ویران ہوائی اڈوں سے بےآباد اسٹیڈیم تک٬ اربوں ڈالر کا ضیاع

 

دنیا بھر میں عوام کی سہولت کے لیے مختلف تعمیراتی منصوبوں کا آغاز کیا جاتا ہے جن کی تکمیل پر لاکھوں یا پھر کروڑوں کی ڈالر کی لاگت آتی ہے- اور حقیقی معنوں میں بھاری لاگت سے تیار ہونے والے یہ اسٹرکچر جب مکمل ہوتے ہیں تو عوام کے لیے کئی آسانیاں پیدا کردیتے ہیں- لیکن ہم جن کمرشل عمارات یا اسٹرکچر کا ذکر کرنے جارہے ہیں ان کی تعمیر پر سینکڑوں ملین ڈالر تو خرچ کیے جاچکے ہیں لیکن یہ پھر بھی ویران اور بےآباد ہیں٬ لیکن کیوں؟ آئیے جانتے ہیں-


Saint Helena Airport
سال 2010 میں برطانوی حکومت نے Saint Helena نامی جزیرے پر بلند ترین پہاڑ پر 347 ملین ڈالر کی لاگت سے ائیرپورٹ تعمیر کیا تھا- اس ائیرپورٹ کی تعمیر کا مقصد سیاحت کو فروغ دینا تھا- لیکن اس علاقے میں چلنے والی خطرناک ہواؤں کے باعث اسے ناقابلِ استعمال قرار دیا جاچکا ہے- اس ائیرپورٹ پر بڑے جہاز نہ محفوظ طریقے سے اتر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں سے اڑ سکتے ہیں-


St. Louis Airport
1997 میں 313 ملین ڈالر کی لاگت سے امریکی علاقے میں St. Louis Airport نامی ائیرپورٹ تعمیر کیا گیا ہے- یہ رقم آج کے دور کے اعتبار سے 474 ملین ڈالر بنتی ہے- اس وقت منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ یہ ائیرپورٹ سالانہ لاکھوں مسافروں کے لیے اپنی خدمات سرانجام دے گا- لیکن ایک طویل عرصے کے بعد بھی اس ائیرپورٹ سے صرف اب تک سالانہ 33 ہزار مسافروں نے سفر کیا ہے جبکہ یہاں سے ایک ہفتے کے دوران صرف 4 فلائٹس آپریٹ کی جاتی تھیں- اس ائیرپورٹ سے کبھی منافع حاصل نہیں کیا جاسکا یہاں تک سال 2013 میں 13 ملین ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا-


New South China Mall
دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال چین کے شہر Dongguan میں سال 2005 میں کھولا گیا- اس شاپنگ مال کی تعمیر پر 500 ملین ڈالر کی لاگت آئی- ایک طویل وقت تک مال کی انتظامیہ کی جانب سے گاہکوں اور کرایہ داروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش گئی- لیکن اس شاپنگ مال کے محل وقوع نے اسے کامیاب نہیں ہونے دیا کیونکہ یہ شہر صرف چند امیر افراد پر ہی مشتمل ہے- یہاں تک اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اس شاپنگ مال کے 99 فیصد اسٹور خالی ہیں-


Russia's Russky Bridge
مشرقی روس میں تعمیر کردہ یہ پل روس کے شہر Vladivostok اور جزیرے Russky کو آپس میں منسلک کرتا ہے- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جزیرے کی آبادی صرف 5 ہزار افراد پر مشتمل ہے- یہ پل سال 2012 میں خاص طور پر ایک معاشی اجلاس کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور اس کی تعمیر 1 بلین ڈالر کی لاگت آئی تھی- 50 ہزار گاڑیوں کا بوجھ سنھبالنے کی صلاحیت رکھنے والے اس پل پر سے کم و بیش ہی کوئی گاڑی گزرتی دکھائی دیتی ہے-


Ciudad Real Central Airport
اسپین کا یہ ائیرپورٹ ہسپانوی مالیاتی بحران کی ایک بدترین نشانی ہے- 2009 میں بنائے جانے والے اس ائیرپورٹ کی تعمیر پر 1.2 بلین ڈالر کی لاگت آئی- اسپین کے سیاحتی مقامات سے دور واقع یہ ائیرپورٹ 10 ملین سیاحوں کی میزبانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے- لیکن بدقسمتی سے پہلے سال یہاں سے صرف چند ہزار سیاحوں ہی نے سفر کیا- اس ائیرپورٹ سے ائیرلائنز نے اپنا آپریشن بند کریا ہے٬ اس کا مالک بینک کرپٹ ہوچکا ہے جبکہ سال 2012 سے یہ ائیرپورٹ بھی بند کردیا گیا-


Mayawati parks and statues
90 اور 2000 کی دہائی میں بھارت کی ریاست اتر پردیش کی وزیراعلیٰ مایا وتی نے 1.3 بلین ڈالر کی بھاری لاگت سے پانچ پارک اور سینکڑوں یادگاری مجسمے تعمیر کروائے جس میں متعدد سفید ہاتھیوں کے مجسمے بھی شامل تھے- لیکن اس منصوبے کو انڈیا کے آرڈیٹر جنرل اور نیشنل کانگریس کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ایسے ریاست میں پیسے کا ضیاع قرار دیا کیا جہاں لاکھوں لوگ غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں-


Ryugyong Hotel
شمالی کوریا کے علاقے Pyongyang میں واقع یہ شاندار ہوٹل کبھی آباد نہیں ہوسکا- اس کی تعمیر کا آغاز 1987 میں کیا گیا اور اس پر 1.3 بلین ڈالر کی لاگت آچکی ہے- لیکن فنڈنگ اور تعمیراتی مسائل کی بنا پر یہ ہوٹل آج بھی ادھورا اور ناقابلِ استعمال ہے-


Olympic Stadium
مونٹریال کے اولمپک اسٹیڈیم کا شمار دنیا کے بدنام ترین سفید ہاتھیوں میں ہوتا ہے- یہ اسٹیڈیم 1976 میں ہونے والے کھیلوں کے لیے تعمیر کیا جارہا تھا لیکن 1.4 بلین ڈالر کی لاگت کے باوجود یہ آج تک مکمل نہیں ہوسکا- اس کا اسٹرکچر متعدد بار تباہ ہوچکا ہے یہاں تک کہ 1999 میں اس اسٹیڈیم کا ایک پورا حصہ بھی گر چکا ہے-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 Apr, 2017 Total Views: 4707 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Epic fails on the grandest of scales, the world's most notorious white elephants should never have left the drawing board. Monstrously expensive to build and maintain yet woefully underused, these dud projects are the ultimate architectural blunders. Click ahead for a look at some of the most infamous and pricey examples in history.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB