مہاتما گاندھی کے قاتل کو لڑکیوں کی طرح کیوں پالا گیا؟

برصغیر میں دو شخصیات ایسی ہیں جن میں سے ایک مسلمانوں کیلئے محترم ہے تو دوسری ہندوؤں کیلئے ۔ ایک ایک کا نام قائداعظم محمد علی جناحؒ اور دوسرا مہاتما گاندھی ۔ 30 جنوری 1948ء کو بھارتی لیڈر موہن داس کرم چند گاندھی کو قتل کرنے والے شخص کا نام راماچندرا گوڈسے تھا تاہم اسے تاریخ میں نتھو رام گوڈسے کے نام سے جانا گیا۔

اسے بھارت کا سب سے ناپسندیدہ شخص قرار دیا گیا ہے جس نے انگریزوں سے آزادی دلانے والے ہندوؤں کے لیڈر کو ہی گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ نتھو رام گوڈسے کی پیدائش 19 مئی 1910ء کو ممبئی اور پونے کے درمیان ایک گاؤں میں ہوئی۔ گوڈسے کے تین بھائی تھے تاہم ان سب کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔

توہمات میں گھرے والدین کو خدشہ گزرا کہ اگر راما چندرا کی بھی لڑکے کی طرح پرورش کی گئی تو وہ بھی ہلاک ہو سکتا ہے اس لیے اس کو لڑکیوں کی طرح پالا پوسا گیا اور جوان کیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق نتھو رام گوڈسے بھارت میں ہندو قوم پرستی کا بہت بڑا وکیل سمجھا جاتا ہے۔ اپنے ان خیالات کی وجہ سے ہی اسے سکول سے بھی نکال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد نتھو رام گوڈسے نے ہندو انتہاء پسند تنظیم راشٹریہ سوام سیوک سنگھ میں شمولیت اختیار کر لی۔

گوڈسے بھارتی لیڈر مہاتما گاندھی کے نظریات کی کھلم کھلا مخالفت کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ گاندھی کی وجہ سے ہندوؤں کے مفادات کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔ دونوں کی سوچوں کے درمیان پائے جانے والے اس بڑے تضاد نے 30 جنوری 1948ء کے واقعے کی راہ ہموار کی۔

30جنوری 1948ء کو مہاتما گاندھی بھوک ہڑتال کیے بیٹھے تھے کہ اچانک نتھو رام گوڈسے وہاں پہنچا اور ان کے سینے میں تین گولیاں پیوست کر دیں۔ اس موقع پر گاندھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔فائرنگ کے واقعے کے بعد گوڈسے نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن گاندھی کے مالی رگھو نائیک نے اسے دھر لیا۔ اس کے بعد نتھو رام گوڈسے کا ایک روزہ ٹرائل ہوا جس میں اس نے گاندھی کو قتل کرنے کی وجوہات سے پردہ اٹھایا۔ گوڈسے کا ماننا تھا کہ مہاتما گاندھی ہندوؤں کے مفادات کو سبوتاژ کر رہے ہیں جبکہ وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ گاندھی ہندوؤں کے مخالف جبکہ مسلمانوں کے طرفدار ہیں۔ گوڈسے کو 8 نومبر 1949ء کو سزائے موت سنا دی گئی اور اسی سال 15 نومبر کو اسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

YOU MAY ALSO LIKE: