دنیا کے چند تیز رفتار مسافر طیارے٬ ہوش اڑا دینے والا سفر

 

عام طور پر مسافر طیارے اپنی رفتار کے حوالے سے شہرت نہیں رکھتے- اگر ان ہوائی جہازوں کی رفتار کا کا موازنہ لڑاکا طیاروں سے کیا جائے تو یہ گھونگھے ثابت ہوں گے جو کہ اپنی سست روی کی وجہ سے مشہور ہے- لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمام مسافر بردار طیاروں کو نظر انداز کردیا جائے- بعض مسافر بردار ہوائی جہاز ایسے بھی ہیں جو اپنی نوعیت کے جہازوں کی دنیا میں اپنی تیز رفتاری کی وجہ سے بےپناہ مقبولیت رکھتے ہیں- دنیا کے چند ایسے ہی تیز رفتار مسافر طیاروں کا ذکر ہے آج کے ہمارے اس آرٹیکل میں:


Cessna Citation CJ3
یہ 51 فٹ 2 انچ کا حامل ایک چھوٹا مسافر بردار طیارہ ہے- لیکن یہ چھوٹا سا طیارہ 478 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے-


British Aerospace BAe 146-200
یہ ہوائی جہاز برطانیہ میں BAE systems کا تیار کردہ ہے اور یہ اس کمپنی کا پرانا ماڈل ہے- تاہم یہ ماڈل بھی 487 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے-


BAC One-Eleven series 500
یہ مختصر فاصلے کے لیے استعمال کیا جانے والا مسافر بردار طیارہ ہے- یہ بھی برطانیہ میں تیار کیا جانے والا طیارہ ہے اور یہ اس سیریز کا پرانا ماڈل ہے- اس ہوائی جہاز میں 526 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے کی صلاحیت موجود ہے-


Tupolev Tu-204
روس میں بنائے جانے والے اس درمیانی رینج کے مسافر بردار ہوائی جہاز اپنی پہلی پرواز مغربی انجن کے ساتھ کی- یہ طیارہ 527 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-


Bombardier CRJ 1000
یہ کینیڈا کا ایک مقامی علاقوں کے درمیان سفر کرنے والا ہوائی جہاز ہے لیکن یہ بھی ایک تیز رفتار مسافر بردار طیارہ ہے- اس طیارے میں 541 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے کی صلاحیت موجود ہے-


McDonnell-Douglas DC8-73
1965 کے آغاز میں یہ ایک کامیاب ترین مسافر بردار ہوائی جہاز تھا جو درمیانی گنجائش کے ساتھ طویل سفر کے لیے تخلیق کیا گیا تھا- اس مسافر بردار طیارے میں بھی 551 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے کی صلاحیت موجود ہے-


Ilyushin IL-62M
یہ مسافر بردار ہوائی جہاز روس میں نہ صرف ڈیزائن کیا گیا بلکہ اسے تخلیق بھی ملک میں ہی کیا گیا- اس طیارے کو درمیانی سے طویل رینج تک کے لیے تخلیق کیا گیا- یہ تیز رفتار طیارہ 571 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے-


Airbus A330-200
یہ یورپ کا ایک طویل رینج والا وسیع باڈی کا حامل مسافر بردار طیارہ ہے- یہ تیز رفتار ہوائی جہاز پہلی مرتبہ 1995 میں تیار کیا گیا- یہ ہوائی جہاز 575 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے-


Boeing 747-100
یہ مسافر بردار ہوائی جہاز پہلی بار امریکہ میں تخلیق کیا گیا اور یہ ہوائی جہاز نہ صرف بڑے پیمانے کامیاب رہا بلکہ اس نے ہوائی دنیا میں انقلاب بھی برپا کردیا- زیادہ گنجائش کا حامل یہ مسافر بردار ہوائی جہاز 583 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-


Gulfstream G550
یہ طیارہ مخصوص کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اسے جارجیا ریاست میں تخلیق کیا گیا تھا- یہ مسافر بردار طیارہ 585 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
19 Jun, 2017 Total Views: 3560 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Passenger planes are not known for their speed. In comparison to fighter jets, their basically snails. But that doesn’t mean they should be ignored entirely. While most of their speeds usually ranged between 500 and 700 miles per hour, some unique airliners could go supersonic. At that speed, they could take their passengers from New York to London in roughly three hours. Are you ready? Fasten your seat-belts, here are some Fastest Passenger Planes Throughout History.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB