چاند کا ٹکڑا٬ امام اعظم ابوحنیفہؒ اور ایک سیب

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

ایک بزرگ نہر کے کنارے جا رہے تھے، ان کو بھوک بھی لگی ہوئی تھی، مگر فقیر بندے تھے خرچ کرنے کے لیے پاس کچھ تھا نہیں، نہر میں ایک سیب دیکھا جو بہتا ہوا جا رہا تھا انہوں نے سیب لیا اور اس کو کھا لیا، بھوکے بندے کی تو سمجھ بھی کام نہیں کرتی۔پیٹ نہ پیا روٹیاں تو دے گنا کھوٹیاں۔

کھانے کے بعد خیال گزرا کہ یہ سیب تو میرا نہیں تھا، یہ تو کسی اور کا تھا، میں نے بغیر اجازت کھا لیا، مجھے اس بندے سے یا تو معافی مانگنی ہے یا قیمت ادا کرنی ہے، چنانچہ جدھر سے پانی آ رہا تھا (اسٹریم، Stream) ادھر جانے لگے، آگے کچھ دور جانے کے بعد دیکھا کہ ایک باغ ہے، جس میں سیب کے درخت ہیں، سمجھ گئے یہاں سے گرا ہو گا۔

باغ کے مالک سے ملے، اور کہا کہ میں نے آپ کے درخت کا سیب کھا لیا ہے لہٰذا یا تو معاف کر دیں یا قیمت لے لیں، اس نے کہا معاف تو میں نہیں کرتا، ہاں قیمت ادا کر دو، کہنے لگے جو بھی قیمت ہو گی مزدوری کرکے دے دوں گا، اس نے کہا میری ایک بیٹی ہے، گنگی ہے زبان سے، آنکھوں سے اندھی ہے، کانوں سے بہری ہے، پاؤں سے لولی لنگڑی ہے، لہٰذا اس کے ساتھ تم نکاح کرو اور ساری زندگی اس کی خدمت کرو اس کو خوش رکھو، یہ قیمت دینی پڑے گی۔

فکر میں پڑ گئے مگر دل نے کہا کہ دیکھو یہ مجاہدہ برداشت کرنا آسان، قیامت کے دن اللہ رب العزت کے سامنے ملزم بن کر کھڑا ہونا یہ بڑا مشکل کام، آخر کار تیار ہو گئے، نکاح ہو گیا، جب وہ اپنی بیوی کے پاس گئے تو حیران، چاند کا ٹکڑا آنکھیں خوبصورت، بولنے والی، سننے والی، سمجھنے والی، حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ تم اپنے باپ کی ایک ہی بیٹی ہو یا کوئی اور بھی تمہاری بہن ہے؟

اس نے کہا میں ایک ہی بیٹی ہوں،خیر رات گزر گئی، اگلے دن سسر سے ملاقات ہوئی، سسر نے پوچھا کہ بتاؤ مہمان کو کیسا پایا، کہا آپ نے تو فیجوکیشن کچھ اور ہی بتائی تھی،مگر وہ تو ایسی نہیں وہ بہت دانا، بینا، آپ کے بتلائے ہوئے ہر عیب سے مبرا ہے، انہوں نے فرمایا، ہاں! یہ میری بیٹی ظاہر حسن جمال بھی رکھتی تھی اور باطنی اعتبار سے بھی، حدیث کی عالمہ قرآن کی حافظہ ہے، میں چاہتاتھا اس کے لیے کوئی ایساخاوند ڈھونڈوں کہ جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو، کیونکہ جس کے دل میں خوفِ خدا نہ ہو وہ بیوی کے حقوق صحیح ادا نہیں کر سکتا،(اسی لیے سورۂ نساء پڑھ کر دیکھیں ہر دوسری چوتھی آیت میں اتقوا اللہ اتقوااللہ ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کاخوف دل میں پیدا نہیں کریں گے وہ دوسروں کے حقوق کو صحیح ادا نہیں کر سکیں گے) تو میں چاہتا تھا کہ کوئی ایسا بندہ ملتا، جب تم نے ایک سیب کی وجہ سے معافی مانگی، تو میں نے کہا اس کے دل میں خوفِ خدا ہے اس لیے میں نے اپنی بیٹی کے لیے تمہیں خاوند کے طور پر تجویز کیا، دونوں ساتھ رہنے لگے، اللہ رب العزت نے انہیں بیٹا دیا جس کا نام انہوں نے نعمان رکھا، یہ نعمان بڑا ہو کر امام اعظم ابوحنیفہؒ ہوئے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
09 Jun, 2017 Total Views: 3483 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ والد گرامی نھیں تھے اپنے غلطی کی یہ میرے بڑے پیر غوث الاعظم پیران پیر روشن ضمیر کے والد گرامی جوکہ جنگی دوست کے لقب سے مشہورہیں
By: abu nouman raza attari, karachi on Nov, 02 2017
Reply Reply
0 Like
IMRAN BHI U ARE RIGHT
By: Qadri KHAN, karachi on Oct, 31 2017
Reply Reply
0 Like
Janab Khwaja Musaddiq Sahab,
Janab ye Waqia Hazrat Syedna Wa Murshidna Ghaus Us Saqlain Sheikh Abdul Qadir Jilani Rehmatullah Alye ka ha ap isay sahi kar lain.
Shukria,
A.R Khan
By: Ahmed , Karachi on Oct, 14 2017
Reply Reply
0 Like
Bhai elam ke kami ke waja sy dosrun ko gamrah na karo. Kuch b share karny sy pehly apnay area k kisi aalam ys confirm kar lya karo ta k ap k qabar kharab na ho or job ap ke tarah ka kamelam parhien un ke b kharab na. for you information Ye Waqia Hazrat Syed Abdul Qadir Jeelani ka ha. or apnay mukamal b share nhi kya. Kind Regards Imran
By: Imran , Islamabad on Sep, 25 2017
Reply Reply
2 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB