ھم نسل در نسل اچھے خواب دیکھتے دنیاسے رخصت ھوتے رھیں گے

(Mian Khalid Jamil, Lahore)

ڈان لیکس میں جن کرداروں نے ھوا بھری تھی انہوں نے ھی اسکی ھوا نکال دی اور پانامہ کیس میں دو ججز کا فیصلہ ساری قوم کےسامنے جبکہ باقی تین نے بھی صادق امین سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کا اشارے دیدیاتھا اور اب جسٹس اعجازافضل کا نوازشریف کی بدنامی کو صاف کرنے کیلئے بیان داغ کر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ پر اٹیک کرنا بھی کسی کے اشارے پر ھوا۔۔ قصہ مختصر کہ : نیوز لیکس کا انجام زیرو نکلا اور یہ پانامہ کیس سے زیادہ اسلئے اھم تھا کہ یہ پاکستان کے داخلی امور سے متعلق تھا اور ملک و قوم کی سلامتی کے ضامن اداروں کے حوالے سے تھا اور یہ کیس بخیریت انجام کو پہنچ گیا اور قرائن کہتے ھیں کہ جنرل زبیر کو دوران سعودی عرب دورے پر اس کیس پر پیشرفت نہ کرنے پر دباؤ دیا گیا یوں ڈان لیکس کا طوفان آنا فانا اپنے اختتام کو پہنچ گیا اور رھا پانامہ کیس جو کرپشن سے متعلق ھے۔۔ تو جب ڈاکٹر عاصم، ایان علی، حامد سعید کاظمی، شرجیل میمن و دیگرز کو کچھ نہیں ھوا تو نوازشریف تو پھر "ڈون" ھے اسے کون کیا کہہ سکتاھے؟؟ پانامہ کیس بھی پاجامہ ثابت ھوگا۔۔ پاکستانی عوام کی بدقسمتی ھے کہ یہ سر زمین سوویت یونین ھو یا اقوام متحدہ کے زیرسایہ یا اسلامی اتحادی افواج۔۔ ھماری افواج کرائے کی ثابت ھمیشہ ھوئی ھے یوں یہاں کچھ تبدیل نہیں ھونیوالا البتہ اندرون ملک تبدیلی ساری قوم دیکھتی ھے کہ شہروں میں گندگی کے ڈھیر، قانون کی کوئی پاسداری نہیں جبکہ اسی ملک کے شہروں کی فوجی چھاؤنیوں کی حدود میں داخلے کے وقت ایسا محسوس ھوتاھے کہ جیسے یورپی ممالک کے باشندے دوسرے یورپی یونین میں شامل کسی دوسرے ملک کی سرحد پار کرنے کے مقام پر اپنے سفری کاغذات چیک کرواتے ھیں اور یوں یہاں ھمیں کینٹ ایریاز کی صفائی ستھرئی سڑکوں کے دونوں اطراف باغات اور فوجی افسران کی ھاؤسنگ سوسائیٹیز میں انکا رھن سہن ماحول کہ جیسے واقعی آپ یورپ میں آگئے ھوں، شہروں میں بچا کھچا ڈینگی سپرے بعد میں ھوتاھے جبکہ کینٹ میں ذمہ داری سے پہلے ھی بہترین کیاجاتاھے اور اس امتیاز کو آج بڑے سیاستدانوں نے بھی اپنے لئے مخصوص کر لیا ھے۔۔ فیڈریشن کی مضبوطی صرف امریکی کولیشن فنڈ سمیت غیر ممالک کی فنڈنگ کے مرھون منت ھے اور جب اسکے بند ھونے کی خبریں آنا شروع ھوتی ھیں تو کینٹ کی اقوام کے دل حلق کو آجاتے ھیں کہ انکا عیش وعشرت کا سامان کیسے پورا ھوگا؟ اور جس دن امریکہ سمیت تمام ممالک نے ایسے فنڈز روک لئے اور اپنی دلچسپی پاکستان سے مکمل ختم کردی اس دن کے بعد پاکستان میں بلوچستان کی سرزمین جو آدھی ایران میں ھے اور دونوں جانب قبائل سسٹم پر بلوچستان منقسم ھے اور آپس کے میل جول رسم و رواج آج بھی بدستور قائم ھیں تو نتیجے میں شیعہ کمیونٹی بلوچستان کو ایران کیساتھ ملادیگی جبکہ آدھا کشمیر پاکستان کے زیرانتظام اور آدھا بھارت کے پاس ۔۔ تب یہ دونوں اطراف والے بھی آپس میں مل کر آزادی کا نعرہ بلند کر دیں گے۔۔ فاٹا سمیت تمام افغان پختون سرحدی علاقہ جو ڈیونڈر لائن کہلاتاھے اور دنیا کا دوسرا بڑا پہاڑی سلسلہ "ھندو کش" بھی اسی پاک افغان سرحد کے درمیان کئی جگہ پر حائل ھے اور دونوں اطراف کے پختون قوم کے رسم و رواج اور میل جول روز مرہ کا معمول ھے اور یہ بھی بالآخر کسی موقع پر آپس میں مل کر الگ ھوسکتے ھیں ۔۔ آدھا پنجاب بھارت میں اور آدھا پنجاب پاکستان میں اور یہاں بھی رسم و رواج دونوں اطراف یکساں ھیں بس درمیاں سرحد حائل ھے اور 5 ھزار سال پرانے سندھ کی ثقافت و کلچر بھی قائم و دائم ھے۔۔ جب برصغیر تھا اور آج۔۔ یہاں سندھ میں جاگیرداروں کا راج ھے اور رھے گا اور انگریزوں نے جاگیرداروں سے سازباز رکھ کر وقت نکالا اور جب انگریز چلےگئے تو یہ جاگیردار آج بھی ویسے ھی ھیں تو اس تناظر میں فیڈریشن کا تصور کہاں ھے؟؟ کیا پاکستان کی چاروں مختلف اقوام آج ایک قوم ایک کلچر کیجانب مائل ھو کر ایک ثابت ھو گئیں؟؟ اور جہاں معمولی ڈاکو جعلی پولیس مقابلے میں مارے جائیں جہاں قاتل فوری پھانسی لگ جائے جبکہ احسان اللہ احسان جیسے دھشت گرد کو ھیرو بناکر پیش کیاجائے جو تمام دھشت گردی واقعات کے اعتراف کیساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دے کہ ھمیں انڈین راء سے مدد ملتی تھی اور جہاں فراریوں کو پہلے غدار کا لقب دیا جائے پھر انہیں ہتھیار پھینک کر گلے لگالیاجائے اور اس ملک میں انصاف کا دوھرا معیار ھرسطح پر ھو تو کیا پھر نوازشریف چاھے سپریم کورٹ کے ریکارڈ کو بھی آگ لگوا دے اور ماڈل ٹاؤن جیسے روزانہ وقعات کرادے تو ڈر کس بات کا؟؟ یہ سرزمین جب ھے ھی ان جیسوں کی جہاں کوئی قانون کوئی سرحد نہیں اور یہ سرزمین ھر کسی کیلئے چراغ گاہ اور شکار گاہ ھے جہاں کی فورسز سوویت یونین ھو یا اسلامی اتحادی افواج ۔۔ یہ فورسز کرائے پر دستیاب ھے اور ڈالروں کے عوض جہادی بھی دستیاب ھیں اقوام متحدہ کے امن مشن میں ھماری فورسز دنیا میں سب سے زیادہ حصہ بن کر امدادی رقوم کھائے تو اس میں کیا برائی ھے کہ دفاع کے نام پر ایک طبقہ تو خوشحال ھے نا؟؟ اور یہ ملک طاقتور بدمعاشوں کی یونین کی ملکیت ھے جہاں ساری قوم بنو اسرائیل قوم بنی بیٹھی ھے جن پر فرعون جیسے بادشاہ مسلط ھیں اور یہاں یا تو کوئی موسی پیدا ھو گا تو سب درست ھوگا یا پھر اللہ تعالی خود اسباب پیدا کریگا تب حقیقی آزادی ملے گی ورنہ ھم یوں ھی نسل در نسل اچھے خواب دیکھتے دیکھتے دنیاسے رخصت ھوتے رھیں گے۔۔۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
06 May, 2017 Total Views: 310 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Independent social, electronic, print media observer / Free lance Columnist, Analyst.. View More

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 163 Articles with 33652 views »
Reviews & Comments
A One Column
By: Mian Shahid, Lahore on May, 07 2017
Reply Reply
1 Like
سچائی سامنے پر شکریہ میاں صاحب
By: Agha Amjad, Lahore on May, 07 2017
Reply Reply
2 Like
This is one most important column on reality basis
By: Kon Hay Don, Lahore on May, 07 2017
Reply Reply
3 Like
Wonderfull column
By: Ali Abid Ali, Lahore on May, 07 2017
Reply Reply
2 Like
Fantastic column
By: Wafafadaar Hein Hum, Lahore on May, 07 2017
Reply Reply
2 Like
اندرون پاکستان ' زمینی حقیقت سے اس کالم کے ذریعے سے معلومات ملی ھیں جو کم ھی کالم نویس لکھ پاتے ھیں
کالم نویس میاں خالد جمیل زندہ باد
By: Abu Hamza, Lahore on May, 07 2017
Reply Reply
2 Like
سچائی پر مبنی اک حقیقی کالم ۔۔ زندہ باد
By: Abid Hussain, Lahore on May, 07 2017
Reply Reply
7 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB