جنرل راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی

(Syed Anis Bukhari, Karachi)

سعودی عرب نے ہمیشہ تکفیری وہابیت کو پھیلانے میں پورے عالم اسلام میں مختلف طریقوں سے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل سے اندرون خانہ سازشوں کا جال بچھا کر دہشت گردی میں اربوں ڈالرز جھونک کر لاکھوں بے گناہ اور معصوم انسانوں کو بربریت کی بھینٹ چڑھایا اور لاکھوں لوگ اس دہشت گردی میں اپاہج ہو چکے ہیں جو آج بھی پوری دنیا میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔اپنی تکفیری سوچ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں جہاں لاکھوں بے گناہوں کو موت سے ہمکنار کیا وہیں مختلف اوقات میں مختلف الائینس بنانے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں جنکا ذکر یہاں اگر کیا گیا تو بحث کافی طویل ہو جائیگی۔ ہم یہاں 15دسمبر 2015ء کے اس اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کا ذکر کرینگے جس میں 34 اسلامی ممالک شامل ہیں جسکے قیام کا اعلان سعودی عرب کے فرمانروا سلمان بن عبد العزیز آل سعود کے بیٹے اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان نے کیا تھا اور آ ج ان 34ممالک کے اس فوجی الائینس کا سربراہ پاکستان کا فوجی جرنیل جنرل راحیل شریف ہے جو حال ہی میں ریٹائر ہو کر پاکستان کی آشیر باد سے اس اسلامی افواج کے اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے پوری دنیا کے سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب چونکہ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ ذاتی دوست کی حیثیت رکھتا ہے اور نواز شریف کو اسکی جلاوطنی کے موقع پر سعودی عرب میں پناہ فراہم کی تھی لہٰذا سعودی عرب اب اسکا خراج اس اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان کو شامل کرکے وصول کرنا چاہتا ہے جو ہمارے لئے کسی طور بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔گو کہ بظاہر مسلم ممالک کے اس اتحاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے معرض وجود میں لایا گیا ہے مگر اندرون خانہ اسکے پیچھے چھپے ہوئے عزائم کچھ اور ہیں اور وہ عزائم ایک خاص حکمت عملی کے ذریعے حاصل کرکے اسرائیل اور سعودی عرب کو تقویت پہنچانا اور ان مسلم ممالک جو اسرائیل کیساتھ کسی طور بھی صلح پر آمادہ نہیں ہیں انہیں دہشت گردی کے ذریعے تباہ و برباد کرنا ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں سعودی عرب کی شام میں اور یمن میں مداخلت ہے جہاں وہ مختلف دہشت گردگروپ تشکیل دیکر انہیں اسلحہ فراہم کرتا ہے اور یہاں دہشت گردی کرواتا ہے۔ پورے عالم اسلام میں مساجد، مزارات ، امام بارگاہوں اور اسی طرح عبادتگاہوں پر حملے کروانا اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنا اس تکفیری فکر کے وہ ٹھوس شواہد ہیں جو ہم پاکستان میں بھی آئے روز دیکھتے ہیں اور انمیں ملوث وہ تمام دہشت گر د جو پکڑے جاتے ہیں وہ تمام کے تمام اسی تکفیری سوچ کے حامل ہیں جنکے تانے بانے سعودی عرب اور پاکستان میں موجود ان تکفیری سوچ رکھنے والے وہابی مدارس سے ملتے ہیں جو پاکستا ن میں پائے جاتے ہیں۔

اس اسلامی فوجی اتحاد میں بہت سے اسلامی ممالک شامل نہیں ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسے اسلامی اتحاد کا نام دیا گیا ہے تو اسمیں وہ ممالک شامل کیوں نہیں ہیں جو تکفیری سوچ کے مالک نہیں ہیں ؟ اور وہ ان سے اختلاف رکھتے ہیں اور یہی وہ تکفیری سوچ کے حامل شدت پسند ہیں جنہوں نے اتحاد بنا کر پورے عالم اسلام میں دہشت گردی کا جال بچھانے کا پروگرام بنایا ہے جسکی سربراہی امریکہ ، برطانیہ اور سعودی عرب کر رہے ہیں۔امریکہ ، برطانیہ ، اسرائیل اور سعودی عرب ایک ایسا گٹھ جوڑ ہے جسے ہم شیطنت کا محور قرار دیتے ہیں۔ ان ممالک کا سب سے بڑا ہدف مشرق وسطیٰ کے ممالک جن میں شام، عراق، ایران، بحرین، لبنان، یمن اور آزربائیجان شامل ہیں جو کل مسلم دنیا کے 13-20فیصد شیعہ مسلمان آبادی والے وہ ممالک ہیں جو ہمیشہ سعودی عرب کی ہٹ لسٹ پر رہے ہیں ۔ سعودی عرب تکفیری فرقے وہابی گروپ کا وہ بانی ہے جو ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہے کہ کسی طرح وہابیت کے مقاصد کو اجاگر کرکے اسکی تکمیل کی جائے اور وہابیت کو مضبوط کرکے شیعہ فرقے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے ویسے تو یہ کوششیں 661 سے ہو رہی ہیں مگر 1960ء میں خاص طور پر سعودی عرب نے جب مصر کے جمال عبد الناصر کی مغربی اور سعودی عرب کی بادشاہتوں کیخلاف اسکے سوشل پروگرام جسے نصرازم کے نام سے جانا جاتا تھا شروع کیا تو مغرب اور سعودی عرب کیلئے یہ موت کی حیثیت رکھتا تھا اور یہ اپنی حکومتوں کو بچانے کیلئے سر گرم ہو گئے اور سعودی عرب نے امریکہ اور برطانیہ سے مل کر اسلامی شدت پسندوں پر مشتمل ایک دہشت گردتنظیم بنائی جو مصر میں سر گرم عمل رہی ۔ سعودی عرب نے پوری عرب خطے میں اپنی حکومت اور تاج کو بچانے کیلئے ہمیشہ سعودی سر زمین پر واقع مکہ مکرمہ، مدینہ اور اسی طرح روزہ رسول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور انکی آڑ میں تا حال اپنی حکومت کے خلاف ہونے والی تمام بغاوتوں کو اسلام کے خلاف سازش قرار دیکر وہاں پر دہشت گردی کے ذریعے یا پھر بم برسا کر ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ سعودی عرب نے 2015ء میں ایک اسلامی بلاک جسمیں افریقی ممالک، متحدہ عرب امارات، سوڈان، بحرین، کویت، مصر، اردن، ماراکو شامل تھے تشکیل دیا اور یمن میں حوثی باغیوں کیخلاف26 مارچ کو انکے خلاف آپریشن کا اعلان کر دیا اور حوثیوں کے ٹھکانوں پر یمن میں ہوائی حملے شروع کر دیئے اور بے تحاشہ بم برسائے گئے جس کے نتیجے میں ہسپتالوں ، شہری آبادیوں اور بچوں کے اسکولوں میں ہزاروں لوگوں کو مارا گیا یہاں تک کہ ایک جنازے میں سینکڑوں لوگ شامل تھے اور لوگ جنازہ پڑھنے میں مصروف تھے کہ ان پر جہاز وں کے ذریعے شدید بمباری کی گئی اور وہ تمام کے تمام اس حملے میں ہلاک ہو گئے بین الا اقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دو سالوں میں سعودی عرب نے انسانی جانوں کا اتنا نقصان نہیں کیا جتنا اس روز کیا گیا ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں بچے ، عورتیں اور مرد ہزارو ں کی تعداد میں مر چکے تھے اور زخمی ہو چکے تھے ۔

مشرق وسطیٰ میں شام، یمن، عراق اور فلسطین میں ہونے والی دہشت گردی کا اصل منبع سعودی عرب کی وہ تکفیری سوچ ہے جسے وہ دہشت گردی کے ذریعے ان ممالک کو کمزور کرکے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھیپی نہیں کہ شام نے اسمیں موجود وہ دہشت گرد اور باغی جو شام میں آئے دن دہشت گردی کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کیلئے بے گناہ لوگوں کا قتل عام کر رہے تھے ان کے گر د گھیرہ تنگ کرکے انہیں نیست و بابو د کرنے میں انتہائی مضبوط کردار ادا کیا مگر سعودی عر ب نے وہاں سازشوں کا جال پھیلا کر برطانیہ ، امریکہ اور اسرئیل کی مدد سے دہشت گرد باغیوں کو اسلحہ مہیا کیا اور شام میں حالات خراب کرکے وہاں پر لاکھوں لوگوں کو بے گھر کروایا، لاکھوں لوگوں کو زخمی کیا گیا اور لاکھوں لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں جسکی تمام تر ذمہ دار سعودی عرب پرعائد ہوتی ہے۔اصل میں اس تمام فساد کی جڑ اسرائیل ہے جو اپنی پالیسیوں کو برطانیہ اور امریکہ کے ذریعے سعودی عرب کی مدد سے مسلم ممالک میں انتشار کی کیفیت پیدا کرکے نہ صرف سعودی عرب کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے بلکہ وہ شام کے ان علاقوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے جو اسکے قریب لگتے ہیں۔ آ ج شام میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سعودی عرب کی تکفیری دہشت گردی سے ان علاقوں میں تباہی اور بربادی کا وہ ایجنڈہے جو امریکہ اور برطانیہ اسرائیل کے مفادات کیلئے سعودی عرب کے ذریعے مسلم اُمّہ میں پھوٹ ڈالوا کر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے بظاہر تعلقات اور اندرون خانہ تعلقات کو ہمیں دو مختلف زاویوں سے دیکھنا ہے۔ مثال کے طور پر 2005ء میں سعودی عرب نے اندرون اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ ختم کر دیا تھامگر یہ بائیکاٹ بظاہر امت مسلمہ کو دکھانے کیلئے تھا اور اندرون خانہ یہ تعلقات جاری رہے اور اسرائیل کی معاشی پالیسیوں کو مضبوط کرنے کیلئے امریکہ اور برطانیہ کے کہنے پر سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران کے خلاف ہونے والی سازشوں میں خفیہ معلومات کا تبادلہ جاری رکھا کیونکہ اسرائیل کے ساتھ ایرانی مخالفت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کو ایران کے ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرنے کیلئے انپی سر زمین کی پیشکش بھی کی تھی۔ اسی طرح 1981ء میں اسرائیل نے عراق کے ایٹمی پلانٹ پر حملہ کیا جس میں سعودی عرب نے اسرائیل کی در پردہ مدد کی جو آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ اسی طرح 2011ء میں اسرائیل نے جرمن کو سعودی عرب کو 200 لیوپرڈ ٹینک دینے میں مکمل طور پر اسکی سفارش کی تھی ۔2014ء میں اسرائیل غزہ کی کشمکش میں سعودی عرب نے اسرائیل کی اندرون خانہ مدد کی اور موساد اور عرب کی خفیہ ایجنسیوں نے باہمی طور پر روابط قائم رکھے اور اسرائیل کو یہ معلومات فراہم کرکے غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کو تہہ و تیغ کیا گیا۔اسی طرح اسرائیل نے سعودی عرب کو یمن کے بارڈر پر لگے ہوئے راکٹوں کے توڑ کیلئے ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ 13 جولائی 2016 ء کو سعودی عرب کے ایک ریٹائرڈ جرنیل نے اسرائیل کا دورہ کیا جس میں تعلیم اور ثقافتی تعلقات کی ترویج کے بارے میں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کی گئی اور یہ بات طے گئی کہ سعودی عرب کے عوام میں اسرائیل کے یہودیوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت کو ختم کیا جائے تاکہ حالات کو بہتر بنا کر اپنی معیشت کو مضبوط کیا جائے کیونکہ اسرائیل وہ ملک ہے جو امریکہ کی معیشت کو کنٹرول کرتا ہے۔

القائدہ اور داعش امریکہ ، برطانیہ اور سعودی عرب کی تخلیق کردہ وہ تکفیری وہابیت سوچ رکھنے والی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جنہیں امریکہ ، برطانیہ اور سعودی عرب مالی امداد اور اسلحہ فراہم کرتے ہیں اور یہ دہشت گر د تنظیمیں مسلم ممالک میں اپنی دہشت گردی کا جال پھیلا کر وہاں پرخونریزی کرتی ہیں۔ امریکہ نے حال ہی میں شام پر الزام لگایاکہ اسنے شامی باغیوں پر کیمیاوی ہتھیاروں سے حملے کئے ہیں جو ایک بہت بڑا جھوٹ اور فراڈ تھا جیسا کہ اسنے عراق پر الزام لگایا تھا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سب امریکہ کا پروپیگنڈہ تھا۔ امریکہ کا داعش کے ٹھکانوں پر حملے کی آڑ میں شام کے شہرئیوں پر بمباری کرکے لاکھوں شامیوں کو ہلاک ، زخمی اور بے گھر کر چکا ہے۔

عرب کی تاریخ میں ستمبر 1970ء کو بلیک ڈے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس میں پاکستان کے (جنرل ) اسوقت کے بریگیڈیر ضیاء الحق جو کہ 1967-1970ء تک ایک معاہدے کے تحت ملٹری کی ٹریننگ کے سلسلے میں تعینات تھے اور سیکنڈ ڈویژ ن کی کمانڈ کر رہے تھے انہوں نے انتہائی بے دردی اور بے رحمی سے فلسطینی مجاہدین جو کہ اسرائیل کے خلاف سر بکف تھے اور اپنی آزادی کی لڑائی میں مصروف
تھے انہیں گلیوں اور بازاروں میں چن چن کر شہیدکر دیا گیا ۔ اسرائیل کے بانی دادا موشے دایان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اتنے فلسطینی نہیں مارے جتنے فلسطینی جنرل ضیاء الحق نے ان گیارہ دنوں میں ماردئے
وہ کہتا ہے کہ اتنے فلسطینیوں کو تو اسرائیل 20سالوں میں بھی نہیں مار سکتا تھا۔جنرل ضیاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسنے اسلام کے نام پر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر عرب میں اسرائیلی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جس سے فلسطینیوں کے دلوں میں پاکستان کے بارے میں شدید نفرت پائی جاتی ہے۔

پاکستان کے موجودہ حالات انتہائی مخدوش ہیں اسوقت پاکستان اندرونی اور بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کا عفریت ہے جو روز بروز پاکستان کی عسکری طاقت کو کمزور کر رہا ہے ۔ عسکری اداوروں پر حملے، عام عوام کا قتل عام اور دوسری طرف دہشت گردی سے ڈھیر ہوتی ہوئی پاکستانی معیشت ، افواج پاکستان کی شہروں میں مصروفیت اور ہزاروں فوجیوں کی شہادتیں، توٹتا پھوٹتا ہوا سیاسی ڈھانچہ، مسائل میں گھری ہوئی اور ہچکیاں لیتی ہوئی نواز شریف کی حکومت شاید اس بات پر اندرون خانہ خوش ہے کہ 2018ء میں ہونے والے انتخابات میں امریکہ اور سعودی عرب اپناکردار ادا کرکے شاید ایک بار پھر انہیں بر سر اقتدار لے آئیں اور جنرل راحیل شریف کا اتنی جلد پاکستان کے انتخابات سے پہلے اسلامی فوج کی سربراہی کو قبول کرنا بھی اس کڑی کا ہی حصہ ہے جسکا سرٹیفیکیٹ نواز شریف نے انتہائی جلد بازی میں جاری کر دیا ہے جو آنے والے وقتوں میں پاکستان کیلئے انتہائی خطرناک ہوگا۔ پاکستان کا اس اسلامی فوج کے اتحاد کا حصہ بننا جس میں بہت سے اسلامی ممالک خاص طور پر ایران ، یمن ، قطر ، شام اور عراق کے علاوہ اور دوسرے ممالک شامل نہیں ہیں انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بسنے والے شیعہ ایران کے ساتھ اپنے فرقے کی وجہ سے منسلک ہیں اور انتہائی گہرے تعلقات رکھتے ہیں جبکہ سعودی عرب پاکستان میں بسنے والے شیعوں اور ایران کے ان گہرے تعلقات پر نہ صرف خفا ہے بلکہ پاکستان میں شیعوں کے قتل عام میں بھی دہشت گرد تنطیموں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سعودی عرب کی نگرانی میں بنایا جانے ولا یہ فوجی اتحاد صرف اور صرف سعودی عرب کے مفادات کیلئے بنایا جا رہا ہے جبکہ پوری دنیا کو یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ یہ فوجی اتحاد دہشتگردوں سے نمٹنے کیلئے بنایا گیا ہے جو ایک سفید جھوٹ ہے کیونکہ اگر یہ اتحاد دہشتگردوں کے مقابلے کیلئے بنایا گیا ہے تو سعودی عرب، امریکہ اور برطانیہ دہشت گردوں کو ہر قسم کی امداد کیوں فراہم کرتے ہیں؟ پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے جبکہ ایران اور سعودی عرب برسوں سے ایک دوسرے سے فرقہ وارانہ مخاصمت رکھتے ہیں اور ایران جنرل راحیل کی سربراہی میں قائم ہونے والے اس اسلامی فوجی اتحاد پر کبھی بھی خو ش نہیں ہوگا۔ جسے دہشت گردی کے خاتمے کے پردے میں چھپا کرکے سعودی عرب اس خطے میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور اسکے برے اثرات نہ صرف پاکستان پر بلکہ اس پورے خطے پر پڑینگے۔خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ ہمارے ملک میں ہمارے دارلخلافہ اسلام آباد میں شیعہ اور وہابی سنیوں کا 8 جنوری 2016ء کو ہو چکا ہے کہ دونوں فرقے آمنے سامنے تھے ایران اور سعودی عرب کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور ایکدوسرے کو برا بھلا کہا گیا اگر ایسے واقعات رونما ہوتے رہے تو خدشہ ہے کہ کہیں خانہ جنگی کی سی کیفیت نہ شروع ہو جائے جو ہمارے لئے نا قابل برداشت ہوگی۔کیونکہ ایران عراق جنگ کے دوران سعودی عرب کا وہ چہرہ کھل کر سامنے آ گیا تھا جس میں سعودی عرب نے ایران کی مخالفت میں عراق کی ہر طرح کی عسکری مدد کی تھی۔ اور خدا نخواستہ اگر مستقبل میں کسی بھی ملک کے ساتھ ایسے مسائل پید ہو گئے توپھر پاکستان کہاں پر کھڑا ہوگا؟ اسی طرح جب یمن کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات خراب ہوئے تو سعودی عرب نے پاکستان کا نام اپنے طور پر اپنے اتحادیوں میں بغیر پوچھے شامل کر لیا تھا جس سے بین الاقوامی طور پر پاکستان پر بہت برے اثرات نے جنم لیا ۔ جب تک ہم اپنے ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے نہ اکھاڑ پھینکیں ہمیں دوسرے ممالک کی جنگ میں نہیں کودنا چاہئے ۔ اور ہماری سب سے بڑی ناکامی یہی ہوگی کہ ہم دوسروں کے مفادات میں اپنے ملک کی تباہی کی طرف گامزن ہوں ۔ کہیں اس خطے میں ایسے حالات تو پیدا نہیں کئے جار رہے جن سے پاکستان اور اس خطے کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا مقصود ہو ۔ہمیں اس بات کا مطالعہ بھی کرنا ہوگا کہ کہیں مغربی طاقتیں ایک چال کے ذریعے مسلم ممالک کو ایک دوسرے کیخلاف اکٹھا کرکے انہیں آپس میں تو نہیں لڑوانا چاہتیں۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے جبکہ ایران بھی اندرون خانہ ایٹمی قوت رکھتا ہے اور کہیں یہ مغربی استعماری چال تو نہیں جو اندرون خانہ انتہائی چابکدستی سے مسلمانوں میں تفرقے کی فضاء پیدا کرکے یہاں کے حالت کو ہمیشہ کیلئے ایک بار پھر تہہ وبالا تو نہیں کرنا چاہتیں جبکہ ضرب عضب میں ہماری عسکری قوت نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے مگر شاید انہیں دوبارہ مضبوط کرنے کیلئے یہ کوئی چال تو نہیں اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو خطے کا امن تباہ ہو جائیگااور ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہونگی۔پاکستان کو چاہئے کہ وہ خود کو ایسے تمام اتحادوں سے جو ہمارے خطے کے امن کی بربادی کا باعث بنیں خود کو ان سے علیحدہ رکھ کربھائی چارہ قائم کرنے کی ضرورت کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ہمارے چاروں طرف وہ طاقتیں جو ہمارے دشمن کیساتھ مل کر اس موقع کی تلاش میں ہیں کہ جونہی ایسے حالات پیدا ہوں وہ ہمیں مشکلات سے دو چار کردیں اس صورتحال میں ہمارے لئے بہت مشکل ہو جائیگا۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
29 Apr, 2017 Total Views: 281 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 56 Articles with 19265 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB