اماں کی جدائی

(Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi)

ایک بہت دل ہلا دینے والا واقعہ کہ گھر میں بہت اچھا کھانا بنا تھا لیکن شائید اماں کو احساس ہوگیا تھا کہ کھانا زیادہ نہیں کہ ہم تمام گھر والے کھالیں اماں نے کھانا دینے سے پہلے ہی کہنا شروع کردیا کہ آج طبیعت بہت خراب محسوس ہورہی ہے کچھ کھانے کو دل نہیں چاہ رہا ہے تم لوگ کھانا کھا لو میں سوتی ہوں ہم کھانا کھاچکے اور سب سو گئے جوں ہی نیند نےاپنے آغوش میں لیا مجھے برتنوں کی کھنکھناے کی آواز آئی لحاف میں سے جھانک کر دیکھا تو اماں پتیلی میں روٹی رگڑ رکڑ کر اس طرح کھا رہی تھیں جسے شدید بھوک لگی ہو۔ ایسی نا جانے کتنی راتیں میری اماں نے ہمیں پیٹ بھر کر کھلانے کے لیئے دیکھیں ہونگی ۔

ماں کتنا خوبصورت اور شر یں لفظ ہے کتنا پرسکون اور اطمینان سے بھرپور کتنا تحفظ بھرا، اس لفظ کی خوبصورتی اور کشش کا اندازہ اسے ہی ہو سکتا ہےجس نے ماں کی محبت اور چاہت کے ہلکورے لیے ہوں۔ ماں جیسی بلند ہستی اللہ کی قدرت کے کرشموں میں ایک انوکھا اور منفرد شاہکار ہے اور اس کی عطاء کردہ نعمتوں میں ایک عظیم نعمت ہے ۔ ماں کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ تبھی ہوتا ہے جب وہ دنیا کے رنج و غم سے بہت دور خاموش اور سنسان بستی میں منوں مٹی کے نیچے چلی جاتی ہے۔

اس عظیم نعمت کی قدر اس کے بچھڑ جانے کے بعد زیادہ ہوتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے اس کی پیدائش سے اب تک جتنی نعمتیں میسر تھیں وہ سب واپس لے لی گئیں ۔ 15 جون 2011ء کو میری اماں لیاقت نیشنل اسپتال کراچی کے ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں شفٹ ہوتے ہوئے آسمان کی جانب دیکھ کر کہتی ہیں کہ آج بہت دن بعد آسمان دیکھا ہے اور کچھ گھنٹو ں بعد ان کی روح آسمان کی بلندیوں میں چلی گئ ، اماں کے سیدھے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیئے ان کے سرہانے کھڑا تھا کبھی ان کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوتی تو کبھی ڈھیلی مجھے احساس ہوچکا تھا کہ وقت جدائی آگیا ، آنکھوں سے آنسؤں کی لڑی مسلسل اماں کے ہاتھوں پر ٹپک رہی تھی ایک لمحہ کو ماں کی آنکھ کھلی ایک مدھم سے ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا ارشی ۔۔۔۔۔۔ اور ان کی ہاتھوں کی گرفت بلکل ڈھیلی ہوگئی میں نے اماں کے کان کے قریب جاکر بمشکل الفاظ ادا کیئے " اماں اللہ حافظ " اور اماں اپنے رب سے جا ملیں۔ "اے نفس مطمنہ چل تو اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی ہو وہ تجھ سے راضی ہو"۔

اماں کو ہم سے جدا ہوئے آج 06 سال بیت چکے ہیں لیکن یوں لگتا ہے ابھی کہیں سے اماں کی آواز آئے گی ماں باپ نے خود مشکلات میں زندگی گزاری لکنن ہمیں اچھی تعلیم دلوائی اور بہترین تربتگ کی ۔ الحمدللہ اماں نے اپنی زندگی میں ہماری تعلیم تربیت کا بہت خیال رکھا۔ آج ہم جو کچھ یا جس مقام پر ہیں اماں کی دعاؤں اور تربیت اور والد کی محنت کے نتیجہ سے ہی ہیں۔

اماں میرے لیے دعاؤں کی مشین تھیں ۔ میں جب بھی کسی خاص کام کے لیے خصوصی دعاؤں کی درخواست کرتا تو ان کے ہاتھ بلند ہو جاتے، سجدے لمبے ہو جاتے اور میرے کام ہوجاتے تھے اکثر وہ کام جنہیں میں ناممکن سمجھتا تھا ۔ہماری ابتدائی طرز زندگی بہت کٹھن تھی اور ان کٹھن حالات میں بھی ہمارے والدین نے ہماری خواہشات پوری کیں کبھی ہمیں احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیا لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ ہماری خواہشات کو پورا کرنے لیئے ماں باپ نے نہ جانے اپنی کون کون سی خواہشات کا گلہ گھونٹا ہوگا مجھے بچپن کے کئی واقعات یاد ہیں جس میں سے ایک بہت دل ہلا دینے والا واقعہ کہ گھر میں بہت اچھا کھانا بنا تھا لیکن شائید اماں کو احساس ہوگیا تھا کہ کھانا زیادہ نہیں کہ ہم تمام گھر والے کھالیں اماں نے کھانا دینے سے پہلے ہی کہنا شروع کردیا کہ آج طبیعت بہت خراب محسوس ہورہی ہے کچھ کھانے کو دل نہیں چاہ رہا ہے تم لوگ کھانا کھا لو میں سوتی ہوں ہم کھانا کھاچکے اور سب سو گئے جوں ہی نیند نےاپنے آغوش میں لیا مجھے برتنوں کی کھنکھناے کی آواز آئی لحاف میں سے جھانک کر دیکھا تو اماں پتیلی میں روٹی رگڑ رکڑ کر اس طرح کھا رہی تھیں جسے شدید بھوک لگی ہو۔ ایسی نا جانے کتنی راتیں میری اماں نے ہمیں پیٹ بھر کر کھلانے کے لیئے دیکھیں ہونگی ۔

میں اکثر لوگوں سے سنا کرتا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا صدمہ کم ہو جاتا ہے۔ وقت بڑا مرہم ہوتا ہے لیکن ا ماں کی جدائی کا صدمہ چھ سال گزرنے کے بعد بھی میرے دل میں اسی طرح تازہ ہے جیسے اماں کو دفنائے چند منٹ ہی گذرے ہوں ۔ اماں کے انتقال کے بعد والد حیات تھے جن کے پاس بیٹھ کر اماں کی یادیں اور اماں کی باتیں کرتے تھے کچھ غم مندمل ہوجاتا تھا یہ سلسلہ بھی اماں کے انتقال کے بعد 06 سال جاری رہا اور والد صاحب بھی اسی سال فروری میں ہم سے جدا ہوگئے اور زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا والد کے انتقال پر ایک میرے بہت عزیز میرے محسن میرے بزرگ نے مجھ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ والدین اولاد کے لیے ساری زندگی دعا کرتے ہیں ، تمہارے لیے یہ سلسلہ اب ختم ہو گیا ہے، اب ان کو تمہاری دعاؤں کی ضرورت ہے۔

میں اپنے والدین کی وفات کے بعد آج خود کو بہت ہی تنہا محسوس کرتا ہوں گو کہ میرے قریب بہت سے محبت کرنے والے رشتے موجود ہیں لیکن ماں باپ کی محبت کا نیم البدل کوئی رشتہ نہیں ۔ حالت بیماری میں اماں کا پیشانی پر ہاتھ رکھ دینا ہی محسوس ہوتا تھا کہ آب حیات پی لیا ہو! اب جب کہ محبت ، شفقت، پیار اور دعاؤں کا وہ باب مجھ پر ہمیشہ کے لیئے بند ہوگیا ہے اور مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ میرے گرد اماں کی دعاؤں کا مضبوط حفاظتی حصار ٹوٹ چکا ہے اور اب بہت محتاط ہو کر چلتا ہوں ، اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے اپنے والدین کے ساتھ سب سے کم برس میرے ہی گذرے ۔ آج بھی شائید ہی کوئی دن ان کی یادوں کے بغیر گذرتا ہو۔ اللہ تعالی انہیں اپنی جوار رحمت میں عالی مقام عطاء فرمائے اور ہماری بہترین تربیت اور پرورش کرنے پر انہیں اجر عظیم عطاء فرمائے اور ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین

 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
15 Jun, 2017 Total Views: 658 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi)

My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi (Arshi): 69 Articles with 23099 views »
Reviews & Comments
ASSALAM O ALAIKUM,

HOPE YOU WILL FINE.

AAP BILKUL SAHEE KAH RAHAY HAIN.
MAA OR BAAP KO TO BADDAL HE NAHI HAY. BUS AAP UN KAY LIAY DUA KARAIN.
By: SAQLAIN AHMED, karachi on Jul, 19 2017
Reply Reply
0 Like
رب ارحم ھما ربیانی صغیرا
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Jun, 15 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB