اللہ نے مجھے ہارٹ اٹیک کیوں دیا؟

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

ایک صاحب واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی میں ایک واقعہ دیکھا، اللہ اکبر آج بھی سوچتے ہیں تو کانپتے ہیں کہ امریکہ سے ایک پڑھا لکھا جوڑا حج کرنے کی نیت سے چلا اور جو وی آئی پی حج کا مرض ہے، وہ وی آئی پی حج ان کے ذہن میں بھی تھاکہ وی آئی پی حج کرنا ہے، ان کو اپنے پیسے پر بڑا ناز تھا، چنانچہ چلے اور آ بھی گئے، اسی گروپ میں تھے جس گروپ میں ہمیں حج کرنا تھا-

ہم نے دیکھا کہ ان کی طبیعتیں ایسی تھیں کہ ہر چیز پر اعتراض کرتے تھے، یہ چیز اچھی نہیں، دونوں میاں بیوی جو چیز دیکھتے اس پر تنقید کرنے بیٹھ جاتے، لگتا ایسا تھا کہ جیسے معاذ اللہ کوئی اللہ پر احسان چڑھانے آ گئے ہوں، اب ہوا ایسا کہ جیسے ہی ذی الحج کے ایام شروع ہوئے، پانچ چھ ذی الحج کا واقعہ ہو گا کہ اس کے خاوند کی طبیعت ذرا خراب ہوگئی، ہسپتال پہنچا دیا گیا، انہوں نے بتایا کہ اس کو ہارٹ اٹیک ہے، دل کا دورہ پڑا ہے، انہوں نے اس کو آئی سی یو میں رکھا، حتیٰ کہ وہ دن آ گیا جب عرفات جانا تھا، تو یہاں کا ایک دستور ہے کہ جو لوگ حج کی نیت سے آئے ہوئے ہوں،ہسپتال والے ان کو اپنی ذمہ داری پر ایمبولینس کے اندر لے جاتے ہیں اور وقوف عرفہ کروا کر پھر واپس لاتے ہیں اور ان کے ساتھ ڈاکٹر اور ساری میڈیکل ٹریٹ مینٹ ہوتی ہے، یوں سمجھیں کہ ایک چھوٹا سا ہاسپٹل ان کے ساتھ ہوتا ہے تاکہ ان کا حج ہو جائے تو انہوں نے اس کو کہا کہ یہ فارم بھر دو تاکہ ہم آپ کے حج کا انتظام کر دیں، خاوند صاحب کہنے لگے کہ نہیں مجھے فارم نہیں بھرنا،کیوں نہیں بھرنا؟ تو اس نے کہا کہ میں چلا تھا وہاں سے حج کرنے، خدا کا گھر دیکھنے، پھر اللہ نے مجھے ہارٹ اٹیک کیوں دیا؟ سوچ دیکھئے کہ میں تو اس کا گھر دیکھنے آیا تھا، اس نے کیوں مجھے دل کا دورہ دیا، لہٰذا مجھے اب عرفات نہیں جانا، ڈاکٹر منتیں کر رہے ہیں کہ دستخط کر دو تاکہ ہم آپ کو وقوف عرفات کروائیں،

اس نے کہا نہیں، جب اس نے انکار کر دیا تو ڈاکٹروں نے اس کی بیوی سے کہا کہ آپ تو خیمہ میں ہیں، جو معلم ہیں اس کی عمارت میں ہیں، ائیرکنڈیشن کمرے میں ہیں، آپ دستخط کر دیں تاکہ ہم آپ کو وقوف عرفات کروا کر واپس لائیں، بیوی نے بھی کہا نہیں، مجھے بھی عرفات نہیں جانا، چنانچہ تمام لوگ وقوف عرفات کرکے آ گئے لیکن نہ اس بیوی نے وقوف عرفہ کیا اور نہ اس کے خاوند نے کیا اور حج کیے بغیر بالآخر یہاں سے واپس چلے گئے۔

حسرت ہے اس مسافر مضطر کے حال پر۔۔جو تھک کے رہ گیا ہو منزل کے سامنے۔منزل بھی سامنے ہے اور توفیق چھن گئی، یہ منظر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جو مال کے ناز پرآتے ہیں اللہ قریب لا کر ان کو محروم لوٹا دیتے ہیں، اس لیے اس چیز کا تعلق اعمال کے ساتھ ہے، طلب کے ساتھ ہے، جتنی طلب ہو گی، اتنا اللہ راستہ کھولیں گے، ایک دفعہ نہیں بار بار راستہ کھولیں گے، آپ اچھی طرح عمرہ کریں، اچھی طرح سے یہاں وقت گزاریں، اللہ آپ کے لیے باربار راستہ کھول دیں گے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
05 May, 2017 Total Views: 3251 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB