ناموس رسالت ﷺ پر سب قربان!

(Inayat Kabalgraami, )

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو ایک مقصد کیلئے پیداکیا ہے ۔وہ مقصد اﷲ کی بندگی ہے ۔حضرت آدم علیہ سلام سے لیکر محمد عربی صلی اﷲ علیہ وسلم تک تمام انبیاکرام ؑ انسانوں کے بلائی کیلئے دنیا میں تشریف لائیں ۔ آدم علیہ سلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ سلام تک آئیں ہوئیں تمام نبی انسانوں کے رہن سیہن کیلئے الگ الگ طور تریقے لائیں تھیں ۔ ہردور میں اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے الگ الگ قانون نافظ کیئے ۔کسی نبی ؑ کے دور کو نرم بنایا تو کسی نبی ؑ کے دور کو سخت بنا کر انسانوں کا امتحان لیا گیا ۔ان تمام انبیا کرام ؑ کے دور کے بعد سب نبیوں ؑ کے سردار حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ دنیا میں تشریف لائیں ۔آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد آپ ﷺ سے قبل کے تمام قوائد و تمام قوانین منسوخ کردیئے میرے اﷲ نے ۔حضرت محمد ﷺ کی آمد سے قبل عرب میں ظلم و ستم کا راج تا ،ہر شخص خود ہی دین اور خود ہی قانون بنا تا تھا ،بیٹیوں کو زندہ زمین میں دفن کرنے کا قانون لڑکی کی پیدائش کو شرم و عارت سمجھتے تھے ۔شرک کا بازار گرم تھا ،لات و منات کی عبادت ہوتی تھی مگر ایک خدا کا تصور نہیں تھا ۔جب پیارے آقا محمد عربی ﷺ دنیا میں تشریف لائیں تو ظلم کے بادل چھٹنے لگے ، شرک کے پجاری ہٹنے لگے ، کالے قانون کے قانون دان کٹ نے لگے ، بیٹیوں کی ڈولیاں اُٹھنے لگی ، کفر و شرک کی بستیاں ختم ہونے لگی ،سب سے بڑکر ایک اﷲ کی عبادت ہونے لگی ۔اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کے رہنسہن کیلئے ایک نیا ضابطہ اخلاق دین اسلام کے روپ میں عطاء کرکے انسانوں پھر احسان کیا ۔ وہ قانون بنا کر دیا محمد ﷺ کی امت کو جو دنیا میں بھی کامیابی کا ضامن ہیں اور اخیرت میں بھی کامیابیاں سمیٹے گا ۔ہر قوم ہر مذہب کا ایک قائدہ اور قانون و دستور ہوتھا ہے ،ہم مسلمانوں کا قائدہ و قانون قرآن مجید اور دستور شریعت محمدی ﷺ ہیں ۔ برصغیر میں انگریزوں کی موجوگی میں ہی انگریزوں کے خلاف مسلمان ایک ہی صف میں کھڑے تھے مسلمانوں کی ایک ہی خواہئش تھی کے کسی طرح ان انگریزوں سے آزدی حاصل کرکے ایک الگ ملک بنائیں اور واہاں پھر اسلامی قوانین نافظ کرکے امن و بھائی چارگی کو فروغ دیں اسی کیلئے علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب اپنی آنکھوں میں سجایا قائد اعظم محمد علی جناح نے کوشش شروع کی علماء اور عام لوگوں نے قربانی دی ،ماؤں نے دعائیں کی ، تب جا کر اﷲ رب العزت نے ایک خوبصورت سا ملک مسلمانوں کو پاکستان کے روپ میں عطاء کیا ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ جب سے پاکستان بنا ہے تب سے ہی دشمنان اسلام و پاکستان ہمارے ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ،جبکہ ان کے ساتھ تعاون میں ہمارے اپنے ہی مصروف ہے ،پاکستان بنانے اور ہندوں سے الگ ہونے کا ایک ہی مقصد تھا کے پاکستان میں اسلامی قوانین کو رائج کیا جایگا اور اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں اسلامی اشعار اور محسن اسلام محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ آپ ﷺ کے صحابہ رضی اﷲ عنہُ اور امہات المو مینین ؓ کی ناموس کا تحفظ کیا جائیگا۔ہرشخص آزاد اور خود مختار ہوگا ،لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ، نہ ہی اسلامی قانون بنااور نہ ہی عظیم ہستیوں کے تحفظ کا قانون بنا جو بھی قانون بنا ہے اس پر عمل درآمد کا نام و نشان نہیں ہے ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر سے ناموس رسالت ﷺ توہین آمیز پوسٹیں لگنے لگی ،ان میں آقا ئے نام دار ﷺ کی توہین کے ساتھ ساتھ صحابہ کرامؓ اور امہات المومینینؓ کی بھی توہین آمیز پوسٹیں لگائی جارہی ہیں ۔ اس کے خلاف لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبد لعزیز نے عدالت سے رجو ع کیا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایکشن لیتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار کو طلب کیا ، بروز منگل کو اسلام آباد ہوئی کورٹ نے گستاخ بلاگرز اور گستاخانہ پیچز کے خلاف کیس کی سماعت کی سماعت ایک نڈر اور دلیر جج جسٹس شوکت صدیقی نے کی ،جسٹس صاحب دوران سماعت کئی با آبدیدہ ہوگئے ۔جسٹس صدیقی صاحب کا کہناتھا کہ یہ گستاخانہ پیچز میں نے جب دیکھیں تو میں رات بھر سو نہ سکا اور کہا کہ میرے ماں باپ ،بچے اور نوکری سب کچھ ناموس رسالت ﷺ پر قربان،مزید کہا کے فوری ان تمام پیچزکو بند کیا جائے اور ان کو چلانے والے گستاخ بلاگرز کو فوری گرفتار کیا جائے ۔جب کہ گستاخ بلاگرز کو دہشتگرد قرار دیا گیا اور یہ بھی کہا کہ قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے ہی ممتاز قادری پیدا ہوتے ہیں اور تمام مسالک کے علماء سے اپیل بھی کی کے فوری طور پر اپنے اختلاف ختم کرکے حرمت رسول ﷺ کیلئے ایک پلیٹ فام پر جمع ہوجائے ۔جسٹس شوکت صدیقی صاحب کے اس دلیرانہ موقف سے مجھے 90 کی دہائی کا ایک کیس یاد آیا جب ایران سے مسلسل صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین کی شان کے خلاف گستاخانہ لیکٹیچرز آ رہے تھے جس سے ملک میں انار کی پھیل نے کا خدشہ تا اس وقت چیف جسٹس جناب سید سجاد علی شاہ صاحب مرحوم(جسٹس سید سجادعلی صاحب کا بروز منگل انتقال ہوگیا) نے سوموٹو ایکش لیتے ہوئے دونوں فریقین کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ایک طرف سے مولانا علی شیر حیدری مرحوم پیش ہوئے تو دوسری طرف سے علامہ ساجد نقوی صاحب پیش ہوئے ،مولانا علی شیر حیدری صاحب نے چار گھنٹے اور علامہ ساجد نقوی نے تین گھنٹے تک دلائل دیئے ۔چیف جسٹس صاحب نے کئی دن سماعت کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا عین فیصلہ سنانے سے ایک دو دن قبل ہی چسٹس سید سجاد علی شاہ صاحب عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔سید صاحب نے اس وقت صدیقی صاحب کی طرح گستاخانہ لٹریچرز پر سخت ریماکس دیئے تھے ۔ ہم مسلمان ہے اور پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ،ہمارے حکمرانوں کو اب سوچ نہ ہوگا جس طرح انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خلاف آپریشن راہ نجات،راہ حق اور اب ردالفساد ہورہا ہے ،اس ہی طرح سوشل میڈیا پر موجود ان گستاخ بلاگرز نما دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ردالشیطان کرکے ان سے اس ملک کو نجات دلایا جائے ۔ اگر وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس پاکستان کی جعلی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے کا پتہ صرف چار دن میں لگ سکتا ہے اور لاہور بم دھماکوں میں ملوث ملزمان کا پیج کہاں سے آپرٹ ہو رہا ہے اس کا پتہ صرف پانچ دن میں لگ سکتا ہیں ۔تو ان گستاخ بلاگرز کو کیوں نہیں لگ سکتا ہے ۔ ایف آئی آئے ، پی ٹی آئے اور سائیبر کرایم کے وہ تمام ادارے جن کو میاں نواز شریف صاحب کے خلاف لگنے والے نعرے تو نظر آتے ہے ۔ مگر نبی اکرم ﷺ ،صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین اور امہات الموئمینین ؓ کی شان میں ہونے والی ترین گستاخی نظر نہیں آتی یا نظر انداز کردی جاتی ہیں ۔خدارا مزید مسلمانوں کے جذبات سے مت کھیلوں اور جسٹس شوکت عزیزصدیقی صاحب کے فیصلوں پر عمل درامت کرتے ہوئے گستاخان رسول ﷺ کے خلاف فوری اور عملی کاروائی کرکے مزید انتشار کو روکھیں۔جب تک کوئی کامل مسلمان نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے ماں باپ، بیوی اور بچوں سے زیادہ عزیز رسول خدا ﷺ کو نہ جانے (مفہوم حدیث رسول ﷺ )

اﷲ ہم سب کو محمد عربی ﷺ سے سچی اور کامل محبت کرنے کو توفیق عطاء کر اور آپ ﷺ کی سیرت کو اپنانے والا بنا ئے (آمین)

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Mar, 2017 Total Views: 113 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 39 Articles with 5896 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB