ڈیڈی کو اے ڈی خواجہ پسند نہیں ہیں

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 پیپلز پارٹی کے ڈیڈی آصف علی زرداری پاکستان کے اداروں کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے ہیں ۔کیونکہ وہ اداروں سے ماضی میں ٹھیک ٹھاک مار کھائے ہوئے ہیں ۔ایک جانب وہ فوجی جنرلز سے اندرونی مخاصمت ظاہر کرنے میں کوئی دیر نہیں لگاتے ہیں اور انہیں بلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے تڑی لگاتے ہیں کہ’’ تمہیں تو تین سال رہنا ہوتا ہے اور ہمیں تو ساری زندگی رہنا ہے‘‘کہتے ہیں کہ ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔تو دوسری جانب پولیس کو بھی وہ اپنی ،گورنمنٹ آف سندھ کی لونڈی بنا کر رکھنے کی مکمل خواہش رکھتے ہیں۔فوجی جنرلز کو وہ بلے کے خطاب سے نوازتے ہیں تو یقینی بات ہے کہ پولیس کو تو وہ ذہنی طور پر کتے سے کمتر خطاب دینے کو تیار ہی نہ ہونگے۔کیونکہ ماضی میں پولیس کے ہاتھوں خاصی خضالت بھی اٹھاتے رہے تھے۔بلی کے ہاتھوں چھنکا ٹوٹا کے مصداق بے نظیر کی شہادت کے بعد پاکستان کے اہم ترین عہدہِ صدارت کے حصول کے بعد تو گویا امبر میں تھیکڑی(آسمان میں پیوند ) لگانے کا کام انجام دے چکے ہیں۔اس کے بعد سے ان کے لب و لہجہ میں سختی قدرتی عمل کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے۔

پیپلز پارٹی کی گذشتہ 2008 سے 2013پانچ سال مرکزی اور نو سال صوبائی حکومتوں کی انتہائی خراب صورتِ حال ،حکمتِ عملی اورلوٹ کھسوٹ اور کرپشن نے پیپلز پارٹی کو انتخابات جیتنے جوگا تو چھوڑا نہیں ہے۔اس مرتبہ 2018 ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے نو سالہ کرپشن کی وجہ سے کہیں جواب دینے کی اہل ہی نہیں رہی ہے۔ تو انتخابات میں کا میابی کی بجائے ناکامی کے خوف سے دن رات پریشان دکھائی دیتی ہے اس مرتبہ تو لگتا ایسا ہے کہ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں حکومت سازی نہیں کر پائے گی۔گویا اس مرتبہ سندھ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ کم از کم مستقبل کے انتخابات کے نتیجے میں سندھ میں تو اپنی حکومت قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر لے۔اس کے لئے کامیابی کی کنجی انہیں تھانہ کلچر میں دکھائی دینے لگی ہے۔جس تھانے میں اپنا من پسند ایس ایچ او ہوگا وہاں دھاندھلی کرانا کوئی مشکل کام رہے گا ہی نہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ایک ایماندار پولیس فسر کو سندھ حکومت برداشت کرنے کو تیا ر نہیں ہے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کو بار بار شرمندگی اُٹھانے کے باوجود بھی صبر نہیں آرہا ہے۔

اے ڈی خوا جہ ایک نہایت ہی ایماندار پولیس آفٖیسرہیں جو سندھ حکومت کے لئے کسی بھی قیمت پر قابلِ قبول نہیں ہیں ۔انہوں نے سندھ پولیس میں سندھ حکومت کی کرپشن اور بے ایمانی کے راستوں پر بندباندھا تو سندھ کی وڈیرا شاہی کی چیخیں نکل گئیں۔سندھ پولیس میں میرٹ سے ہٹ کر جو بھرتیاں کی گئی تھیں ۔اُن کو بیک قلم منسوخ کر کے پولیس میں میرٹ پر بھرتیاں کی گیئں توسندھ کی وڈیرا شاہی آئی جی سندھ کے مدِ مقابل آکھڑہوئی۔پیپلز پارٹی کا کوئی بھی جیالہ آئی جی سندھ کے حق میں محض اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ پولیس سے کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں اور تھانہ کلچر میں بھی بہتری کے خاہش مند ہیں۔

یہ بھی سب ہی جانتے ہیں کہ سندھی وڈیرا تو ہے ہی کرپشن کی پیداورا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم ستون ہیں جو سندھ سے کریمنل ایکٹیویٹیز کے خاتمے میں رینجرز کی مدد میں بھی فعالیت دکھانے میں پیچھے نہیں ہیں جس کے نتجے میں پیپلز پارٹی کے کرپٹ لوگوں کے گریبانوں تک بھی سندھ پولیس کا ہاتھ پہنچنے لگا ہے۔اسی طرح سندھ یونیور سٹی کے ہاسٹل میں پی ایچ ڈی کی طالبہ نائلہ رندھ کی خود کشی کے معاملے پر بھی آئی جی نے اپنی فعالیت کا مظاہرہ کیا تو ان کا یہ عمل بھی حکومت سندھ کے لئے کسی طرح بھی قابلِ قبول نہیں تھا۔کیونکہ اس میں حکومت سندھ کے چند پردہ نشینوں کے نام آشکارا ہوا چاہتے تھے۔جس کے نتیجے میں سندھ حکومت انہیں بار بار ان کے عہدے سے ہٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی رہی ہے۔ ایک مرتبہ مرکزی حکومت نے اے ڈی خواجہ کو بحالی کیا تو سندھ حکومت عدالت میں چلی گئی جب وہاں سے بھی ناکامی ہوئی تو تلملا کر رہ گئی۔دوسری مرتبہ ان کو محض کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کے تعصب کی بنا پر بغیر کسی الزام کے ہٹا دیاگیا۔ تو سول سوسائٹی ایک مرتبہ پھر معاملے کوہائی کورٹ لے گئی اوراس طرح اے ڈی خواجہ کی بحالی ہوگئی تو سندھ حکومت ایک مرتبہ پھر سیخ پا ہوگئی۔ اب سندھ کابینہ سر جوڑ کے بیٹھی اور تیسری مرتبہ ایماندار پولیس آفیسر کو بلا کسی الزام کے،پسند نا پسندکی بنیادپربرطرف کر دیا۔مگر اس کے اگلے ہی دن سندھ کابینہ کو بھی منہ کی کھانی پڑ گئی اور اے ڈی خواجہ ایک مرتبہ تیسری بارپھر آئی جی سندھ کے عہدے پر بحال کر دیئے گئے۔ اب پی پی پی کا ہر رہنما اے ڈی خواجہ کے حوالے سے آپے سے باہر ہوا جا رہا ہے۔

اصل کہانی اس معاملے میں یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن دو کرپشن کے ہائی فائی معاملات ہیں جن کے حوالے ڈیڈی کی نیندیں ڈسٹرب ہیں۔دوسری اہم بات آنے والا الیکشن بھی پولیس گردی کے اپنے قابو میں نا ہونے کے حوالے سے ہاتھوں سے نکلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ لہٰذا یہ ہی وجہ ہے کہ ڈیڈی کو اے ڈی خواجہ پسند نہیں ہیں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Apr, 2017 Total Views: 252 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 184 Articles with 45583 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
A good artcle projecting honest, dedicated and impartial officer like A D Khawaja. Such officers are national asset and must get maximum support of patriot writes and media. I am sure if masses back up such officers, the Corrupt and Selfish politicians who always support one another will either shun their inherited ill habits or vanish in next General Election. keep writing such articles.
By: Sarwar, Lahore on Apr, 11 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB