سو لفظوں کی کہانیاں ۔۔۔ چھیانوے سے سو

(Syed Anwer Mahmood, Karachi)

بہت مشکل سے سترہ سال بعد بڑا سیاسی لیڈر بنا، وزیراعظم بننے کی آرزو کو اکیس سال ہوچکے ہیں لیکن شاید اس مرتبہ وہ مایوس ہوگیا ہے اس لیے گھر آئے ہوئے مہمانوں کو پھٹیچر کہہ رہا ہے۔

سو لفظوں کی کہانی نمبر 96۔۔۔۔ دلائل ۔۔۔۔۔۔
علامہ طاہر القادری نے اپنے پہلے دھرنے کا اعلان کیا
ایم کیو ایم نے حمایت اور شرکت کا اعلان کیا
بعد میں دھرنے میں شرکت سے معذرت کرلی
اسلم متحدہ قومی موومنٹ کا ایک بے لوث کارکن ہے
میں نے پوچھا پہلے آپ سب لانگ مارچ کرنے کےلیے بیتاب
مگر دوسرئے دن لانگ مارچ سے انکار یہ کیا ہے
اسلم نے جواب دیا ہماری پارٹی نظم و ضبط کی مثال ہے
پہلے ہم لانگ مارچ کے حق میں دلائل دیتے رہے
لانگ مارچ میں عدم شرکت کا فیصلہ ہوا
تب بھی ہم لوگوں کو دلائل دیکر ہی سمجھا رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو لفظوں کی کہانی نمبر 97۔۔۔۔ بغاوت ۔۔۔۔۔۔
ان کی ماں کو مار دیا گیا، وہ بہت عظیم بے خوف لیڈر تھی
کس نے مروایا ،بچے اچھی طرح اپنے باپ کے کردار سے واقف ہیں
پھر ایک دن ان کے باپ کی مرضی سے
ایک آوارہ مزاج شخص انکی پارٹی میں شامل ہوا
بھائی خاموش رہا لیکن دونوں بہنوں نے باپ کے خلاف بغاوت کردی
بچیوں کی بغاوت کے سامنے باپ نے گھٹنے ٹیک دیئے
کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ یہ اس عظیم خاتون کی بیٹیاں ہیں
جو دہشتگردوں کے سامنے نہ جھکی اور نہ ان سے ڈری
بینظیر بھٹو کی بیٹیوں اس بغاوت پر آپکو سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو لفظوں کی کہانی نمبر 98۔۔۔۔ ہیرو ۔۔۔۔۔۔
پورئے ملک میں یہ بحث چل رہی ہے کہ
فائنل لاہور میں ہونا چاہیے کہ نہیں
ایسے میں ایک دلچسپ خبر یہ آئی کہ
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز نے
نواز سے کہا کہ ہیرو بننے کا یہی وقت ہے
یکم مارچ کو کوئٹہ گلیڈی نے پشاور زلمی کو ہرادیا
میچ ختم ہونے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان
سرفراز کا کہنا تھا کہ نواز نے مشکل حالات میں بولنگ کی
جیت کا کریڈٹ محمدنوازکو دینا چاہیے
نمی کی وجہ سے بال بہت گیلی تھی
میں نے ’’ نواز سے کہا کہ ہیرو بننے کا یہی وقت ہے‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو لفظوں کی کہانی نمبر 99۔۔۔۔ آرزو ۔۔۔۔۔۔
لگتا ہے وہ بچپن سے ہی آرزوں کے ساتھ پلا ہے
آکسفورڈ میں پڑھا مگر کرکٹ کھیلی
پھر ورلڈکپ جیتنے کی آرزو کی جیت لایا
ماں کے نام پر کینسر ہسپتال بنانے کی آرزو کی بناڈالا
پھر آرزو کی اور ایک یونیورسٹی بناڈالی
سیاستدان بننے کی آرزو کی اپنی سیاسی جماعت بناڈالی
بڑا سیاسی لیڈر اور وزیر اعظم بننے کی آرزو کی
بہت مشکل سے سترہ سال بعد بڑا سیاسی لیڈر بنا
وزیراعظم بننے کی آرزو کو اکیس سال ہوچکے ہیں لیکن
شاید اس مرتبہ وہ مایوس ہوگیا ہے اس لیے
گھر آئے ہوئے مہمانوں کو پھٹیچر کہہ رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو لفظوں کی کہانی نمبر 100۔۔۔۔ مولوی صاحب ۔۔۔۔۔۔
ہماری بیٹی 13 فروری کے لاہور بم بلاسٹ میں شہید ہوگئی تھی
اب جس دن اس کی شادی ہونی تھی اس دن اسکا چہلم کررہے ہیں
جن لوگوں کو شادی میں بلانا تھا چہلم پربلالیا
ایک ایسے مولوی صاحب سے فاتحہ خوانی کےلیے درخواست کی تھی
جو ہمیشہ بھائی چارئے اور محبت کا درس دیتے ہیں
جواب آیا کہ مولوی صاحب ان کو شہید نہیں مانتے
جو بم دھماکوں میں مارئے جاتے ہیں
اس لیے وہ ان حادثات میں مرنے والوں کی تعزیت تک نہیں کرتے
ویسے بھی آجکل وہ ملک کی ایک ہونہاراداکارہ کی شادی بچانے میں مصروف ہیں
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Mar, 2017 Total Views: 420 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Syed Anwer Mahmood

Syed Anwer Mahmood always interested in History and Politics. Therefore, you will find his most articles on the subject of Politics, and sometimes wri.. View More

Read More Articles by Syed Anwer Mahmood: 472 Articles with 172871 views »
Reviews & Comments
١٠٠ لفظوں کی سوویں کہانی۔۔ کیا خوب سنگ میل عبور کیا ہے سر آپ نے۔ دلی مبارکباد قبول فرماٰیئے۔
By: Samiya Saeed, Rawalpindi on Mar, 28 2017
Reply Reply
0 Like
سو لفظوں کی 100 ویں کہانی ۔۔۔۔ آخری کہانی۔۔۔۔ سید انور محمود
ہماری ویب کے دوستوں میری یہ سو لفظوں کی 100 ویں کہانی آخری ہے! بہت بہت شکریہ جناب مبشر علی زیدی صاحب کا جو ‘‘100 لفظوں کی کہانی’’ کے موجد ہیں انکی اجازت سے بائیس فروری 2016 سے سو لفظوں کی کہانیاں لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا جو اس100 ویں کہانی کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔اس سے پہلے بھی میں مبشرصاحب کی کہانیوں سے فائدہ اٹھاتا رہا ہوں، ان کی 100 لفظوں کی کہانیوں کو اپنے کچھ مضامین میں شامل کرچکا ہوں۔ مبشر صاحب کے اس فارمیٹ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، سب سے بڑا سبق ان کہانیوں کو لکھتے ہوئے یہ ملا کہ بہت لمبی بات کو مختصر کرکے کیسے لکھا جاتا ہےلیکن یہ ایک مشکل کام ہے خاصکر مجھ جیسوں کےلیے جو عام طور پر طویل مضامین لکھنے کے عادی ہوں۔میں ان تمام دوستوں کا شکرگذار ہوں جنہوں نے میری لکھی ہوئی کہانیوں کو پسند کیا ۔
By: Syed Anwer Mahmood, Karachi on Mar, 16 2017
Reply Reply
0 Like
Excellent,,,,,,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Mar, 15 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB