا۔تمام بھائی اس رات جاگتے رہے۔اور *باہم مل کر چندہ جمع کیا۔ اسی ایک رات میں 5 ملین ریال اپنے والد مرحوم سے منسوب اس ادارہ کیلئے انہوں نے چندہ جمع کیا۔جس کو انکی دوسری ماں نے انکے والد سے بے لوث محبت کی بنیاد پر قائم کی تھی۔۔۔سبحان اللہ..

یہ واقعہ وہاں کےعربی اخبار میں بھی چھپ چکا ہے..
" فی زمانہ رئیسوں کی اولادیں وراثتی رقم کے حصول کے لئے اپنے والدین کے مرنے کا انتظار کرتی ہیں اور جو سچی محبت کرتے ہیں اپنے مرنے والے کو توشئہ آخرت بھیجنے کی فکر میں رہتے ہیں "

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 Jul, 2017 Total Views: 2875 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
NICE ARTICLE G
By: NAEEM ABBAS LASHARI, RAWALPINDI on Aug, 17 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB