کراچی کے خوفناک مقامات٬ کتنی حقیقت کتنا فسانہ

 

یقیناً دنیا بھر میں کئی ایسے مقامات موجود ہیں جن سے خوفناک اور ڈراؤنی کہانیاں وابستہ ہیں جس کی بنا پر ان مقامات کو خوفناک مقامات قرار دیا جاتا ہے- اب ان کہانیوں میں کتنی صداقت ہوتی ہے اس بات کا پتہ لگانا کافی مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ بعض اوقات یہ فرضی کہانیاں اتنی تیزی سے پھیلتی ہیں کہ ہر کوئی ان پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے لگتا ہے- ہم یہاں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع چند ایسے ہی خوفناک مقامات کا ذکر کر رہے ہیں جن سے ناقابلِ یقین کہانیاں منسوب ہیں- ان کہانیوں میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ اس سے کوئی بھی واقف نہیں لیکن لوگ ان خوفناک مقامات کے بارے میں کیا کہتے ہیں یہ ضرور جانیے:


موہٹہ پیلس
ہماری اس فہرست میں سب سے پہلا خوفناک مقام کراچی کا موہٹہ پیلس ہے- موہٹہ پیلس 1927 میں تعمیر کیا گیا اور یہ پیلس راجھستان کی کاروباری شخصیات کے لیے ایک ایسے پرسکون گھر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتا تھا جہاں وہ اپنی چھٹیاں گزارنے آتے تھے- لیکن اب اس پیلس کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ہے- اگرچہ اس پیلس سے کوئی باضابطہ خوفناک واقعہ تو منسلک نہیں لیکن پھر بھی اس کے ساتھ متعدد کہانیاں ضرور وابستہ ہیں- جیسے کہ اس میوزیم کے ایک سیکورٹی گارڈ کا دعویٰ ہے کہ اس نے پیلس کے مختلف کمروں میں ایسا شور سنا جیسے وہاں کوئی بہت بڑی پارٹی ہورہی ہو لیکن جب وہاں جا کر دیکھا تو کچھ بھی نہیں تھا- اس کے علاوہ مشروبات کے گلاس کو ہوا میں تیرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ ہر صبح میوزیم کو ترتیب میں ہی پایا گیا-


کارساز روڈ
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ 1970 میں ایک نوجوان جوڑا اپنی شادی کی رات کراچی کے علافے کارساز اور گلستان جوہر کی درمیانی ڈالمیا روڈ سے گزر کر گھر جارہا تھا کہ شوہر کی ڈرائیونگ کرتے ہوئے آنکھ لگ گئی- اور اس کے نتیجے میں ایک خوفناک حادثہ پیش آیا- تب سے اکثر افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سڑک پر ایک لال جوڑے میں ملبوس ایک دلہن کو دیکھا ہے جو کہ اپنے مرتے ہوئے شوہر کو بچانے کے لیے لوگوں سے مدد مانگ رہی ہوتی ہے- اب اس بات میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ یہ کوئی نہیں جانتا-


چوکنڈی کا قبرستان
یہ قبرستان کراچی کی نیشنل ہائی وے پر واقع ہے اور اس کا شمار ملک کے قدیم ترین قبرستانوں میں ہوتا ہے- یہ قبرستان 600 سال پرانا ہے اور اسے خوفناک ترین قبرستان بھی قرار دیا جاتا ہے- غروبِ آفتاب کے بعد اس قبرستان میں کوئی بھی نہیں جاتا بالخصوص ایسے افراد جن کا واسطہ غیر معمولی اور عجیب و غریب سرگرمیوں سے پڑ چکا ہو- اس کے اردگرد کے رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اکثر اس قبرستان سے چیخنے چلانے کی آوازیں سنی ہیں- مجموعی طور پر یہ قدیم قبرستان سیاحوں کے لیے اپنی منفرد تراش خراش کی وجہ سے دلچسپی کا باعث ہے-


شیریں سنیما
شیریں سنیما کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں واقع ہے لیکن اسے عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے- گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران عوام اور سنیما کے اسٹاف نے کچھ غیرمعمولی سرگرمیاں محسوس کی ہیں- سنیما کے اسٹاف ممبران کے مطابق یہ کراچی کا واحد سنیما ہے جہاں آسیب مووی دیکھتے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ سنیما کے مختلف حصوں میں یہ مخلوق اپنے خاندانوں کے ساتھ آباد ہے- ہر کوئی ان کی آوازیں اس وقت باآسانی سن سکتا ہے جب سنیما میں کوئی بھی نہیں ہوتا- ان کے سائے بھی عام دیکھے جاسکتے ہیں- اس کے علاوہ ایسی جگہوں سے پانی کے ٹپکنے کی آوازیں آتی ہیں جہاں پانی کی لائن ہی موجود نہیں-


ہاکس بے کا ہٹ
کراچی کے تفریحی مقام ہاکس بے پر موجود ایک ہٹ کے حوالے سے مشہور ہے کہ یہ یہاں آنے والے سیاحوں کو کبھی بھی کرائے پر نہیں دیا جاتا- اور اگر کوئی اسے کرائے پر حاصل کر بھی لے تو اس کا یہاں رات گزارنا مشکل ہے- اس ہٹ کے حوالے سے بھی کئی خوفناک کہانیاں مشہور ہیں جن پر یقین کرنا ناممکن ہے جیسے کہ چاند کی چودھویں رات کو یہاں جنات کی شادی منعقد ہوتی ہے اور وہ کسی ایسے انسان کو پسند کرتے جسے انہوں نے اس شادی میں شرکت کی دعوت نہ دی ہو-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
20 Apr, 2017 Total Views: 3795 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
mai Dalmiya wale road se buhat baar guzra hun raat raat mai bhi lakin kabhi aisa kuch dikha or maine aj 1st time sun raha hun yeh bat.
By: zeeshan, Karachi on Apr, 20 2017
Reply Reply
2 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
One thing is for sure, haunted places exist everywhere in the world; there are places in Karachi too that are believed to be haunted for many years. Following are five most haunted places in Karachi you should never go.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB