کیا موجودہ حالات بڑی سیاسی تبدیلی کا عندیہ دے رھے ھیں

(Mian Khalid Jamil, Lahore)

اسحاق ڈار غیر متنازعہ واحد سیاسی ن لیگی شخصیت تمام سیاسی جماعتوں میں ثابت شدہ ھیں یوں وہ سب سے اھم ھو سکتے ھیں اور اگر نئے انتخابات کے نتیجے میں حکومت ن لیگ کی نہ بن سکی تب شہبازشریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنائے جاسکتے ھیں تاکہ اسحاق ڈار کی شخصیت سیاسی طور پر بیک چینل ڈور ڈپلومیسی کیلئے کارآمد رھے‫

مریم نواز کو آئندہ قومی اسمبلی کا لاھور سے الیکشن لڑانے پر فیصلے جیسی خبروں کا میڈیا پر آنے سے سوشل میڈیا میں تبصروں کا طوفان کھڑا ھوگیا کہ آئندہ اندرون ملک کیا ھونے جا رھا ھے؟؟

جبکہ آثار بتا رہے ہیں کہ ایکسٹرا جوڈیشل ڈیل ہونے جارہی ہے۔ نوازشریف شاید آئندہ چند روز میں طبیعت میں اچانک خرابی کا بہانہ بنا کر ایک مرتبہ پھر لندن روانہ ہوجائیں گے جہاں ڈاکٹرز انکے دل کی حالت تشویشناک قرار دیتے ہوئے اسے غیرمعینہ مدت کیلئے وہیں ایڈمٹ ہونے کا مشورہ دیں گے۔

نوازشریف قوم کے وسیع تر مفاد میں خرابئی صحت پر مستعفی ہونے کا اعلان کریں گے اور احسن اقبال یا شاہد خاقان عباسی کو ایوان سے نیا وزیراعظم نامزد کرا دیا جائیگا۔
نیا وزیراعظم اپنا عہدہ سنبھالتے ہی نئے انتخابات کروانے کی پیشکس کریگا جس پر تقریباً تمام پارٹیاں مان جائیں گی پھر اتفاق رائے سے اسمبلیاں تحلیل کرکے نئے انتخابات کا اعلان کردیا جائے گا۔

اس دوران سپریم کورٹ ایک نرم سا فیصلہ جاری کر سکتی ھے جس میں نیب اور ایف آئی اے کی سرزنس کی جائے اور اراکین اسمبلی کو ایڈوائس جاری کرے کہ وہ ایک
" ٹروتھ فائنڈنگ کمیشن"
کے قیام کیلئے پارلیمنٹ کے ذریعے بل لائے جس کے
"ٹی او آرز"
کم و بیش وہی ہوں گے جو اپوزیشن پارٹیز نے تجویز کئے تھے۔

یوں تقریباً سبھی فریق کچھ نہ کچھ حاصل کرکے نئے الیکشن کی تیاری میں لگ جائیں گے۔

اس دوران شریف فیملی میں شہبازشریف اور مریم نواز باقاعدہ خم ٹھونک کر ایک دوسرے کے سامنے آچکے ہونگے۔

چچا اور اسکے بیٹے مابین بھتیجی کی اس لڑائی میں قوم کو بہت کچھ نیا جاننے کو ملے گا۔

نوازشریف کے باعزت جانے کا اور سیاست میں اپنی باقیات رکھنے کا یہی اک کلیہ ھے اور ایسا ممکن ھوسکتاھے

قرائن کہتے ھیں کہ اگر نوازشریف کیخلاف فیصلہ آنا ھوتا تو مختصر فیصلے کی صورت میں سامنے آسکتا تھا

حال ھی میں ساری قوم نے دیکھا کہ
جہانگیر ترین اور عمران خان کے حق میں عدالتی فیصلہ آ چکا اور دونوں نااھل قرار نہیں دیئے گئے، ان دونوں کو شاید ریلیف مل گیا

فاروق ستار گرفتار ھوئے اور ایک گھنٹے بعد رھا ھوگئے
شرجیل میمن گرفتار ھوئے اور پھر رھا ھوگئے
ایان علی بالاخر منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت مل جانے پر اور عدالتی حکم پر اس کا نان ای سی ایل سے نکل گیا اور وہ فوراً دبئی چلی گئیں

ڈاکٹر عاصم ھسپتال منتقل اور کیس کی گرفت ڈھیلی
اک طے شدہ ڈیل کےتحت جسطرح زرداری راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان چلے آئے اور انکے بھارت اور مودی کیخلاف بیانات و اچانک کشمیریوں کے حق میں مؤقف سے ثابت ھوتاھےکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو واضح دوستی کا پیغام دے رھے ھیں

ان تمام حالات کے پیش نظر معلوم یہ ھوتاھے کہ نوازشریف " جہاں ھے جیسے ھے " کی بنیاد پر بیمار ھوکر ایک بار پھر بیرون ملک علاج کیلئے چلے جائیں گے اور ڈاکٹروں کا بورڈ انکے لمبے قیام برائے مکمل علاج کیلئے کہہ دیگا یوں بیرون ملک سے انکا بوجوہ بیماری وزارت عظمی سے استعفی آسکتاھے

اسمبلی سے جو نیا آئیگا اسکا اسمبلی تحلیل کرنے سے قبل مردم شماری (جوکہ فوج خود ذمہ داری اور دلچسپی سے کرا رھی ھے) مکمل ھونے کےبعد نئی حلقہ بندیاں ھونگی اور اسکے بعد وزیراعظم نئے انتخابات کرانے کیلئے اسمبلی کی تمام پارلیمانی جماعتوں کے اعتماد کے ساتھ اسمبلی تحلیل کر دیں گے

اگلے الیکشن اگر نئی مردم شماری کے نتیجے میں بننے والی ووٹرز لسٹوں کی بنیاد پر ھوۓ اور تحریک انصاف، ق لیگ و مسلم لیگی دیگر دھڑوں وغیرہ سے انتخابی الائنس بنانے میں کامیاب ھوگئی تو ساری قوم الیکشن کا نتیجہ ایک بڑا سرپرائز کے طور پر دیکھ سکتی ھے

جبکہ ن لیگ کے اندر نواز شریف اور شہباز شریف گروپ کا جو ڈرامہ اک عرصہ دراز سے پارٹی کے اندر زھریلی بدمزگی پیدا کرچکا اور دونوں گروپس میں شامل افراد کو ٹشو پیپر بناکر رکھا اور انکی جگہ مشرف باقیات کو مکمل فائدے کیساتھ جگہ دی‫‫ تو یوں ن لیگ کے اندر موجود اس بکواس خانے کی حقیقت کو ساری قوم قریب سے دیکھ سکے گی کہ آیا شریف خاندان کے اندر گروپنگ حقیقت تھی یا یہ ڈرامہ آپس میں لڑاؤ اور لوٹوں کو نوازو سکیم تھی ؟؟

موجودہ حالات اک بڑی سیاسی تبدیلی کا عندیہ دے رھے ھیں

اور نئے انتخابات میں ن لیگ کا اکثریتی نشستیں حاصل کرنے کے نتیجے میں پارٹی صرف مریم نواز ھی پر اتفاق نہیں کرسکے گی بلکہ چند نام اور بھی آسکتے ھیں جن میں سب سے پہلے اسحاق ڈار اور اسکے بعد شہبازشریف اور دو نام سردار ایاز صادق اور احسن اقبال نظر آسکتےھیں

اور چونکہ اسحاق ڈار غیر متنازعہ واحد سیاسی ن لیگی شخصیت تمام سیاسی جماعتوں میں ثابت شدہ ھیں یوں وہ سب سے اھم ھو سکتے ھیں اور اگر نئے انتخابات کے نتیجے میں حکومت ن لیگ کی نہ بن سکی تب شہبازشریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنائے جاسکتے ھیں تاکہ اسحاق ڈار کی شخصیت سیاسی طور پر بیک چینل ڈور ڈپلومیسی کیلئے کارآمد رھے‫...

چونکہ ابھی یہ سارا تبصرہ مریم نواز کا آئندہ انتخابات میں الیکشن لڑنے کی خبر پر سامنے آیا تو یوں یہ حتمی نہیں کہ ن لیگ اکثریت حاصل کرکے مریم نواز کو وزیراعظم بنادے بلکہ آئندہ الیکش میں جنرل الیکشن کیلئے متبادل قابل قبول شخصیات کو بھی میدان میں اتارا جاسکتاھے جن میں اسحاق ڈار نمایاں ھیں تاکہ مریم نواز جیسے نام پر باھمی اتفاق رائے نہ ھونے پر اسحاق ڈار جیسے غیر متنازعہ سیاسی شخصیت کو نامزد کیاجاسکے اور شہبازشریف اگر مرکز میں آئے تو وہ حکومت نہ بننے پر قائد حزب اختلاف بنائے جاسکتے ھیں

پنجاب میں اگر ن لیگ صوبائی اکثریت حاصل کرلے تو حمزہ شہباز ن لیگی مرکزی قیادت کی منظوری پر چیف منسٹر پنجاب بن سکتے ھیں اور ن لیگ کی کوشش ھوگی کہ اگر مرکز میں حکومت وجود میں نہ آسکی تو پنجاب میں ھم خیال جماعتوں اور آزاد اراکین کی مدد سے حکومت بنالے مگر اس بار پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے تحریک انصاف سے بہت بڑے جوڑ توڑ کا سامنا نظر آسکتاھے.. پنجاب کی سیاسی تاریخ کا نیا باب شروع ھو سکتاھے

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
24 Mar, 2017 Total Views: 165 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil

Independent social, electronic, print media observer / Free lance Columnist, Analyst.. View More

Read More Articles by Mian Khalid Jamil: 149 Articles with 23111 views »
Reviews & Comments
میاں خالد صاحب آپکے کالم میں آدھی حقیقت نمایاں نظر آتی ہے اور یہ بڑی بات ہے اور آپکا نقطہ نظر درست ہے، زندہ باد، سلامت رہیں جناب
By: Kabir Ahmad, Gujranwala Cantt on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
میاں خالد جمیل زندہ باد تو واقعی اک اچھا لکھاری ہے، زندہ باد
By: Agha Farnaz, Faisalabad on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
جامو کالم لکھنے پر آپ کا بہت شکریہ میان خالد صاحب صاحب!
By: zawar Wali Khan, Nosehra on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
میاں صاھب آپکے کالم میں بڑی جان ہے ، شاباش
By: Gull Khan, Peshawar on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
اس بات سے مکمل اتفاق کرتا
ہوں کہ : آئندہ الیکش میں جنرل الیکشن کیلئے متبادل قابل قبول شخصیات کو بھی میدان میں اتارا جاسکتاھے جن میں اسحاق ڈار نمایاں ھیں تاکہ مریم نواز جیسے نام پر باھمی اتفاق رائے نہ ھونے پر اسحاق ڈار جیسے غیر متنازعہ سیاسی شخصیت کو نامزد کیاجاسکے

By: Nadeem Bashir, Peshawar on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
اگلے وزیراعظم اسحاق ڈار ہی نظر آتے ہیں یقینی طور پر
By: Mansoor Rizvi, Sahiwal on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
اسحاق ڈار اگلے وزیراعظم ہو سکتے ہیں
By: Shahid Hussain, sargodha on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
حمزہ شہباز ن لیگی مرکزی قیادت کی منظوری پر چیف منسٹر پنجاب بن سکتے ہیں ۔۔۔ ہم اس بات کو
و تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اس قابل ہی نہیں
By: Iqrar Hussain, Qasur on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
مریم نواز جیسے نام پر باھمی اتفاق رائے نہ ھونے پر اسحاق ڈار جیسے غیر متنازعہ سیاسی شخصیت کو نامزد کیاجا سکتا ہے
By: Syed Amir Shah, Sahiwal on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
آئندہ انتخابات کے نتیجے میں شہبازشریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنائے جاسکتے ھیں اس بات میں وزن موجود ہے
By: Tahir Ali, Mirpur Khas on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
یہ حقیقت ہے کہ اسحاق ڈار غیر متنازعہ واحد سیاسی ن لیگی شخصیت تمام سیاسی جماعتوں میں ثابت شدہ ھیں یوں وہ سب سے اھم ھو سکتے ھیں
By: Rizwan Hameed, Shiekhupura on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
شریف خاندان کے اندر گروپنگ حقیقت تھی یا یہ ڈرامہ آپس میں لڑاؤ اور لوٹوں کو نوازو سکیم تھی ؟؟ یہ اب سامنے آجائے گا
By: Nasir Iqbal, Karachi on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
ن لیگ کے اندر نواز شریف اور شہباز شریف گروپ کا جو ڈرامہ اک عرصہ دراز سے پارٹی کے اندر زھریلی بدمزگی پیدا کرچکا۔۔ یہ ڈرامہ اب خاتمے کے قریب ہے
By: Noshad Hamid, Rawalpindi on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
یہ بات درست ھے کہ اگر نئی مردم شماری کے نتیجے میں بننے والی ووٹرز لسٹوں کی بنیاد پر ھوۓ اور تحریک انصاف، ق لیگ و مسلم لیگی دیگر دھڑوں وغیرہ سے انتخابی الائنس بنانے میں کامیاب ھوگئی تو ساری قوم الیکشن کا نتیجہ ایک بڑا سرپرائز کے طور پر دیکھ سکتی ھے
By: Kon Hay Don, Faisalabad on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
مردم شماری مکمل ھونے کےبعد نئی حلقہ بندیاں ھونگی اور اسکے بعد وزیراعظم نئے انتخابات کرانے کیلئے اسمبلی کی تمام پارلیمانی جماعتوں کے اعتماد کے ساتھ اسمبلی تحلیل کر دیں گے
By: Akbar Ali Akbar, Lahore on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
نئے الیکشن کی تیاری ہے
By: Mian Shahid, Lahore on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
سپریم کورٹ ایک نرم سا فیصلہ جاری کر سکتی ھے جس میں نیب اور ایف آئی اے کی سرزنش کی جائے اور اراکین اسمبلی کو ایڈوائس جاری کرے کہ وہ ایک
" ٹروتھ فائنڈنگ کمیشن"
کے قیام کیلئے پارلیمنٹ کے ذریعے بل لائے
By: Abu Hamza, Lahore on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
یہ درست ہے کہ ایکسٹرا جوڈیشل ڈیل ہونے جارہی ہے جو کہ نظر آرہی ہے
By: Pakistan Lovers, Lahore on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
میاں صاحب! واقعی بڑی سیاسی تبدیلی نظر آرہی ھے
By: Abid Hussain, Lahore on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB