کچھ باتیں والدین سے

(Sana, Lahore)

کہ آج ہم بچوں کے پیراڈائم اتنے نہیں بنا رہے جتنا کہ میڈیا بنا رہا ہے۔ ہر اشتہار کسی نہ کسی خیال سے منسلک ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکیاں دیر تک باہر رہ سکتی ہیں، لڑکیاں کانفیڈنٹ ہیں اگر وہ منہ توڑ جواب دیں، لڑکیوں کو کوئی روک نہیں سکتا ، وہ لڑکوں کے برابر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکا لڑکی کی دوستی اچھی ہے، زندگی مزہ ہے، موبائل مہنگا نہ ہوا تو آپ کیا جئے
انگلش کا ایک لفظ ہے
Paradigm
اسکا مطلب ہوتا ہے سوچنے کا راستہ اور طریقہ۔ ہم سب اس بات سے انجان ہیں کہ ہمارے دماغ میں شاید اتنے ہی پیراڈائمز ہیں جتنے کہ ہمارے سر پر بال ہیں۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز جو ہم کر رہے ہیں وہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی پیراڈائم کی وجہ سے ہی ممکن ہے کہ ہم کچھ کرنے کا سوچتے ہیں اور ہمارے دماغ میں وہ پیراڈئم حاضر ہو جاتا ہے جو کہ ہمیں اس کام کو کرنے میں مدد دیتا ہے۔
مثال کے طور پر آپ ایک انسان کو بتا بتا کر تھک گئے کہ جی نماز وقت پر پڑھنی چاہئے مگر اسکے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ مگر ایک وقت ایسا آیا کہ رمضان میں اذان سنتے اور نماز پڑھتے اسکو خود خیال آگیا کہ جی نماز تو وقت پر پڑھنی چاہہئے اور وہ وقت پر پڑھنے بھی لگ گیا تو یہ تبیدیلی اسکے اپنے پیراڈائم کی وجہ سے ہی آئی ہے۔
ایک انسان نے اپنے گھر میں کسی کو مرتے ہوئے دیکھا اور اس بات کا اس پر اتنا اثر ہوا کہ وہ ہر روز عشاء کے بعد سورہ الملک پڑھنے لگا تو یہ خود اسکے اپنے پیراڈائم میں تبدیلی آگئی۔
کسی شخص نے دوسرے انسان کو ہیپاٹائٹس سے لڑتے دیکھا تو اسکو خود خیال آیا کہ زندگی میں تازہ خوراک بڑھا دینی چاہئے جبکہ اس سے پہلے صرف جنک فوڈ پر گزارہ تھا۔
آپ زبردستی کسی کے پیراڈائم کو بدل نہیں سکتے اور کسی کو دبا نہیں سکتے کہ وہ سوچے بھی اسی طرح سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح سے اسکے والدین سوچتے ہیں ۔ آج جو والدین اور اولاد کے بیچ میں مسئلہ ہے وہ یہی ہے کہ والدین ایک طرح سے سوچ رہے ہیں اور اولاد دوسری طرح سے۔
پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ آج ہم بچوں کے پیراڈائم اتنے نہیں بنا رہے جتنا کہ میڈیا بنا رہا ہے۔ ہر اشتہار کسی نہ کسی خیال سے منسلک ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکیاں دیر تک باہر رہ سکتی ہیں، لڑکیاں کانفیڈنٹ ہیں اگر وہ منہ توڑ جواب دیں، لڑکیوں کو کوئی روک نہیں سکتا ، وہ لڑکوں کے برابر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکا لڑکی کی دوستی اچھی ہے، زندگی مزہ ہے، موبائل مہنگا نہ ہوا تو آپ کیا جئے
اس طرح کے بیش بہا خیالات ہماری مرضی کے بغیر ہم سکرین پر دیکھتے رہتے ہیں ۔ اب جو ہم جیسے لوگ ہیں وہ تو خیر سے جب بڑے ہو رہے تھے تو اس طرح کے اشتہارات کی یلغار سے محفوظ تھے۔ انکو کو ہر وقت ٹی وی موبائل کی سکرین یا بل بورڈز پر اس طرح کے خیالات پڑھنے اور دیکھنےکو نہیں ملتے تھے۔
مگر آج کے بچے پیدا ہونے سے لے کر بڑے ہی ان اشتہارات کے ساتھ ہوئے ہیں۔ اسی لئے انکو یہ خیالات اور ان پر پھر عمل کرنا ایک عام سی اور نارمل بات لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رکھئے گا کہ میڈیا ہر منفی چیز کو بھی خوبصورتی کے لفافے میں اس طرح سے لپیٹ کر دکھاتا ہے کہ آپ کو خود کو بھی اندازہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کتنی اپنی اقدار اور اخلاقیات کے مخالف چیز دیکھ رہے ہیں۔

تب آپ کو اصل اندازہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب بچہ اس پر عملی قدم اٹھانے کے لئے تیار کھڑا ہوتا ہے۔
پھر شروع ہوتی ہے والدین اور اولاد کے بیچ وہ جنگ جس میں کسی کو کسی کی سمجھ نہیں آتی اور کوئی کسی کی سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ دونوں کو ہی ایک دوسرے سے بے پناہ شکایات ہو رہی ہوتی ہیں۔
اب اسکے لئے عملی اقدامات آپ اٹھانا ابھی سے شروع کردیں خواہ آپ کا بچہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے خیال میں یعنی کہ چار پانچ سال تک کے بچے کے سامنے بھی آپ ان ٹپس پر عمل کر سکتے ہیں۔
آپ جتنی جلدی اُنکے پیراڈائمز جو اشتہار سے بن رہے ہیں انکی راہ میں حائل ہوں گے ۔ بہتر ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر
1۔ خود اپنے پیراڈائمز بھی بنانے کے لئے کام کریں۔۔ اخبارات پڑھیں یا معلوماتی اور سوسائٹی سے متعلقہ کتاب یا لٹریچر آپکی رائے بنانے اور چیزوں کو وضاحت کے ساتھ بتانے میں آپکی مدد کر سکتا ہے۔

2۔ بچوں کے ساتھ بحث لمبی لمبی ہرگز ہرگز نہ کریں۔ کیونکہ آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔ آُپکے بچے کو کونسی چیز کیا اور کس طرح ہے آپ سے بحی ذیادہ پتہ ہے۔
اسی لئے بحث میں پڑنے سے خواہ آپکا بچہ کتنا ہی غلط بول رہا ہو ۔ بچت رکھیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ بحث کر کر کے آپ اپنی پاور کھونے لگتے ہیں۔
جس بات کے لئے کسی کو بھی بحث کر کے قائل کرنا چاہیں وہ اُسی بات کے بطور خاص خلاف ہوگا۔
3۔ ہر وقت تنقید نہ کریں کہ یہ کیوں کر رہے ہو وہ نہ کر و ایسے نہ نہ کرو ویسے مت کرو۔
اب کے بچے والدین سے دور بھاگتے اسی وجہ سے ہیں کہ وہ اس طرح کہہ کہہ کر اتنا بد دل کر دیتے ہیں کہ وہ پاس بیٹھنا بھی نہیں چاہتے۔
4۔ ایک حد تک آزادی دیں تاکہ اولاد کے اندر فرسٹریشن نہ پیدا ہو۔
5۔ آخری بات سب سے اہم جو کہ سب سے پہلی والی بات کا سد باب کرنے کے لئے ہے۔ اپنی اولاد کے ساتھ ڈسکشن کرنا سیکھیں۔
جب آپ سیکھنے اور پڑھنے والے ہوں گے آپکی اپنی بھی رائے ہو گی تو آپ مختلف موضوعات پر آج کے بچے کے ساتھ اچھی طرح سے بات چیت کرسکیں گے۔
جب اشتہارات نظر آئیں ۔ آپ آرام سے اس اشتہار میں جو بات غلط ہے اسکو غلط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہتر انداز میں اور بچے کی عمر کے مطابق کہ سکیں۔ تاکہ بچے کو آئیڈیا ہو جائے کہ ایک خیال یہ بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُسی وقت بچہ آپکا بیان کدہ خیال ٹھیک اور اشتہار کا خیال غلط تو نہیں مانے گا۔

مگر اس سے یہ ہو گا کہ بچے کے پاس ایک اور خیال جائے گا۔ جس پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی غور فرمائے گا۔
انسان کا دماغ ہے ہی ایسا کہ جو بھی اندر جائے کہیں نہ کہیں رہ ہی جاتا ہے۔
سب سے پہلے آپکو خود ٹھیک اور غلط کا پتہ ہونا ضروری ہوگا۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
01 Mar, 2017 Total Views: 262 Print Article Print
NEXT 
About the Author: sana

A soft skills trainer and enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniqu.. View More

Read More Articles by sana: 194 Articles with 80640 views »
Reviews & Comments
Nice article,,,,,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Mar, 02 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB