میرے پاپا مرگئے ہیں اور ماں---

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)

ایک پانچ چھ. سال کا معصوم سا بچہ اپنی چھوٹی بہن کو لے کر مسجد کے ایک طرف کونے میں بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا.

کپڑے میں میل لگا ہوا تھا مگر نہایت صاف، اس کے ننھے ننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے.
بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بے خبر اپنے اللہ سے باتوں میں لگا ہوا تھا.

جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کے اس کا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچھا
"کیا مانگا اللہ سے"
اس نے کہا
"میرے پاپا مر گئے ہیں ان کے لئے جنت،
میری ماں روتی رہتی ہے ان کے لئے صبر،
میری بہن ماں سے کپڑے سامان مانگتی ہے اس کے لئے رقم ".
"آپ اسکول جاتے ہو"
اجنبی نے سوال کیا.
"ہاں جاتا ہوں" اس نے کہا.
"کس کلاس میں پڑھتے ہو؟" اجنبی نے پوچھا
"نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا، ماں چنے بنا دیتی ہے وہ اسکول کے بچوں کو فروخت کرتا ہوں، بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ہیں، ہمارا یہی کام دھندہ ہے" بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رہا تھا.

"تمہارا کوئی رشتہ دار"
نہ چاہتے ہوئے بھی اجنبی بچے سے پوچھ بیٹھا.
"پتہ نہیں، ماں کہتی ہے غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا،
ماں جھوٹ نہیں بولتی،

پر انکل،
مجھے لگتا ہے میری ماں کبھی کبھی جھوٹ بولتی ہے،
جب ہم کھانا کھاتے ہیں ہمیں دیکھتی رہتی ہے،
جب کہتا ہوں
ماں آپ بھی کھاؤ، تو کہتی ہے میں نے کھا لیا تھا، اس وقت لگتا ہے جھوٹ بولتی ہے "
"بیٹا اگر تمہارے گھر کا خرچ مل جائے تو پڑھائی کرو گے؟"
"بالكل نہیں"
"کیوں"

"تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ہیں انکل،
ہمیں کسی پڑھے ہوئے نے کبھی نہیں پوچھا - پاس سے گزر جاتے ہیں "
اجنبی حیران بھی تھا اور پریشان بھی.

پھر اس نے کہا "ہر روز اسی مسجد میں آتا ہوں، کبھی کسی نے نہیں پوچھا - یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے - مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Mar, 2017 Total Views: 2127 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
سلام ہماری ویب ٹیم
By: Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Mar, 15 2017
Reply Reply
0 Like
jazakallahu hamariweb
By: anas, karachi on Mar, 15 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB