گھر کبھی کبھی ایسے بھی تباہ ہوتے ہیں

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

عالیہ کی دس سال پہلے شادی ہوئی تھی۔ شادی بہت دھوم دھام سے کی گئی۔ شادی کے چھ ماہ بعد ہی عالیہ ماں باپ کے گھر آکے بیٹھ گئی۔ وجہ وہی شکایات جو عام طور پر ہر بہو کو اپنی ساس سے ہوتی ہے۔

ماں باپ نے بے وقوفی کی کہ بجائے اسے سمجھانے کے اس کے شوہر کو بلایا اور الگ گھر کا مطالبہ کردیا۔ داماد نے اپنی مجبوریاں بتا کر کچھ مہلت طلب کی کہ دو چار سال میں الگ گھر کا بندوبست کرلوں گا لیکن عالیہ کے ماں باپ نہ مانے۔ عالیہ کی ماں کہنے لگی کہ ہماری بچی ہم پر بھاری نہیں ہےکہ ہم اسے دو وقت کا کھلا نہ سکیں۔ داماد نے بہت کوشش کی لیکن عالیہ کے ماں باپ نے اسے بھیجنے سے انکار کردیا۔ عالیہ بھی یہ سوچ کرماں باپ کے گھر بیٹھ گئی کہ جب عقل ٹھکانے آئے گی تو مطالبہ پورا کرکے خود ہی لینے آئے گا لیکن بے چارے شوہر کی اتنی پسلی ہی نہیں تھی کہ وہ الگ گھر کا بندوبست کرسکتا۔

عالیہ کے خاوند نے کچھ عرصہ تو صلح کی کوشش کی لیکن عالیہ کی ماں اڑی رہی اور اپنی بیٹی کو نہ بھیجا۔ چند ماہ بعد عالیہ ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔ خاوند نے اس موقع پر پھر صلح کی کوشش کی لیکن عالیہ کی ماں بھی ضد کی پکی تھی داماد کو بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا کہ جب تک میری بیٹی کے لیے الگ گھر کا بندوبست نہیں کرتے تب تک بیٹی نہیں بھیجوں گی۔ بیٹی بے چاری بول ہی نہ سکی کہ امی میں اب جانا چاہتی ہوں۔

اس بات کو اب دس سال ہوچکے ہیں اورعالیہ اپنے بیٹے سمیت ابھی بھی ماں باپ کے گھر بیٹھی ہے۔ اس نے کئی بار جانے کا فیصلہ کیا لیکن ماں باپ کی عزت کی وجہ سے چپ رہی۔

اب بے چاری عالیہ بھائیوں پر بوجھ بن چکی ہے۔ والد انتقال کرچکا ہے ماں بیمار ہو کر چارپائی کی ہوگئی ہے۔ عالیہ کا بیٹا بے چارہ باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیموں والی زندگی گزار رہا ہے۔عالیہ اب پچھتاتی ہے اور یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ اس کی ماں کے بعد اسکا کیا بنے گا۔ ماں یہ نہیں سوچ رہی بس اپنی بات پر ہی اڑی ہوئی ہے۔

لوگ سمجھا سمجھا کر تھک گئے ہیں پر کسی کی بات بھی اسکی سمجھ میں نہیں آئی۔

میں سوچتا ہوں کہ کچھ والدین کتنے بے وقوف ہوتے ہیں۔ جذبات میں آکر غلط فیصلہ کر کے اپنی بیٹی کی زندگی تباہ کردیتے ہیں۔ بے چاری ساری عمر بھابھیوں کے طعنوں کا نشانہ بنتی ہے ذلیل وخوار ہوتی ہے۔

وہ یہ نہیں سوچتے کہ بیٹی کی ضرورت صرف دو وقت کی روٹی نہیں بلکہ اسے اپنے خاوند کا سہارا چاہیے، اسکے بچوں کو اپنے باپ کی ضرورت ہے۔ کاش کہ ماں باپ فیصلہ کرتے وقت جذبات کی بجائے عقل سے کام لیں اور کسی خاندان کو ٹوٹنے سے بچا لیں-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 May, 2017 Total Views: 3246 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Dear Writer,
Compromise krne ki sari zime dari larkiyun (Girls) pr hi add hoti hain? Kiya lerkay (Boys) apne ghar main Maan (Mother), Behan (Sister), Brothers aur Bivi (Wife) k drmiyan Insaf nahi kr sakta. aap ne to bre aram se likh diya Larki compromise krti aur us ke walden hr baat ko framosh kr dete, waqee ye mooashra hay hi Mardon (Mans) ka, jahan aurat (ladiess) ko aik Jins ki trah rkha jata hay, wah aap ko to Prizs milna chahiye.
By: Muhammad Kashif, Faisalabad on May, 22 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB