آر - جے دل

(Umama khan, kohat)

اقربا پرستی کی آڑ میں حقداروں سے ان کا حق چھیننا تو آج کل کا فیشن بن گیا ہے۔آج کا انسان کبھی اپنے رشتے داروں کی خاطرکسی کے میرٹ اور محنت پر پانی پھر دیتے ہیں۔ کبھی اپنی پسند کو خوش کرنے کی خاطر کسی دوسرے کا حق مار لیتے ہیں ۔لیکن آج آپ کی پسند کسی دوسرے کو خوش کرنےکی خاطر آپ کو ہاتھ دکھا جائے تو آپ کو کتنے نفلوں کا ثواب ہوگا۔ لیکن لوگوں کی عقل پر پردے کچھ زیادہ ہی پڑے ہوئے ہیں ۔حیا والا پردہ ختم کیا ہوا لوگوں نے اس پردوں پر اپنی عقل پر ڈال لیا ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنے مفاد کی خاطر کسی کی حق تلفی کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتا۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ مقافات ِعمل کل آپ کے گرد بھی گھیرا تنگ کرے گا ۔ تب ہم کہتے ہیں کہ ہمارے خدا کو ہم غریب ہی ملے تھے ۔ہم نے تو کبھی کسی کے ساتھ بُرا نہیں کیا؟

آر - جے دل

کل آخری دن تھا۔رات دس بجے تک پتہ چلنا تھا کہ وِنر کون ہے ویسے دیا اور باقی سب کو یقین تھا کہ winner آر - جے دل ہی ہے۔صبح اٹھتے ہی اس نے رات دس بجے کا انتظارشروع کیا تھا ۔وہ آر ۔جے دل کی بہت بڑی فین تھی ۔ بلکہ صرف وہ ہی نہیں جو بھی ریڈیو پر آر - جے دل کے پروگرامزکو سنتے تھے وہ سارے ہی اس کے فین تھے۔وہ ہر ٹائپ کے پروگرامزکرتا تھا زیادہ تر مزاحیہ پروگرامزکرتا تھا۔ اس کے پروگرام کےٹائم ہر کسی کے لبوں پر مسکان ہوتی تھی۔ کسی کو ہنسانا مشکل ہے اور رُلانا آسان ۔ آج کے دور میں تو ہنسانے والے آر جے دل جیسے لوگ بہت انمول ہیں۔چنانچہ جب بیسٹ آر جےووٹنگ شروع ہوئی تو ہر کسی نے آر ۔جے دل کو ہی ووٹ دیئے تھے۔ دیا اس کےحق میں ووٹنگ دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھی اس کو پکا یقین تھا کہ وِنر آر جے دل ہی ہے۔ پھر خدا خدا کر کے رات کے دس بج گئے اور وہ آن لائن ہوئی اور ریڈیو ریفریش کر کے آنرز کی گفتگو سننے لگی تھی۔ ساتھ ساتھ سب لائیو چیٹ بھی کر رہے تھے ۔ آر جے دل کے باقی فینز بھی دیا کی طرح بہت پرجوش تھے۔ سب یہی ٹائپ کر رہے تھےWinner R.J Dil ، ان سب میں دیا بھی شامل تھی۔سارے R-J”sآن لائن تھے۔ پھر بالآ خر وہ ٹا ئم آہی آگیا جب آر ۔جے دل کا نام لیا گیا مگر فرسٹ پوزیشن میں نہیں بلکہ سکینڈ پوزیشن کے لیے۔ دیا کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے کانوں سے کیا سن رہی ہے۔ فرسٹ پوزیشن پر وہ دو آر ۔جیز آئے تھے جو آنر کو ذاتی طور پر پسند تھے ۔ محنت آر جے دل نے کی تھی اور فرسٹ کوئی اور آئے؟ اس نا انصافی پر دیا رونے لگی تھی ۔ باقی سب بھی یہی کہہ رہے تھے کہ دل کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ وہ اپنی جاب کے با وجود بہت مشکل ٹائم نکال کر پروگرامز کرتا تھا۔ اس کے تمام پروگرامز اس کی محنت کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ دیا کو حد سے زیادہ دکھ ہوا تھا ۔ اس نے کمنٹ میں لکھا"آر جے دل کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے باقی دو آر جے جو صرف ڈی جے کا کام کرتے تھے یعنی سب کے فرمائش پر سونگ پلے کرتے تھے وہ فرسٹ کیسے آئے؟

اقربا پرستی کی آڑ میں حقداروں سے ان کا حق چھیننا تو آج کل کا فیشن بن گیا ہے۔آج کا انسان کبھی اپنے رشتے داروں کی خاطرکسی کے میرٹ اور محنت پر پانی پھر دیتے ہیں۔ کبھی اپنی پسند کو خوش کرنے کی خاطر کسی دوسرے کا حق مار لیتے ہیں ۔لیکن آج آپ کی پسند کسی دوسرے کو خوش کرنےکی خاطر آپ کو ہاتھ دکھا جائے تو آپ کو کتنے نفلوں کا ثواب ہوگا۔ لیکن لوگوں کی عقل پر پردے کچھ زیادہ ہی پڑے ہوئے ہیں ۔حیا والا پردہ ختم کیا ہوا لوگوں نے اس پردوں پر اپنی عقل پر ڈال لیا ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنے مفاد کی خاطر کسی کی حق تلفی کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتا۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ مقافات ِعمل کل آپ کے گرد بھی گھیرا تنگ کرے گا ۔ تب ہم کہتے ہیں کہ ہمارے خدا کو ہم غریب ہی ملے تھے ۔ہم نے تو کبھی کسی کے ساتھ بُرا نہیں کیا؟
؎ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام ِ گلستاں کیا ہوگا

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 May, 2017 Total Views: 538 Print Article Print
NEXT 
About the Author: umama khan

Read More Articles by umama khan: 21 Articles with 10685 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
nice article------ r-j dil ka show fm par hota hain?
By: ahmad , khi..... on May, 17 2017
Reply Reply
0 Like
بہت ہی تلخ حقائق ظاہر کرنے والی تحریر ہے، آپ نے ماشا اللہ سے بہترین انداز میں معاشرے میں موجود عناصر کی نشاندہی کی ہے،امید کرتا ہوں کہ آپ یوں ہی اپنے قلم کو نشتر کی مانند استعمال کر کے برائی کا ظاہر کرنی کی کوشش جاری رکھیں گی۔آپ کی یہ کہانی مناسب موقع پر فراہم ہوئی ہے میں ابھی کچھ دن قبل ہی کسی کی ستم گری کا شکار ہوا ہوں واقعی لوگ مکافات عمل کا سوچ لیں تو برائی سے باز رہیں۔بہرحال آپ مبارکباد کی مستحق ہیں کہ آپ نے حساس موضوع کو عمدگی سے بیان کیا ہے۔خوش رہیں۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on May, 17 2017
Reply Reply
0 Like
great article welldone umama khan
By: sana, rwp on May, 16 2017
Reply Reply
0 Like
nice article acha msg hain is main,
By: saad ali, karachi on May, 16 2017
Reply Reply
0 Like
awesome,,,,,,,,,,
By: hadina, cantt on May, 13 2017
Reply Reply
0 Like
behtareen lesson hai is article mai good umaima khan
By: kiran ali, karachi on May, 13 2017
Reply Reply
0 Like
sooper sis
By: abrish, sargodha on May, 12 2017
Reply Reply
0 Like
bohat behtreen lesson hai welldone sis :)
By: Zeena, Lahore on May, 12 2017
Reply Reply
0 Like
umma sweeti,, very very nice article,,,,
By: sara, peshawar on May, 12 2017
Reply Reply
0 Like
Very nice umama veryyyy niceeeeeeeeee
By: Mini, mandi bhauddin on May, 12 2017
Reply Reply
0 Like
Outstanding
By: Abdul Kabeer, Okara on May, 12 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB