آخر میں آنے والا ہی انعام کا حقدار ٹھہرا

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

ایک بادشاہ نے ایک شاہراہ بنوائی اور پھر اس پر ایک دوڑ کا اعلان کیا، جس میں تمام شہری حصہ لیں اور جو سب سے اچھا سفر کرے گا بادشاہ اُسے اِنعام دے گا۔

سب نے حصہ لیا۔ بادشاہ سب دوڑنے والوں کے تاثرات پُوچھتا رہا ۔ سب نے شاہراہ کی تعریف کی اور بتایا کہ شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے ۔ اگر اُسے اُٹھوا دیا جائے تو بہت اچھا ہو ۔ شام تک سب لوگ چلے گئے-

ایک سپاہی نے خبر دی کہ دوڑ میں حصہ لینے والوں میں سے ایک آدمی ابھی آنا باقی ہے ۔ کچھ دیر بعد ایک شخص تھکا ہارا ہاتھ میں ایک تھیلی پکڑے پہنچا اور بادشاہ سے مخاطب ہوا "جناب عالی ۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑا ۔

راستہ میں کچھ بجری پڑی تھی ۔ میں نے سوچا کہ اِس شاہراہ سے گزرنے والوں کو دقّت ہوگی ۔ اُسے ہٹانے میں کافی وقت لگ گیا ۔ بجری کے نیچے سے یہ تھیلی ملی۔

اس میں سونے کے سِکّے ہیں ۔ جس کے ہوں اُسے دے دیجئے گا ۔

بادشاہ نے کہا " یہ تھیلی اب تمہاری ہے ۔ میں نے رکھوائی تھی ۔ یہ تمہارا انعام ہے ۔ بہترین مسافر وہ ہوتا ہے جو مستقبل کے مسافروں کی سہولت کا خیال رکھے"-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
20 Apr, 2017 Total Views: 1741 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB