میں سلمان ہوں(٥٥)

(Hukhan, karachi)

دیکھ کے چہرہ اس کا
یاد آیا پھول حسین گلشن کا

جب امجد کا بیٹا دو سال کا تھا‘‘،،تو امجد کی وائف کا انتقال ہو گیا تھا‘‘،،،جب سے اس کی دادی اس بچے کو پال رہی ہے‘‘،،،اس کی ایک بہن بھی اب شادی شدہ ہو گئی ہے‘‘،،،امجد بھائی کی ماں بھی بہت بیمار رہتی ہے‘‘،،،بیچارہ بہت پریشان رہتا ہے‘‘،،،بہت اچھا انسان ہے‘‘،،بس بیوی کے بعد ٹوٹ سا گیا ہے‘‘،،،بہت یاد کرتا ہے اپنی بیوی کو‘‘،،،
کئی بار کہا ہے کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ کے شادی کرلے‘‘،،،مگر کہتا ہے اپنے بیٹے پر سوتیلی ماں نہیں لاؤں گا‘‘،،
بس اس خوف نے اسے زندگی سے دور اور مایوسی کے قریب کردیا ہے‘‘،،،بس دعا کرو اس کا بیٹا ٹھیک ہوجائے‘‘،،
موسم بھی ٹھنڈا ہے‘‘،،بس اللہ رحم کرے‘‘،،
برکت سلمان کو امجد کی کہانی سنارہا تھا‘‘،،،سلمان کے چہرے پردکھ کی اک کے بعد دوسری لکیر آتی جاتی تھی‘‘،،
سلمان نے اپنی اسی مسکراہٹ کے ساتھ جس سے اس کے چہرے کا رنگ تانبے کی طرح ہونے لگتا تھا‘‘،،،یار برکت‘‘
زندگی اِسی کا نام ہے‘‘،،،کوئی انہونی‘‘،،کوئی اداسی‘‘،،کوئی غم‘‘،،جب جسم سے گزر کےروح میں اتر جاتا ہے نا‘‘،،پھر بس اس کی آنکھوں میں ہی نظرآتا ہے‘‘،،،ہر کسی کو جینے کابہانہ چاہیے‘‘،،،کسی کو ماں‘‘،،کسی کو بچوں‘‘،،کسی کو فیملی کے لیے جینا ہوتا ہے‘‘،،بس یہ رب کی مرضی وہ کسی کو کیا سونپتا ہے‘‘،،،
امجد کو بھی جینا ہے‘‘،،،اس کا ڈر بے وجہ نہیں،،،سوتیلی ماں‘‘،،ماں نہیں ہوتی،،کیونکہ ا ک لفظ سوتیلی بڑھ جاتا ہے‘‘
وہ بھی ماں کے لفظ سے پہلے‘‘،،اگر کوئی لڑکی ماں ہی رہے صرف ماں‘‘،،،جب اسکی اپنی اولاد ہو جائے گی‘‘،،پھر لفظ سوتیلا پھر سے جی اٹھتا ہے‘‘،،،بس انسانیت کمزور اور لاغر ہے‘‘،،،برکت نے ایسے سرہلایا جیسے خاک سمجھ نہیں آیا
یا سب کا سب سمجھ آگیا‘‘،،اک دم سے برکت کی آنکھوں میں چمک آگئی‘‘،،،سلمان بھائی،،،
سلمان نے برکت کی طرف دیکھا‘‘،،،یار آپ یہ پرابلم ختم کرسکتے ہو‘‘،،،سلمان نے حیرت سے برکت کو دیکھا‘‘،،،
حیرت بھرے لہجے میں‘‘،،کیسے؟،،،برکت تیز تیز لہجے میں بولا‘‘،،یار میں نے دیکھا ہے آپ ہر کام کرلیتے ہو‘‘،،،
شاعری۔۔مزدوری۔۔ڈرائیوری‘‘،،،اک اچھا سا رشتہ کیوں نہیں ڈھونڈ سکتے‘‘،،،سلمان مسکرا دیا اسے برکت کے بھولپن پر بہت پیار آیا‘‘،،،یار برکت بات سن پہلے امجد کو راضی کرنا ہو گا‘‘،،،پھر ایسی لڑکی ڈھونڈنا ہوگی‘‘،،،جو بیوی اور ماں کا کریکٹر پہلے دن سے ہی کرسکے‘‘،،،برکت خوش ہو کے بولا۔۔دیکھا۔۔‘‘،،،سلمان حیرت سے کیا دیکھا‘‘،،،میں نے روزی بی بی سے سنا ہے کہ اگر آپکو پتا چل جائے‘‘،،،کہ مسئلہ کیا ہے‘‘،،،پھر سمجھو‘‘،،،آدھا مسئلہ حل ہو گیا‘‘،،
سلمان مسکرادیا‘‘،،،روزی۔۔سلمان نے آہستہ سے دوہرایا‘‘،،برکت کو گھورا‘‘،،،اک بات بتا جھوٹ نہ بولنا مجھ سے‘‘،،
برکت نے ڈرنے کے انداز میں سلمان کو دیکھا‘‘،،،سلمان بھائی کوئی مشکل سوال نہ پوچھنا‘‘،،،جو سوال سلمان نے پوچھا برکت کے کان لال ہو گئے‘‘،،،(جاری)
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Jul, 2017 Total Views: 286 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 605 Articles with 202464 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Very nice,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Jul, 11 2017
Reply Reply
0 Like
thx for like
By: hukhan, karachi on Jul, 11 2017
0 Like
4, 5 qisten ek sath send krdiya kren tou achha hai tasalsul der tk qaem rahy
buhat achha jaraha hai novel
be happy and stay blessed
By: uzma ahmad, Lahore on Jul, 11 2017
Reply Reply
0 Like
thx for like ,,,i have so many same requests but its not my bread and butter its just a hobby,,,,i have to manage so many other things as well,,,you have to run with it,,,,,regards hukhan
By: hukhan, karachi on Jul, 11 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB