شہباز قلندر مست کا پانچواں چراغ

(Munir Bin Bashir, Karachi)

ہم نے اپنے حصے کا پانچواں چراغ روشن کر نا اور روشن رکھنا ہے

نام اس کا تھا علی یار - وہ میرے پاس ویلڈر تھا - جب بھی اس سے ملتا تو وہ کوئی نہ کوئی ایسی گہری سوچ والی بات کر دیتا کہ بعد میں فرصت کے وقت اسی کی گہرائیوں میں غوطے لگا رہا ہوتا - میں اسٹیل مل میں بطور انجینئر کام کر رہا تھا -

ایک مرتبہ چائے کا وقفہ تھا - دن کے دس بجے تھے - پلانٹ پر کوئی مسئلہ نہیں تھا - ذہن پر کوئی خاص بوجھ نہیں تھا - میں چائے کا کپ لیکر بھٹی کی چمنی کے قریب کھڑا ہلکے ہلکے چسکیاں لے رہا تھا - اس نے بھی اندازہ لگا لیا کہ میرا موڈ اچھا ہے - وہ دھیرے سے میرے قریب آیا ادھر ادھر کی باتیں کیں اور پھر کہنے لگا "صاحب جی -- پانچواں چراغ بالن کا موقع مل رہا ہے - اپ کو بھی اور مجھے بھی چاہیئے کہ اس سے فائدہ اٹھالیں "

میں سمجھ نہیں سکا - اس کا لہجہ بھی کبھی کبھی بہت ہی سرائیکی ہو جاتا تھا- یہ اسوقت ہوتا جب وہ کسی جذب کی کیفیت میں ہو - اس وقت شاید وہ اسی عالم میں تھا - میں نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا - اس نے وضاحت کی "سر ----- سی بی میں لال شہباز قلندر کی مزار کا گنبد بنا یا جارہا ہے - میری وہاں پر ٹرانسفر کروا دیں اور پانچواں چراغ بالن ( روشن ) کرنے دیں - پی-ایس-ایف -سی - ایل کو اسٹیل مل والے سی بی کہتے تھے - یہ پاکستان اسٹیل مل کا ایک ذیلی ادارہ تھا جو اسٹیل مل کی تعمیر کے دوران مخلتف اشیا بنا کر اسٹیل مل کو مہیا کرتا تھا اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس کا یہ کردار ختم ہو گیا تھا - اب انتظامیہ نے اسے پاکستان اسٹیل مل سے جدا کر کے ایک جدا گانہ حیثیت دے دی تھی اور الگ کارخانے کی صورت میں کام کر رہا تھا - لیکن پھر بھی اس کا لنک اسٹیل مل سے کسی نہ کسی صورت میں بہر حال تھا - ان دنوں وہاں پر حکومت سندھ کے لئے لال شہباز قندر مست کی مزار کا کا گنبد بنایا جا رہا تھا - اسے بنا کر کراچی سے سیہون شریف منتقل کر نا تھا- علی یار مزید کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ مجھے کسی نے آکر بتایا کہ کوئی اہم فون ہے -مجھے بلایا جا رہا ہے - اس زمانے میں موبائیل ٹیلی فون نہیں آئے تھے - ہماری بات ادھوری رہ گئی اور میں ٹیلی فون کے کمرے کی طرف بڑھ گیا -

دوپہر کھانے کے وقت میں نے ایسے ہی اس بات کا تذکرہ اپنے دیگر ساتھیوں سے کیا تو سلیم صاحب مرحوم نے کہا "منیر صاحب پتہ ہے وہ کس چیز کا حوالہ دے رہا تھا - آپ نے وہ قوالی سنی ہے "او لال میری پت رکھیو بلا جھولے لالن " اور اس سے پہلے میں ہاں یا نہ میں جواب دیتا مرحوم نے مزید تشریح کرنا شروع کی - آپ پوری منقبت سنیں

لال میری پت رکھیو بھلا جھولے لالن
سندھڑی دا - سیہون دا - دما دم مست قلندر
چار چراغ تیرے بلن ہمیشہ -
پنجواں میں بالن آئی آں -

سر جی اس کا مطلب یہ ہے کہ شہباز قلندرمست کی برکات کے سبب چار سو روشنی ہی روشنی ہے - لیکن ہم نے اپنے حصے کا پانچواں چراغ روشن کر نا اور روشن رکھنا ہے - کسی نہ کسی صورت میں - -دھمال کی صورت میں - تبرک پہنچانے کی - تبرک یہاں سے لے جا کر دوسروں کو دینے کی صورت میں - لوگوں کی بھلائی کی صورت میں - چرند ، پرند ، درند کی خدمت کی صورت میں - علی یار اس گنبد کی تعمیر میں حصہ لے کر اپنا چراغ جلانا چاہتا ہے یعنی دوسرے الفاظ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے اور اپنے کو ہمیشہ شہباز قلندر کے قریب رکھنا چاہتا ہے -

ہندو بھی اپنے دل میں ان کے لئے بہت لگاؤ رکھتے تھے کیوں کہ وہ ایک یگانگت واے سماج کا استعارہ تھے جہاں سب لوگ مذہبی و علاقائی فرق کئے بغیر امن آشتی اور شانتی کے ساتھ رہیں - اسی سبب سے ہندو انہیں اپنے دیوتا ' جھولے لال' کا درجہ دیتے تھے اور ہندؤں میں ' جھولے لال ' سے ہی مقبول تھے -

جمعرات 9 فروری 2017 کو جب مجھے دربار کے اندر دھماکے کی صورت میں واقعہ فاجعہ کی اطلاع ملی تو میں ایک عجب سی کیفیت میں ہوں کہ یہ کیا ہوا لیکن کوئی مجھے کہہ رہا کہیں سے آوازیں آرہی ہیں ہے ہم نے اپنے حصے کا پانچواں چراغ روشن کر نا اور روشن رکھنا ہے - کسی نہ کسی صورت میں - تبرک پہنچانے کی - تبرک یہاں سے لے جا کر دوسروں کو دینے کی صورت میں - لوگوں کی بھلائی کی صورت میں - مذہبی و علاقائی فرق کئے بغیر امن آشتی اور شانتی کے ساتھ رہنے کا چراغ ---------
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
22 Feb, 2017 Total Views: 573 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Munir Bin Bashir

B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 80 Articles with 81472 views »
Reviews & Comments
One comment on Face Book

Janardhan Das says

Jhulelal is revered by both Hindus and Muslims, who refer to him by several names including Lal Sai, Uderolal, Varun Dev, Doolhalal, Dariyalal and Zinda Pir. Faith has
established Jhulelal as the Asht Dev (community God) of Sindhis.
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Feb, 28 2017
Reply Reply
0 Like
حیدر آباد دکن میں بھی ہندو ------ ایک مسلمان شخصیت ----- کو اوطار کی حیثیت دیتے تھے - یہ تھے حکومت نظام کے سلسلے کے ایک حکمران جناب محبوب علی خان ( 1879 سے 1911) --

مولانا عبدالماجد دریا بادی اپنے سفر نامے شائع کردہ بہادر یار اکیڈمی کراچی (1977) میں صفحہ 30 پر انکا تزکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب بھارت نے حیدر آباد ریاست میں پولیس ایکشن کیا تو ہندوؤں کے ایک بہت بڑے ہندو لیڈر نے کہا کہ “زمانہ اگر محبوب علی کا ہوتا تو ہم سب مل کر بھارت پولیس ایکشن کا مقابلہ کرتے -
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Feb, 25 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB