سیدالبشربعدالنبیاء،یارِ غار و مزار،خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

(ikramulhaq chauhdry, Faisalabad)

پاکستان میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم جو فتنوں نے سر اٹھا رکھاہے۔ ایسے حالات میں امت کو سیدنا صدیق اکبر جیسے قائد کی ضرورت ہے۔جنہوں نے حضور اکرم ﷺکی وفات کے بعد اپنے اخلاص،راسخ العلمی اور اوللعزمی سے امت کو فتنوں سے نجات دلائی تھی۔زیرِ نظر تحریر میں راقم نے جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی حیات وخدمات سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیئے ادنیٰ سی کوشش کی ہے۔

عادات و خصائل، حبِ نبوی، دورِخلافت ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک چاندنی رات میں جبکہ رسول ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا، میں نے آسمان ِ دنیا پر لاکھوں ستاروں کی طرف دیکھتے ہوئے عرض کیا۔۔یارسول اللہ ﷺ کیا کسی شخص کی نیکیاں اتنی بھی ہیں جتنے آسمان پر ستارے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں، عمر کی نیکیاں اتنی ہی ہیں۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پھر میں نے حیرت سے کہا، آقا ﷺ، میرے بابا کی نیکیوں کا کیا حال ہے؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، حمیرا! عمرکی ساری زندگی کی نیکیاں ابوبکر کی ایک نیکی کے برابر ہیں(یعنی وہ تین راتیں جو اس نے میرے ساتھ غار میں گزاری تھیں) عثمان ابوقحافہ بن عامر کا تعلق قریش کی مشہور ومعزز شاخ بنی تمیم سے تھا۔عثمان شجاعت، سخاوت، مروت، بہادری، اور ہمسائیوں کی حمایت وحفاظت کے اوصاف سے متصف تھے۔ان کا قریش کے سیاسی نظام میں بڑا عمل دخل تھا۔ عام الفیل کے تین سال بعدابو قحافہ کے ہاں ان کی بیوی سلمیٰ بنت صخریٰ ام لخیر کے بطن سے ایک بیٹا پیدا ہوا، انہوں نے بیٹے کا نام عبداللہ رکھا۔عثمان ابو قحافہ کے ہاں کسی چیز کی کمی نہ تھی، دولت،عزت،منصب اور عالی نسب سب موجود تھا۔اس لئے بیٹے عبداللہ کی پرورش بڑے ناز و نعم سے کی۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج سے اڑتیس سال بعد یہی بچہ ختم المرسلین، رحمۃ اللعالمین ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی معیت ورفاقت کی بدولت صدیق اکبر بننے والاہے۔ ٭ نام،کنیت ولقب! آپ کا نام عبداللہ اور لقب صدیق و عتیق اور کنیت ابوبکر ہے۔ ٭ کنیت : ابوبکر! یہاں ابوبکر میں ابو کا معنی باپ نہیں ہے اس لئے کہ "بکر" نام کا تو جنابِ صدیق ؓ کا کوئی بیٹا ہی نہیں تھا اورہر جگہ ابو کامعنی باپ نہیں ہوتا، جس طرح ابوتراب کا معنی ہے مٹی والا۔۔مٹی کا باپ نہیں۔ابوہریرہ کا معنی ہے بلی والا۔۔بلی کا باپ نہیں اور ابو حسنات کا معنی ہے نیکیوں والا۔۔ نیکیوں کا باپ نہیں۔عربی میں ب،ک،ر کے مادہ والے لفظ کا معنی ہے"پہل،ابتدا" اسی لئے کھجور پر نیا نیا پھل آئے تو اسے بَکُرَہ ْ کہتے ہیں۔صبح کے پہلے وقت کوبُکْرَہ ْکہتے ہیں اور کنواری عورت کو بِکَرْ کہتے ہیں اور جو ہر نیک کام میں پہل کرے اسے ابوبکر کہتے ہیں۔ جناب صدیق اکبر ؓ نے ہر نیک کام میں پہل کی۔اسلام قبول کرنے میں پہل،حضور ﷺ کے بعد دعوت اسلام دینے میں پہل، رسول ﷺ کا دفاع کرنے میں پہل، غلاموں کو آزاد کرانے میں پہل، یتیموں کی نصرت میں پہل، امیرِ حج بنائے جانے میں پہل، رسول اللہ ﷺکی زندگی میں آپ ﷺکے مصلے پرنمازیں پڑھانے میں پہل، رسول اللہ ﷺکے خلیفہ بنائے جانے اور اسلام کی ڈولتی کشتی کو سہارا دینے میں پہل، منکرین ختم نبوت اور منکرین زکوۃکے خلاف جہاد کرنے میں پہل، قرآن کے متفرق اوراق جمع کرنے میں پہل، جو آپ ؓ کے اختیار میں تھا اس میں آپ نے پہل ہی پہل کی، اور جو اختیار میں نہ تھا وہ اللہ نے عطا کردیا یعنی رسول ﷺکے پاس روضہ اقدس میں آرام فرمانے میں پہل۔انہی وجوہات کی بنا پر آپ کا نام ہی ابوبکر زبان زدِ عام ہو گیا۔ ٭ لقب:صدیق سیدنا ابوبکر ؓ کا لقب صدیق تھا اور اس لقب عطا ہونے کا سبب یہ تھا کہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر لوگو سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا "اللہ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا لیکن تم نے مجھے جھٹلا دیا البتہ ابوبکر نے میری تصدیق کی اور پھر اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ میری غم خواری کی"۔ ابنِ سعد کی روایت کے مطابق واقعہء معراج کے موقع پر بھی آپ کو صدیق کا لقب ملا چنانچہ عہدِ صحابہؓ ہی میں آپ کا نام صدیق مشہور ہو گیا تھا۔ ٭ حسب ونسب! آپ کا تعلق قریش کے دس اعلیٰ خاندانوں میں سے ایک خاندان بنو تمیم بن مرہ سے تھا۔آپؓ کی والدہ آپؓ کے والد کی چچا زاد بہن تھیں۔اس طرح آپؓ کا سلسلہ نسب ننھیال اور ددھیال دونوں طرف سے چھٹی پشت پر جاکر اللہ کے رسول ﷺسے مل جاتا ہے۔ آپ ؓ کا ایک عظیم اعزاز یہ بھی ہے کہ آپؓ کے والد محترم اور والدہ محترمہ دونوں رسول اللہ ﷺکے صحابہ ؓ میں شامل ہیں۔ آپؓ کی نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کی آپؓ کی چار پشتوں کو صحابیت ؓ رسولﷺکا شرف حاصل ہے۔ شراب نوشی اسلام میں حرام ہے لیکن عرب میں جاہلیت کے دورمیں بھی بعض ایسے سلیم الفطرت لوگ موجود تھے جنہوں نے شراب نوشی کو خود پر حرام قرار دے رکھا تھا۔ سیدنا ابوبکر ؓ بھی انہی لوگوں میں سے تھے جنہوں نے شراب زمانہ جاہلیت ہی میں اپنے اوپرحرام کر لی تھی۔ اللہ کے رسولﷺ سے ان کا دوستانہ نبوت سے قبل ہی پیدا ہوگیا تھا۔ عادات واطوار کی مماثلت نے باہمی تعلقات بڑھا دیئے تھے ۔ ٭ سعادت ایمان! سیدنا ابوبکر صد یق ؓ کے اسلام لانے کے بارے میں جو بات سب کو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ جب ان کو اللہ کے رسولﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بلا حیل وحجت اسلام قبول کر لیا۔ ٭ خدمت اسلام! چونکہ صد یق اکبر ؓ مکہ کی با اثر اور ممتاز شخصیت تھے اس لئے اسلام کو ان کی ذات سے اخلاقی اور مادی دونوں اعتبار سے مدد ملی۔ ان کی تبلیغ کے نتیجے میں حضرت عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، طلحہ بن عبیداللہ، عبدالرحمٰن بن عوف،سعدبن ابی وقاص، ابو عبیدہ بن جراح، ابو سلمہ بن عبدالاسد اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہم جیسی بلند پا یہ شخصیات نے اسلام قبول کیا۔اگر آپ اوپر کی فہرست کو دیکھیں تو عشرہ مبشرہ میں سے چھ شخصیات ایسی ہیں جو محض آپ ؓ کی دعوت سے متاثرہو کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوئیں۔ان سب نے اسلام کی ترقی اور ترویج میں جو کردار ادا کیا وہ بلا شبہ تاریخ کا نہایت تابناک باب ہے۔ جب آپ ؓ مشرف بہ اسلام ہوئے تو آپ ؓ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے اور بوقت ہجرت صرف پانچ ہزار درہم تھے۔ پینتیس ہزار درہم آپ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد عالیہ کے مطابق خرچ کردیئے۔آپ ؓ نے سات ایسے مسلمان غلاموں کو آزاد کرایا جن کے آقا ان کے مسلمان ہونے کی بنا ء پر ان کو سزائیں دیتے تھے۔ان میں سیدنا بلالؓ، عامر بن فہیرہؓ، زِنِّیرہؓ، نہدیہؓ، ان کی بیٹی، بنو مومل کی ایک لونڈی اور اُم عُبیس ؓشامل ہیں۔ الغرض آپؓ نے اپنی دولت کو اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔ جامع الترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا "میں نے ہر ایک کا احسان اتار دیا سوائے ابوبکر کے احسان کے، ان کا احسان اتنا عظیم ہے کہ اس کا بدلہ قیامت کے دن اللہ ہی ان کو عطاء فرمائے گا۔ مجھے کسی کے مال سے اتنا نفع نہیں پہنچا جتنا ابوبکر کے مال سے پہنچا۔ ٭ والہانہ عقیدت ! آپ ؓ سفر و حضر میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ رہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے آپ ؓ کو والہانہ عشق و محبت تھی۔ تن،من،دھن سب اللہ اور اس کے رسول ﷺکے لئے وقف کردیا تھا۔رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے لے کر آپ ﷺ کے وصال تک تئیس سالوں میں بمشکل چند ماہ ایسے ہوں گے جب رسول اللہ ﷺکی اجازت و حکم سے بارگاہ سے غیرحاضر رہے ہوں۔بعثت نبوی کے دسویں سال رمضان المبارک کے مہینے میں حضرت خدیجۃ الکبریؓ کا انتقال ہوا تو آپؓ نے شوال ۱۱ نبوی میں اپنی بیٹی عائشہؓ کا عقد رسول اللہ ﷺ سے کر دیا۔ اس طرح حضرت ابو بکر صدیقؓ کا رسول اللہ ﷺکے ساتھ رشتہ اور بھی گہرا اور مضبوط ہوگیا۔ ٭ سفرِ ہجرت، سفرِ محبت ! صدیق اکبرؓ کا بہت بڑا اعزاز یہ ہے کہ آپؓ رسول اللہ ﷺکے سفر ہجرت میں رفیق تھے۔یہ سفر بے حد پرخطر اور دشوار تھا۔ اسی سفر سے صدیق اکبرؓ کے فضائل ومناقب کا سب سے زیادہ درخشاں باب شروع ہوتاہے۔ہجرت کے سفرکا پروگرام ایک دینی اور ملی راز تھا جسے مخفی رکھنا بہت ضروری تھا تاکہ کفار و مشرکین اس پروگرام سے بے خبر رہیں۔ صدیق اکبر ؓ خود اور ان کا پورا گھرانہ اس پروگرام سے آگاہ تھا، مگر ان کی محبتِ رسول ایثار، وفاداری اور رازداری کو داد دیجیے کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا خوف یا لالچ ان سے یہ راز افشا نہیں کراسکا۔ سفرہجرت میں راہ حق کے یہ دونوں مسافر جب پہاڑ کے دامن میں پہنچتے ہیں تو پھر صدیق اکبرؓ کی قسمت کے کیا کہنے کہ صدیق اکبرؓ رسول اللہ ﷺکو اس خوف سے اپنے کندھو ں پر اٹھا لے جاتے ہیں کہ کہیں آپ ﷺ کے خوبصورت اور نازک پاؤں اس چڑھائی کے دوران زخمی نہ ہو جائیں اور آپ ﷺ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی پرایک غار کے پاس جاپہنچے جو تاریخ میں غارثور کے نام سے معروف ہے۔ یہاں پہنچ کر وفورِ محبت سے بے قرار ہو کر پہلے خود غار میں داخل ہوتے ہیں کہ کہیں وہاں کوئی تکلیف دینے والی چیز یا موذی جانور موجود نہ ہو۔اگر ایسی کوئی مضر چیز ہو تو مجھے اس سے نقصان پہنچ جائے تو مجھے یہ نقصان بصدشوق گوارا ہوگا مگر آپ ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچے تو یہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا جو مجھے ہرگزگوارا نہیں، چنانچہ صدیق اکبر ؓ اندر داخل ہوئے۔غار کو رحمت عالم ﷺکے لئے صاف کیا اور دیکھا کہ ایک طرف چند سوراخ ہیں۔انہوں نے اپنی چادر پھاڑ کر اس کے ٹکڑوں سے سوراخ بند کیے مگر دو سوراخ باقی بچ گئے۔ان پر انہوں نے اپنے دونوں پاؤں رکھ کر انہیں بند کر دیا اور آواز دی کہ اب تشریف لے آیئے۔ کلیرنس ملنے کے بعد آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے اور صدیق اکبرؓ کی آغوش میں سر رکھ کر سو گئے۔ ادھر ابوبکرؓ کے پاؤں پرکسی جانور نے ڈس لیا مگر وہ اس احتیاط کی وجہ سے نہ ہلے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی نیند میں خلل نہ پڑ جائے لیکن جب شدتِ تکلیف سے صدیق اکبرؓ کی آنکھ سے آنسو نکل کر رسول کریم ﷺ کے چہرۂ انور پر گرے تو آپ ﷺکی آنکھ کھل گئی، دریافت فرمایا: ابوبکر! تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے کسی موذی جانور نے ڈس لیا ہے۔آپ ﷺ نے صدیق اکبرؓ کی ایڑی پر اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی تکلیف جاتی رہی۔ آپ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تین دن غار ثور میں قیام فرمایا اور پھر بطرف مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور اسی سفر میں اللہ تعالیٰ کی طرف آپ ؓ کو بذریعہ قرآن ثانی الثنین کا خطاب عطا ہوا۔مدینہ منورہ میں آپ ؓ کا رشتہ مواخات حضرت عمرؓسے قائم کر دیا گیا اور جب آنحضرت ﷺنے مکانات کے لئے لوگوں کو زمین عطاء فرمائی تو حضرت ثانی الثنین کے لئے مکان کی جگہ مسجد نبوی کے پاس رکھی۔ ایک اور جگہ آپ ﷺنے فرمایا کہ، مسجدِ نبوی میں کھلنے والے سب دروازے بند کر دیئے جائیں، سوائے صدیق اکبرؓ کے دروازے کے۔ ٭ میدان جہاد میں آپؓ نے تمام غزوات میں شرکت کی۔غزوہ بدرمیں اپنے محبوب ﷺکی حفاظت کے فرائض انجا م دیئے اور بروایت ابن عساکر، فرشتوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ دیکھو!صدیق ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سائبان کے نیچے موجود ہیں۔ جنگ احد میں جب پانسہ پلٹ گیا تو آپ ؓ حضور انور ﷺکے ساتھ ثابت قدم رہے۔ ۷ ہجری میں آپ ؓ کو مختلف سرایا اور مہمات دے کر بھیجا گیا۔چناچہ آپؓ ان سب میں کامیاب و کامران لوٹے۔ ۹ ہجری غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ سے مالی عیانت کا کہا تو، سیدنا ابوبکرؓ کے پاس جو کچھ تھا سب لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ رسول اللہ ﷺنے پو چھا، ابوبکر! اہل وعیال کے لئے کیا چھوڑآئے ہو؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا کہ ان کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو چھوڑ آیا ہو۔ پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس صدیقؓ کے لئے ہے خدا کا رسول بس اور اسی سال میں آپ ؓ کو پہلا امیرِ حج مقرر کیا گیا۔ ٭ راسخ العلمی! تمام فضیلتوں کی بنیاد علم پر ہے اور اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ پوری امت میں سب سے زیادہ شرعی مسائل کو جاننے والے اور تمام صحابہ ؓ میں سب سے بڑھ کر ذہین وفطین تھے۔آپؓ مدنی زندگی میں نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں فتوے دیتے تھے اور نبی کریم ﷺ ان کے فتوؤں کی توثیق فرماتے تھے۔ یہ اعزاز ان کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں(صحیح بخاری) سیدنا ابوبکرؓ کاتبین وحی میں بھی شامل ہیں۔آپ ؓ کی یہ منفرد شان بھی ہے کہ انہیں جنت کے آٹھوں دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔ ٭ مصلیٰ نبوی پر! ایک منفرد اعزاز سیدنا ابوبکرؓ کو یہ بھی حاصل ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی ہی میں اپنے مصلے پر مسلمانوں کی امامت کے لئے کھڑا کردیا اور آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں سترہ نمازوں میں امامت کرائی ،آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ بھی یہی چاہتا ہے اور مؤمنین بھی یہی چاہتے ہیں کہ ابوبکر ہی امام بنیں۔ ٭ خلافت کا بارِ گراں! خاتم الانبیاء ﷺ جب اپنے رفیق اعلیٰ کے پاس تشریف لے گئے تو سیدنا ابوبکرؓ کی زندگی کا ایک تابناک اور آخری دور شروع ہوتا ہے جس میں انہوں نے امت مسلمہ کو متعدد خطرناک بحرانوں کے گرداب سے نکالا اور دین اسلام کی ڈگمگاتی کشتی کو اپنی بے مثال ذہانت، شجاعت، علمی وسعت و گہرائی، اللہ پر گہرے توکل اور رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کے سہارے کنارے پر لگایا۔رسول اللہ ﷺکے ارشادات کی روشنی میں جب صحابہ کرام ؓ نے متفقہ طور پرخلافت کا بار گراں سیدنا ابوبکرؓ کے کندھوں پر ڈال دیا توخلافت سنبھالنے کے بعد اس عظیم شخصیت نے ایک اور لازوال اور شاندار مثال قائم کی۔جب صدیق اکبر ؓ اپنا بہت سا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرچکے تو خلافت کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آن پڑی۔آپ ؓ دنیا سے انتہائی بے رغبتی رکھنے والے شخص تھے۔ خلیفہ بنتے ہی بازار کی طرف چل دیے تاکہ کچھ خرید وفروخت کر کے اپنا اور بال بچوں کا پیٹ پال سکیں۔راستے میں سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا علی بن ابی طالب ؓنے انہیں روک کر پوچھا، کدھر؟اے خلیفہ رسول! کہا، بچوں کے لئے روزی کمانے جارہاہوں۔تب انہیں بڑی تشویش لا حق ہوئی کہ جس شخص پر پوری امت کے مسائل کا بوجھ ہے اسے فکر معاش سے آزاد کرنا تو ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے۔چناچہ انہوں نے اس معاملے کو حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ اور دیگر مہاجرین کے سامنے پیش کیا اور اس امر پر اتفاق ہوا کہ انہیں بیت المال سے روزانہ دو درہم ادا کیے جائیں گے۔چناچہ اس معاملے کے بعد سیدنا ابوبکر ؓ نے اپنا باقی ماندہ مال بیت المال ہی میں جمع کرادیا۔جب موت کا وقت آیا تو انہوں نے سیدہ عائشہ ؓ سے کہا، میری وفات کے بعد گھر میں جو کچھ موجود ہے وہ بیت المال میں جمع کرادیا جائے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے دیکھا کہ ایک چادر جو پانچ درہم سے بھی کم قیمت تھی، ایک حبشیہ لونڈی جو ان کے بچے کو دودھ پلاتی تھی، ایک کالا غلام اور ایک پانی لادنے والا اونٹ گھر میں موجود تھا۔یہی ان کی کل کائنات تھی۔ ام المومنین ؓ نے یہ سارا سامان نئے خلیفہ عمر بن خطاب ؓ کی خدمت میں بھجوا دیا۔حضرت عمرؓ نے اس سامان کی قیمت بیت المال کو بذات خود ادا کر دی اور سامان اہل خانہ کو واپس بھجوا دیا اور ساتھ ہی کہا، ابوبکر! اللہ تم پر رحم کرے،تم نے اپنے بعد آنے والے حکمرانوں کو سخت امتحان میں ڈال دیا۔ ٭ مشکلات میں سرخروئی! آپ ؓ کے خلافت سنبھاتے ہی چاروں طرف سے فتنوں اور شورشوں نے یلغار کر دی لیکن آپؓ نے ان سب کا اس طرح مقابلہ و سدِ باب کیا کہ پھر انہیں فتنہ و فساد کی آگ روشن کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ آپؓ نے سب سے پہلا حکم جو دیا یہ تھا کہ حضرت اسامہ بن زید ؓ کا لشکر کوچ کرے گا۔ اس اعلان نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ بعض صحابہ ؓ نے اس کے خلاف رائے دی تو سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا کہ ابوبکر اس لشکر کو روک دے جس کو رسول اللہ ﷺ نے روانگی کا حکم دیا ہو۔یہ کوئی سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔لشکر روانہ ہواتو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ باغی اور مرتد قبائل اور رومی،مسلمانوں کی قوت سے مرعوب ہوگئے۔ آپ ؓ کی خلافت کا پہلا سال زیادہ تر جھوٹے مدعیان نبوت، منکرین زکوٰۃاور مرتد قبائل کی سرکوبی میں گزرگیا۔ پھر آپؓ نے صحابہ کرام ؓ کے مشورے سے عراق اور شام پر فوج کشی کا حکم دیا۔ ٭ وصال محبوب ! انہی فتوحات کا سلسلہ جاری تھا کہ آپ ؓ کے وصال کا وقت قریب آگیا۔ پندرہ روز تک بخار میں مبتلا رہنے کے بعد بالآخر یہ عظیم شخصیت دو سال، تین ماہ، گیارہ دن حکومت کرنے کے بعد تریسٹھ برس کی عمر پاکر،سن تیرہ ہجری ۲۲ جمادی لآخر، سوموار کا دن اور سورج غروب ہونے کے بعد خلیفہ اول، عاشقِ رسول، صدیق اکبر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔اللہ تعالیٰ نے وفات کے بعد بھی انہیں یہ اعزاز بخشا کہ وہ جس طرح زندگی میں رسول کریم ﷺکے ساتھ تھے وفات کے بعد بھی روضۂ رسول میں انہی کے ساتھ ہیں(اللہ ان پر اپنی بے شمار رحمتیں برسائے اور ہمارا حشر بھی ان کے ساتھ کرے۔آمین!

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
20 Mar, 2017 Total Views: 49 Print Article Print
NEXT 
About the Author: ikramulhaq chauhdry

Read More Articles by ikramulhaq chauhdry: 8 Articles with 1057 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB