دکھ ،غم ،پریشانی،عدم تحفظ کے احساس نے انسان سے خوشیاں چھین لی ہیں۔

(Akhtar Sardar, Kasowal)

خوشی کے عالمی دن 20 مارچ2017ء کے موقع پر ایک خصوصی تحریر
غم ہے یا خوشی ہے تومیری زندگی ہے تو

 خوشی کیا ہے؟کیسے حاصل ہوتی ہے ؟یا یہ کہ خوش رہنا کیسے ممکن ہے ؟کیا خوش رہنا انسان کے اپنے بس میں ہے ؟اگر ہم چاہیں تو کیا خوش رہ سکتے ہیں ؟ ہم میں سے اپنی موجودہ زندگی اور اس کے روز و شب سے کوئی خوش نہیں ہے یا اکثر خوش نہیں ہیں۔ من سے خوش نہیں ہے،ڈپریشن،ذہنی دباؤ کے نفسیاتی امراض سے کوئی فرد محفوظ نہیں ہے، یہ اب ایک عام سی بیماری بن گئی ہے ۔دکھ ،غم ،پریشانی،عدم تحفظ کے احساس نے خوشیاں چھین لی ہیں ۔ بعض لوگ پوری زندگی خوشی کی تلاش میں گزار دیتے ہیں لیکن خوشی ان کو ملتی نہیں ہے ۔ اس تحریر میں ایسے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے خوشی کا عالمی دن 20مارچ 2012 ء کو منانے کا اعلان کیا ۔اس دن کا تصور بھوٹان سے آیا ۔اس دن کے منانے کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے پوری دنیا میں اس دن عوام کو خوشی کے نفسیاتی ، جسمانی فوائد سے آگاہ کیا جائے، علاوہ ازیں اس بارے میں عوام کو آگاہی فراہم کرنا ، خوش رہنا کیسے ممکن ہے ؟ وغیرہ شامل ہے ۔
وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا
کس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتا

کچھ غم وقتی ہوتے ہیں، مثلاًــ کاروبار میں نقصان ،کسی اپنے پیارے کی موت،کسی نے بلا وجہ بے عزتی کر دی ہو تو ایسی پریشانیاں تھوڑا وقت گزرنے کے ساتھ کم ہو جاتی ہیں وقتی دکھ یا پریشانیاں۔اسی طرح کچھ دکھ مستقل ہوتے ہیں، ان میں سے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا حل ہمارے پاس نہیں ہوتا ۔یہ غم ان خواہشات کے بھی بھی ہوتے ہیں، جو پوری نہ ہو سکی ہوں ۔اسی طرح خوشی کی دو اقسام ہیں، عارضی خوشی اور مستقل خوشی ۔پہلے عارضی خوشی کی بات کرتے ہیں کیونکہ ہم میں سے اکثریت عارضی خوشی کے حصول کے لیے ساری تگ و دو کر رہے ہیں۔ عارضی خوشی کا حصول آسان ہے ۔

اس میں وہ خوشی بھی شامل ہوتی ہے جو دوسروں کے لیے ناخوشی کا باعث بنتی ہے ، ہوتی ہے وغیرہ مثلاً کرکٹ میچ ایک ملک کے لیے خوشی اور دوسرے کے لیے غم کا باعث بنتا ہے ۔کچھ دھوکہ دے کر خوش ہوتے ہیں ، جن کو دیا جاتا ہے ان کے لیے غم ۔کچھ اپنے ماتحت کو اذیت دے کر ذہنی کرب میں مبتلا رکھ کر بھی خوشی محسوس کرتے ہیں ماتحت کے لیے مجبوری کے سبب یہ دکھ ہوتا ہے ،بعض ماتحت مالک کو دھوکہ دے کر خوش ہوتے ہیں،جو باس کے لیے باعث دکھ بنتا ہے ۔یہ تو اعتبار کا رشتہ ہوتا ہے ،اس میں دوستی ،عزیز رشتہ دار ،میاں بیوی وغیرہ کے رشتے ہوتے ہیں، اصل میں اس کی وجہ شک ہوتی ہے ۔شک شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور شک انسان کو ناخوش رکھتا ہے ۔اعتماد و اعتبار کے رشتے دھوکہ دیں تو غم سوا ر ہوتا ہے کیونکہ انہی رشتوں سے خوشی جڑی ہوتی ہے ۔جو دوسروں کو دکھ دے کر دھوکہ دے کر خوشی حاصل کرتے ہیں وہ اپنی سوچ کے مطابق اس دنیا میں کامیاب ہو بھی جائیں، انہیں اس دنیا میں سب کچھ حاصل ہو بھی جائے تب بھی ان کو حقیقی خوشی حاصل نہیں ہو سکتی ۔عارضی خوشی میں ۔ بعض افراد، ٹی وی دیکھنے ، تاش کھیلنے سینما،میچ یا اپنے دوستوں ، رشتہ داروں کے ساتھ گپیں ہانکنے اور سارا دن آوارہ گردی کرنے میں گزاردینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ۔

بعض کتابیں ،ناول،اخبار و رسائل کے مطالعہ میں خوشی محسوس کرتے ہیں ۔بعض کاروبار میں خلاف توقع منافع مل جانے پر خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ ایک مزدور کو شام کے وقت آجر سے 100روپیہ زائد مل جائے تو وہ خوش ہو جاتا ہے ،کچھ کام چور کام نہ کرکے اور بہت سے افراد صبح سے لے کر شام تک محنت کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور اس میں خوش رہتے ہیں ۔ کسی نے تعریف کر دی آدمی خوش ہو گیا ،کوئی انعام جیت لیا خوش ہو گئے لیکن ایک بات طے ہے کہ عارضی خوشی کا انحصار عام طور پر دوسروں پر ہوتا ہے،اور خوشی کی چابی دوسروں کے پاس ہوتی ہے ،وہ دوسرا کوئی بھی ہو سکتا ہے ،آپ کا باس ،ماتحت ،دوست ،خاوند،بیوی،پڑوسی ،استاد،شاگرد وغیرہ اس لیے اس کو ہم نے عارضی خوشی کا نام دیا ہے ۔
مانگ کر تجھ سے خوشی لوں مجھے منظور نہیں
کس کا مانگی ہوئی دولت سے بھلا ہوتا ہے

عارضی خوشی عام طور پر مادی ،نفسیاتی ،جسمانی فائدے سے حاصل ہوتی ہے ۔اب خوشی کی دوسری قسم کو دیکھتے ہیں یعنی مستقل خوشی سچی بات تو یہ ہے کہ خوشی نام ہے اطمینانِ قلب کا ، نفس کے تزکیے کا ، برائی سے اچھائی کی طرف قدم اٹھانے کا ،اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کا۔سچی خوشی اور اطمینانِ قلب انسان کو کیسے حاصل ہوتا ہے ۔
سنتے ہیں خوشی بھی ہے زمانے میں کوئی چیز
ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں کدھر ہے یہ کہاں ہے

ہماری ناخوشی ،پریشانیوں ،دکھوں اور غموں کے تین اسباب ہیں، اول تو اپنی اصل سے دوری ہے۔ اﷲ سے دوری، دین فطرت سے دوری اﷲ سبحان و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دلوں کا سکون اﷲ کے ذکر میں ہے ۔اﷲ کو یاد کرنے میں ہے ،اسے ہمیشہ یاد رکھنے میں ہے ،اپنا ہر فعل ،کام،بات اﷲ کی خوشنودی کے لیے کرنے میں ہے ۔اب جہاں سکون ہے ہی نہیں وہا ں ہم تلاش کریں گے تو کیسے ملے گا ۔

دوسرا سبب ہے ہماری تضاد سے بھرپور زندگی ۔ہمارے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے، جس پر ہمارا ضمیر ہم کو ملامت کرتا رہتا ہے اور یوں ہم اندر سے، دل سے خوش نہیں ہوتے ہم ایک مصنوعی زندگی گزارتے ہیں ۔لوگ کیا کہیں گے ،یہ سوچ کر اپنے لباس سے لے کر بات تک عبادت سے لے کر تفریح تک ہم اپنی زندگی لوگ کیا کہیں گے کے ڈر کو سامنے رکھ کر گزارتے ہیں ،اپنے اوپر خول چڑھا لیتے ہیں اور جو ہم اصل میں ہوتے ہیں اسے قید کر کے رکھتے ہیں ۔ ایسا کر کے ہم اپنے دکھوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔

تیسرا سبب خواہش اور ضرورت میں فرق نہ کرنا اور خواہشات کو ہی ضرورت خیال کرنا ہے اب سب خواہشات کا پورا ہونا ناممکن ہوتا ہے ،انسان زیادہ سے زیادہ کی طلب کرتا ہے ،حتی کہ دولت پرستی تک جا پہنچتا ہے اسی طرح ہم چاہتے ہیں کہ سب ہماری فرمانبرداری کریں ہماری بات کو حرف آخر خیال کیا جائے یہ اور ایسی بہت سی خواہشات ہم کو بے چین رکھتی ہیں ۔حب دنیا ،جاہ و حشمت،دولت پرستی،نام و نمود اور شہرت کی بے جا طلب وغیرہ زیادہ سے زیادہ مال کی طلب نے ہم کو اندھا کر دیا ہے ایک سونے کا ڈھیر مل جائے تو ہم دوسرے کی خواہش کرتے ہیں ۔
غم ہے یا خوشی ہے تومیری زندگی ہے تو
آفتوں کے دور میں چین کی گھڑی ہے تو

اﷲ انسان کو خوش دیکھنا چاہتا ہے ،ایک مسلمان اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول میں خوشی محسوس کرتا ہے۔

حقیقی خوشی میں صبر،شکر،امید،قناعت،وغیرہ کا عمل دخل ہے ۔اگر انسان اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر قائم ہو ،اگر زندگی کا مقصد دوسروں کی خدمت ہو اور اس کا صلہ اﷲ کی خوشنودی ہو ،جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے کہ عارضی خوشی مادی،جسمانی،نفسیاتی فائدے سے حاصل ہوتی ہے تو حقیقی خوشی روحانی کیفیات کا نام ہے ۔

اس میں انسان اپنے قول و فعل اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور اس پر وہ مطمئن ہوتا ہے ۔اور جیسا کہ اﷲ نے خود فرمایا ہے کہ اسے نہ خوف ہوتا ہے اور نہ غم ۔ایسا فرد جسے اطمینان قلب حاصل ہو جائے وہ اﷲ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے ۔’’اے ایمان والو۔ ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اﷲ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی بندگی بجا لاتے ہو‘‘۔ (البقرہ : 172)اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک مسلمان پریشانی و غم سے دوچار ہی نہیں ہوتا۔ دوچار ہوتا ہے اس پر اﷲ کی رضا کے لیے صبر کرتا ہے ۔صبر و شکر امید اور اس بات کا یقین کہ وہ یہ دکھ اﷲ کی رضا کے لیے اٹھا رہا ہے ایک مسلمان کے اندر خوشی کے جذبات پیدا کرتا ہے ۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
20 Mar, 2017 Total Views: 177 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal

Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
Press Reporter at Columnist at Kassowal
Attended Government High School Kassowal
Lives in Kassowal, Punja
.. View More

Read More Articles by Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal: 444 Articles with 134925 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB