میں سلمان ہوں(٤٦)

(Hukhan, karachi)

سنا ہے موسم اثر کرتا ہے
سوچ کو بدلتا ہے
نئے رشتے سمجھاتا ہے
پرانے یاد دلا تا ہے

بدل کے لباس مسکراتا ہے
نئی رتوں کو بلاتا ہے
مر جھائے ہوئے دل کو بہلاتا ہے
نئے عجب سے رنگ دکھاتا ہے

کبھی آنسو اور کبھی مسکان لاتا ہے
من کا موسم الگ تان کا کچھ اور گنگناتا ہے
عجب ہے نصیب انسان
کوئی عمر بھر بہار میں بیٹھا ہے
کوئی رم جھم کو ترس جاتا ہے
زرد رنگوں کا بھی اک موسم ہے
جو عمر بھر یادوں میں بسیرا جماتا ہے
ہاں پھر وہ حسین سرمئی شام میں یاد آتا ہے

سلمان تیز تیز قدموں سے،،ہسپتال کی جانب جارہا تھا‘‘،،وہ دل ہی دل میں بچے کی صحت کے بارے میں دعائیں کرتا ہوا جارہا تھا‘‘،،،حد ہو گئی‘‘،،،سلمان،،،خوامخواہ ٥٠٠٠٠(پانچ ہزار) واپس کر دئیے‘‘،،،آج ضرورت پڑ گئی تو خود تو کیسے معاف کروگے‘‘،،،ہر کسی کو اپنے ہی ترازو میں نہیں تولنا چاہیے‘‘،،ہاؤ سیلفش ایم آئی،،،،اپنی انا کے لیے،،ان کے پانچ ہزار مروادئیے‘‘،،تجھے کیا پتا،،اولاد کے دکھ کیا ہوتے ہیں‘‘،،،انسان کی اپنی لاش تو بےشک کسی اور کے کندھوں پر ہوتی ہے‘‘،،مگر کسی اور کی لاش تو ہمارے کندھوں کی ہی محتاج ہوتی ہے‘‘،،،
ہروقت زندگی کو اپنی ہی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے‘‘،،،اگر بچے کی کنڈیشن نہ سنبھلی تو،،،وہ کانپ کے رہ گیا‘‘،
اسلم کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو اس کو یاد آنے لگے‘‘،،بھابھی کی آنگوٹھی شاید آخری ہی ہو،،غریب آدمی سونا رکھ کے کیا کرے گا‘‘،،اس کی ساری دولت اس کا گھر اور بچے ہوتے ہیں‘‘،،،سلمان ان سوچوں میں غرق ہسپتال کی جانب بڑھتا جارہا تھا‘‘،،جاتے ہی ڈاکٹر سے بات کروں گا‘‘،،ورنہ کسی اورہسپٹل بچہ شفٹ کرنا ہوگا‘‘،،بے شک روزی کے بڑے سے بنگلے کے باہر جاکر چھوٹی سی التجا ہی کرنی پڑجائے‘‘،،،وہ ضرور مدد کرے گا،،پھر کریم صاحب کے اسلم سے ریلیشن بھی اچھے ہی ہیں‘‘،،اک رکشہ پاس سے گزرا،،کسی نے اسے زور سے پکارا‘‘،،،سلمان،،،،،،،،،،،،،
وہ چونک گیا،،رکشہ تھوڑا آگے جاکررک گیا‘‘،،،اس میں سے اسلم کا چہرہ نمودار ہوا‘‘،،،سلمان بھائی کم بیک‘‘،،،
جب وہ خوش ہوتا تو کچھ کچھ انگلش کی ٹانگ توڑتا تھا‘‘،،سلمان کے دل میں اک امید نے سراٹھایا،،یااللہ رحم،،،
اسلم بھائی خوش ہیں مطلب سب ٹھیک ہے‘‘،،وہ تیزی سے ان کے پاس گیا‘‘اندر بھابھی،،بچہ ،،اسلم تھے‘‘،،گھر واپس آؤ میں بتاتاہوں‘‘،،،سلمان مسکرادیا‘‘،،،وہ الٹے قدم واپس ہوگیا،،،
سلمان اسلم بھائی کے گھر بیٹھا گرم چائے کے مزے لے رہاتھا،،یار بچے کی کھانسی نے گلے میں خراش پیداکر دی تھی‘‘،،الٹی ہوئی تو خون آگیا‘‘،،،اب دو گیندیں بھی لے دی ہیں ،،خوش ہے،،ڈرپ بھی لگ گئی ہے،،،تیرے پیسوں میں بڑی برکت ہے استاد‘‘،،،انگوٹھی بچ گئی،،سلمان کے چہرے پرصدیوں کا سکون تھا‘‘،،واہ میرے رب‘‘بےشک تو سب سے قریب ہے‘‘،،،،،،(جاری)
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
22 Jun, 2017 Total Views: 564 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 772 Articles with 287362 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
very niceeeeee ,,,poetry owesomeeee
By: Mini, mandi bhauddin on Jun, 23 2017
Reply Reply
0 Like
thx you always admires my creation
By: hukhan, karachi on Jun, 25 2017
0 Like
Good
By: uzma ahmad, Lahore on Jun, 22 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jun, 25 2017
0 Like
Hukan brother aap ki tehreeron main depth hay ..... Masha Allah bohoth acha likhtay hain aap .... Jazak Allah HU Khairan kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Jun, 22 2017
Reply Reply
0 Like
thx sister for sweet thoughts am pleases to know readers has good eye on my words
By: hukhan, karachi on Jun, 25 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB