باباۓ قوم، متنازعہ تاریخ و جاۓ پیدائش اور تاریخی حقائق

(Shehla Khan, )

ہم سب یہی جانتے ہیں کہ قائداعظم 25 دسمبر 1876 کو وزیر منشن کراچی میں پیدا ہوۓ۔ لیکن تاریخی حقائق کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ غلام علی الانا، قائداعظم کے قریبی دوست اور ان کی زندگی پر لکھی جانے والی کتاب 'دی اسٹوری آف اے نیشن' کے مصنف بھی تھے۔ انگریزی میں لکھی گئ اس کتاب کا اردو میں ترجمہ، اردو کے مشہور شاعر رئیس امروہوی نے کیا تھا۔ اردو زبان کے ایڈیشن میں صفحہ نمبر 19 پر جی الانا نے قائد کی تاریخ پیدائش سے متعلق مختلف تاریخوں کا ذکر کیا ہے۔ ڈان اخبار میں جی الانا نے ایک بار بیان دیا تھا کہ میں نے خود سندھ مدرسۃالاسلام کے اینرولمینٹ رجسٹر میں قائد کی تاریخ پیدائش 20 اکتوبر 1875 لکھی ہوئ دیکھی ہے۔

1990 کے وسط میں سندھ کے رائٹرز اور دانشوروں کی ٹیم نے قائداعظم کی تاریخ اور جاۓ پیدائش پر ریسرچ کے حوالے سے جھرک کا دورہ کیا۔ وہ ان خاندانوں سے ملے جو وہاں صدیوں سے مقیم ہیں۔ اس ٹیم نے سندھ ادبی بورڈ نے 1950 اور 1960 میں شائع ہونے والی ان ٹیکسٹ بکس کا بھی مطالعہ کیا جن میں قائد کی جاۓ پیدائش جھرک بیان کی گئ ہے۔ یہ کتابیں ڈاکٹر عمر نے لکھی تھیں اور یہ سندھ کے پرائمری اسکولوں میں پڑھائ جاتی رہی ہیں۔ اور جب یہ کتابیں سندھ کے پرائمری اسکولوں میں پڑھائ جاتی تھیں اس وقت قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح حیات تھیں۔ اسکول میں پڑھائ جانے والی ایک ٹیکسٹ بک میں یہ عبارت موجود ہے، "سندھ کا قابل فخر بیٹا تین چوتھائ صدی قبل جھرک میں پیدا ہوا۔ آپ کے والد ایک غریب تاجر تھے۔ کوئ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک دن دنیا کی عظیم ترین شخصیتوں میں آپ کا شمار ہوگا۔ اپنی ابتدائ تعلیم مکمل کر لینے کے بعد آپ نے سندھ مدرسۃالاسلام سے میٹرک کا امتحان پاس کیا"۔

جھرک کے پرائمری اسکول کا جنرل رجسٹر، جس میں قائد کی تاریخ اور جاۓ پیدائش درج تھی، وہاں سے غائب تھا۔ جس کے متعلق جھرک کے پرانے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ 1967 میں کمشنر حیدرآباد مسرور احسن نے لے لیا تھا جو اس وقت صدر ایوب اور نواب آف کالا باغ کے خاص آدمی تھے۔ صدر ایوب کے دور میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں، سندھی زبان میں تدریس پر پابندی لگا دی گئ تھی۔ اس ٹیم کی ریسرچ کے مطابق قائداعظم جھرک میں پیدا ہوۓ تھے۔ سندھ کی سابقہ کلچر منسٹر سسی پلیجو نے بھی اس ریسرچ کی تائید کی تھی۔ قائد کی پیدائش کے وقت ٹھٹھہ کراچی کا حصہ تھا اور وزیر منشن جو قائد کی جاۓ پیدائش بنادیا گیا، وہ اس وقت بنا ہی نہیں تھا۔ تاریخی حقائق یہ کہتے ہیں کہ وزیرمینشن قائد کی پیدائش کے چھ سال بعد بنا۔

جھرک ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو صوبہ سندھ کے ڈسٹرکٹ ٹھٹھہ میں دریاۓ سندھ کے کنارے واقع ہے۔ انیسویں صدی میں جھرک ایک مصروف تریں دریائ پورٹ تھا اور دریاۓ سندھ کے بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر بھی تھا۔ کراچی کے نزدیک کراچی پورٹ بھی جھرک سے منسلک تھا۔ اس وقت کے مشہور عالم، حسن علی آفندی سندھ مدرسۃالاسلام سے منسلک تھے اور دریاۓ سندھ کے بحری بیڑے کے لئے بھی کام کرتے تھے۔ قائداعظم سندھ مدرسۃالاسلام میں ان کے شاگرد تھے۔ جھرک کے قصبے کی کمرشل اہمیت دیکھتے ہوۓ آغا خان اول نے وہاں ایک محل تعمیر کیا جو آج بھی جھرک میں موجود ہے۔ جھرک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی دور حکومت میں سندھ کا پرانا ترین پرائمری اسکول، جو سندھ مدرسۃالسلام سے بھی پندرہ سال پہلے بنا تھا، آج بھی وہاں موجود ہے۔ برطانوی راج میں انگریز حکمرانوں کے نزدیک جھرک، رہائش کے لئے بہت اچھی جگہ سمجھا جاتا تھا۔ سر چارلس نیپئر نے سندھ آنے کے بعد برطانوی فوج کے ہیڈکوارٹرز جھرک میں بناۓ۔

قائداعظم کے دادا جھرک میں آغا خان اول حسن علی شاہ کے دیدار کے لئے آۓ تو تا زندگی وہیں رہ گۓ اور وہیں وفات پائ۔ ان کی قبر بھی وہیں ہے۔ ان کے بڑے بیٹے پونجا جناح جو قائداعظم کے والد تھے، کی شادی شیریں بائی، موسا جموں کی بیٹی سے 1874 میں ہوئی۔ موسا جموں آغا خان کے ساتھ ہی ہجرت کر کے جھرک آۓ تھے۔ شادی کے ایک سال کے بعد 20 اکتوبر 1875 میں قائداعظم پیدا ہوۓ۔ اسی لئے انتہائ وثوق کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ قائداعظم جھرک میں پیدا ہوۓ تھے نہ کہ کراچی میں۔

یہاں پر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ آغاخان کمیونٹی نے ایک میٹرنٹی ہوم تعمیر کیا جس کے آرکیالوجی کے شعبے نے قائد کی صحیح جاۓ پیدائش ایک بلیو پلیٹ پر نقش کرکے آویزاں کردی۔ تمام حقائق و شواہد یہی کہتے ہیں کہ قائداعظم کراچی میں نہیں بلکہ جھرک میں پیدا ہوۓ اور ان کی صحیح تاریخ پیدائش 20 اکتوبر 1875 ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
22 May, 2017 Total Views: 380 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Shehla Khan

Read More Articles by Shehla Khan: 28 Articles with 7324 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Hello !
Through it is a fact that civilized and progressive nations believe to write the correct history of their past . But here i differ from this idea, I think we are wasting our time to establish the fact that where our great leader born .
I think it makes no difference .
Asnyway I agree its an information provided by author . And someone has been played with this history page .
Regards .
By: Asif Rana, Multan on May, 28 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB