پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور صنعتی بحران

(Syed Anis Bukhari, Karachi)

پاکستان جن موجودہ سنگین حالات سے گزر رہا ہے انمیں سر فہرست بجلی کی بحرانی کیفیت اور دہشت گردی ہے مگر سال ہا سال گزرنے کے باو جود ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی کیونکہ یہ دونوں مسائل ان سے تعلق نہیں رکھتے۔ بجلی کی بحرانی کیفیت نے جہاں ہماری عام عوام کیلئے مشکلات اور مسائل پیدا کئے ہوئے ہیں وہیں یہ دہشت گردی کے حوالے سے بھی ہمارے ملک کیلئے ایک خوفناک حد تک سنگین مسلۂ ہے مگر شائدپاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کیلئے یہ کوئی سنگٰں مسلۂ نہ ہو اور انکا سب سے بڑا مسلۂ اپنی حکومت کو بچانا ہے۔عوام پر چاہے جتنی بھی مشکلات آئیں وہ بار بار انکے دام میں پچھلے تیس سالوں سے ایسے ہی پھنستے چلے آ رہے ہیں کیونکہ ہماری 65فیصد عوام کو نہ ہی اپنے ووٹ کی اہمیت کے بارے میں علم ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ انکے منتخب کئے ہوئے نا اہل حکمران اپنے ذاتی مفادات کیلئے پاکستان کی جڑوں کو کسطرح کھوکھلا کر رہے ہیں۔ نہ ہی پینے کا صاف پانی ہے نہ بجلی ہے اور نہ ہی گیس ہے ۔ تعلیم اور صحت کے میدان میں ہما ری غریب اور محنت کش عوام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہے ہر روز بیسیوں پاکستانی بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے چلچلاتی ہوئی گرمی میں مر رہے ہیں موسم گر ما میں ہسپتال گرمی سے متاثر ہ بچوں، بوڑھوں اور کمزور لوگوں سے بھرجاتے ہیں ۔ جہاں تک بجلی کی بحرانی کفییت کا عالم ہے تو پاکستان کے نیشنل پاور گرڈ کی موجودہ ٹوٹل اسطاعت 20000 میگاواٹ ہے۔ لیکن کمزور ٹرانسمیشن لائینز اور انتہائی مخدوش اور بوسیدہ نظام اور حکومت کی نا اہلی اور نا عاقبت اندیشی سے بجلی کی ترسیل میں گرمی کے موسم میں 7000سے 8000میگاواٹ کی کمی واقع ہو جاتی ہے جو عوام الناس کیلئے نا قابل برداشت ہے ۔ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، نئے نئے پروجیکٹس ، صنعتوں اور کالونیوں کی تعمیر ات ہونے سے 2020 تک بجلی کی طلب 90000میگاواٹ تک پہنچ جائیگی جو ہمارے لئے خطرناک صورت حال ہوگی کیونکہ تا حال ہمارے حکمرانوں نے سوائے اپنی حکومت کو بچانے کیلئے عام عوام کیلئے بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے کوئی عملی اقدمات نہیں اٹھائے۔ گرمیوں کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ 12-16گھنٹے تک پہنچ جاتی ہے ۔بجلی کی لوڈ شیڈ نگ کے اس دورانئے میں پاکستان کی 70فیصد آبادی اندھیرے میں ڈوب جاتی ہے جس سے جرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ستائے ہوئے عوام جب سڑکوں پر نکلتے ہیں اور وہ احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کر دیتے ہیں اور ٹریفک کی روانی رک جاتی ہے تو بجلی کے ستائے ہوئے ان لوگوں پرآنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی ہے اور انہیں لاٹھیوں سے مار مار کر لہو لہان کر دیا جاتا ہے اور ان پر گولیاں بر سائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی بحرانی کیفیت کی اصل بنیادی وجوہات حکمرانوں کی بے توجہی رہی ہے جس سے تا حال بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کوئی خاص فرق نمایاں نہ ہو سکا۔نئے ڈیمز کی تعمیر نہ ہونا، مہنگے تیل سے بجلی کی پیداوار، قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار اور گیس کی پیداوار میں کمی کا واقع ہونا، ذیادہ تر سیاستدانوں، تاجروں، صنعتکاروں، جاگیرداروں، سرمایا داروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انصاف فراہم کرنے والی عدلیہ اور واپڈا کے ملازمین اور افسران کا بجلی چوری کرنا اور چوری کرواناہی اصل میں وہ حقیقتیں ہیں جن سے پاکستان کی عام عوام بجلی کی بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں۔اور بجلی کی بحرانی کیفیت اور اسپر آنے والے تمام فالتو اخراجا ت عام غریب عوام کے کاندھوں پر ڈال دئے جاتے ہیں۔جبکہ عیاشی کرنے والے سکون سے ہیں اور عام عوام دن رات مر رہی ہے۔ ماحولیاتی جبر جیسا کہ دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی سطح کا کم ہو جانابھی بجلی کی بحرانی کیفیت کا سبب بنتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بجلی کی پیداوار اور اسکے نرخوں میں ذیادتی کا سب سے بڑا سبب ہے۔اسکے علاوہ واپڈا عوام سے بجلی کے بل تو وصول کرلیتا ہے مگر جن تیل کی کمپینیوں سے وہ بجلی پیدا کرنے کیلئے تیل خریدتے ہیں انہیں انکے قرضہ جات واپس نہیں کئے جاتے اسطرح روز بروز گردشی قرضہ جات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ تیل کمپنیوں سے جتنا تیل خریدا جاتا ہے وہ انتہائی کم مقدار میں ہوتا ہے جس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ اپنی مکمل گنجائش کے مطابق بجلی پیدا نہیں کر پاتے اور بہت سے پلانٹ بند رہتے ہیں جس سے لوڈ شیڈنگ کا عذاب عام اور غریب لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

بجلی کی بحرانی کیفیت جہاں عام عوام پر اثر انداز ہو رہی ہے وہیں ہماری معیشت بھی بر ی طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری، گارمنٹس کی انڈسٹری،گھی اور تیل بنانے والے کارخانے، سرامکس انڈسٹری، کھاد بنانے والی فیکٹریاں، کاسمیٹکس ، ادویات، مشروبات بنانے والی کمپنیاں، سیمینٹ بنانے والی فیکٹریاں، فوڈ پراسسنگ کرنے والی فیکٹریاں، سٹیل ملیں اور دوسری بہت سی فیکٹریاں اور کارخانے مہنگی بجلی حاصل کرنے کی وجہ سے اپنی پیداوری مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں اور اسکا تمام تر اثر خریدار پر پڑتا ہے اور وہ انتہائی مہنگی اشیاء خریدنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح دوسرے ممالک کے مقابلے میں ہماری برامدات میں بھی انتہائی کمی واقع ہوئی ہے جو19 بلین ڈالر رہ گئی ہے یعنی یہ 21.85فیصد کم ہو چکی ہے جو تشویش کا باعث ہے اسکی سب سے بڑی وجہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مصنوعات پر آنے والے وہ دہرے اخراجات ہیں جو ہماری برامدات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں 114ملیں بند پڑی ہیں اور لاکھوں لوگ بے روز گار ہو چکے ہیں جس سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانکا موجودہ بجلی کا نظا م تا حال بے توجہی کا شکار ہے اربوں روپے کے فنڈات میں کرپشن کی جاتی ہے جس سے ترسیل کا نظام مذید بوسیدہ ہوتا جا رہا ہے اور اس موجودہ سسٹم میں صرف 15000/15500میگاواٹ کو برداشت کرنے کی سکت ہے اگر اس سسٹم میں اس سے ذیادہ بجلی کا دباؤ بڑھایا جائے تو یہ سسٹم بیٹھ جائیگا ور پورا ملک اندھیروں میں ڈوب جائیگا۔

حکومت کے بلند بانگ دعوے اور آئے روز کے نعرے کہ وہ 2018ء تک بجلی کے نظام کو بہت بنانے میں کامیا ب ہوجائیگی اور لوڈ شیڈنگ پر قابو پا لیا جائیگا بہت بڑا جھوٹ ہے اور عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔ یہ صرف ایک مکارانہ چال ہے جس سے عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے تا حال بجلی کا شارٹ فال جوں کا توں ہے اور لوڈ شیڈنگ میں بھی کمی نہی آئی جس سے عوام تا حال لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ چونکہ 2018 ء انتخابات کا سال ہے اسلئے ن لیگ کی موجودہ حکومت پاکستان کی عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں جونہی سال 2018ء شروع ہوگا لوڈ شیڈنگ میں کمی کر دی جائیگی اور عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے یہ کمی چار سے چھ ماہ پر محیط ہوگی تاکہ عوام کو تسلی وتشفی رہے اسکے بعد پھر وہی حالات ہونگے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوگی اور بجلی کے درد میں مبتلا بلبلاتی ہوئی عوام ہوگی، احتجاج ہونگے اور روڈ بلاک ہونگے۔

پاکستا ن میں جب سے لوڈ شیڈنگ کا اژدہا اپنا منہ پھاڑے عوا م کو نگلنے کے درپے ہے اسی وقت سے بجلی سے وابسطہ اشیاء جن میں جنریٹر ا س سے متعلقہ پرزہ جات، سولر پلیٹس، بیٹری مینو فیکچرنگ انڈسٹری اور اس میں استعمال ہونے والے وہ پرزہ جات اورسپیئر پارٹس جو باہر سے درآمد کئے جاتے ہیں ان پندرہ سالوں میں انکی مانگ بے حد بڑھ چکی ہے اور اس سے وابسطہ موجودہ حکومت سے وابسطہ کئی وزراء اور دوسرے سیاستدان جو صنعت کار بھی ہیں اور تاجر بھی ہیں انکا اربوں روپے کا کا روبار پاکستان میں ہونے والی بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے وابسطہ ہے ۔اگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جاتی ہے تو انکے اربوں روپے کے کاروبا ر ڈوب جائینگے اور وہ نہیں چاہتے کہ بجلی کا بحران ختم ہو کیونکہ انہیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی انہیں قوم کی مشکلات سے کوئی سرو کار ہے انہیں تو اپنے بزنس سے پیار ہے اور یہ لوڈ شیڈنگ جب تک موجودہ حکومت ہم پر مسلط ہے اسکا ختم ہونا نا ممکن ہے۔

پاکستان کی بجلی کا بحران عام عوام کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہے کیونکہ لوگ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا ہے گرمی سے لوگ مر رہے ہیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کا رش اتنا بڑھ چکا ہے کہ ڈاکٹرو ں سے اس بحران پر قابو پانا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ انڈسٹری بند ہو رہی ہے اور مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی صنعت بیرونی ممالک میں منتقل ہو رہی ہے۔ جس سے پاکستان میں صنعت زوال پزیری کا شکار ہو چکی ہے۔ مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ ہونے کی بجائے کم ترین سطح پر جا رہی ہیں اور اس مہنگائی کے دور میں ایک عام آدمی کا حالات سے مقابلہ کرنا دشوار ہو چکا ہے۔

تعلیم کا معیار اسکولوں میں بجلی کی بندش ہونے کیوجہ سے انتہائی نچلی سطح پر آ چکا ہے اور تعلیم صرف ایک طبقے کیلئے محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اگر حکومت نے بجلی کے بحران پر قابونہ پایا اور اپنی توجہ ہائیڈرو پاور، شمسی توانائی اور ایٹمی توانائی پر نہ دی اورعوام کیلئے سستی بجلی کی پیداوار کیطرف توجہ نہ دی تو آنے والے دن ہماری عوام کیلئے انتہائی تشویشناک ہونگے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
21 Apr, 2017 Total Views: 237 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 56 Articles with 20292 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB