مور اور اسکے پر

(Zeena, Lahore)

ایک حکیم جنگل میں گھوم پھر رہا تھا ۔ سر سبز و شاداب جگہ میں اسنے ایک مور کو دیکھا۔ مور اپنے خوبصورت پروں کو اکھیڑ رہا تھا۔ حکیم کو یہ ماجرہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی۔ وہ مور کے قریب گیا اور کہنے لگا “ اے طوس! کیا تیرے حواس جاتے رہے کہ اتنے حسین اور خوبصورت پروں کو اس بے دردی سے اکھیڑ رہا ہے کیا تجھے یہ احساس نہیں کہ تیرا ایک ایک پر لوگ کیسے سنبھال کے رکھتے ہیں۔ نشانی کے طور پر یہ مصحف پاک کے اوراق میں رکھے جاتے ہیں۔پھر تیرے نازک پروں کی پنکھیاں بنائی جاتی ہیںِ۔ ارے حیوان! تیرا خالق کون ہے ؟ کس نے تیرے بدن پر یہ بے شمار نقش و نگار بنائے ہیں؟ کیا تو اس مصور کو بھول گیا ہے جس نے اپنی مصوری کے لئے تجھے منتخب کیا ہے۔؟ معلوم ہوتا ہے تو غرور میں آ کر اپنی کوئی واضح قطع بنانے کے چکر میں ہے۔“مور نے جب دانش ور کے یہ کلمات سنے تو بے چین سا ہو کر رونے لگا۔ اسکے رونے میں ایسا درد اور اثر تھاکہ وہ حکیم جس نے مور سے پر اکھیڑنے کا سبب پوچھا تھا۔ نادم اور پریشان ہو کر دل میں کہنے لگا، میں نے ناحق اس مور کو چھیڑا۔ پتہ نہیں وہ کس پریشانی میں گھرا ہوا تھا۔

کاش! وہ حکیم جان سکتا کہ مور کے ایک ایک آنسو میں کیا کیا راز پوشیدہ ہے۔ اسے ان آنسوؤں کی کیا قدر ۔ طاؤس کہا؛ “ اے نادان افسوس ہے تیری عقل و بصیرت پر کہ ابھی تک طلسم رنگ و بو میں گرفتار ہے۔ الٹا مجھے پر اکھیڑنے پرمطعون کرتا ہے اور مجھے ہی ملزم ٹھرا رہا ہے۔ کیا تو نہیں جانتاکہ ہر طرف سے روز ہزاروں بلائیں انہیں بازوؤں کو لئے میری طرف آتی ہیں۔ظالم شکاری انہی پروں کے لئے ہر طرف جال بچھاتا ہے۔ کتنے ہی سنگ دل تیر انداز ہیں جو انہیں پروں کی خاطرمیری جان ناتواں سے کھیلتا ہے۔ ایسی ناگہانی آفتوں ،ایسی بلاؤں اور ایسی المناک موت سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے کی مجھ میں طاقت نہیں۔ اس لئے یہی راستہ نظر آیا کہ ان بلائے جان پروں کو اکھیڑ دوں اور اپنی صورت کو مکرو بنا لوں تاکہ پہاڑوں اور میدانوں میں بے فکر ہو جاّوں۔“ میرے نزدیک جان کی حفاظت بال وپر کی حفاظت سے زیادہ ضروری ہے۔ جان تو محفوظ رہے جسم کی ابتری کا جان کے مقابلے میں کیا غم۔

نصیحت ؛
اپنے آپ کو بے نام و نشاں اور عاجز بنا کے رکھو تاکہ سہرت سے یہ حالت تم کودور رکھے۔ کیونکہ شہرت سے گؤشہ عافیت چھن جاتا ہے، اور شہرت بہت سی بلائیں اپنے ساتھ لاتی ہے ۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
24 Apr, 2017 Total Views: 1108 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Zeena

I Am ZeeNa
https://zeenastories456.blogspot.com
.. View More

Read More Articles by Zeena: 83 Articles with 61917 views »
Reviews & Comments
nice one.
By: kanwalnaveed, Karachi on May, 26 2017
Reply Reply
0 Like
thank you sister :)
By: Zeena, Lahore on May, 26 2017
0 Like
Bohat khobsorat naseehat hai .......INSHALLAH AMAL KARUGA.... likhne ka bohat shukria zeena......
By: Usman malik, Gujrat on May, 06 2017
Reply Reply
0 Like
Thnx,,, :)
By: Zeena, Lahore on May, 26 2017
0 Like
very nice selection, thanks lot for sharing.
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on May, 03 2017
Reply Reply
0 Like
thnx bhaiiiiiiii .... :)
By: Zeena, Lahore on May, 26 2017
0 Like
Very nice sis,,,,bhot mazey ki story thi,,,,,,,,,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Apr, 28 2017
Reply Reply
0 Like
thnx mini se ,,,, :)
By: Zeena, Lahore on May, 26 2017
0 Like
outstanding article zeena sis welldone ,,,,,,,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Apr, 25 2017
Reply Reply
0 Like
Thank you umama :)
By: Zeena, Lahore on Apr, 25 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB