ٓآ ج کے بچے اور محبت کی داستان

(Qurat tul ain, Faisalabad)

آج کل کے زمانے میں ہر کسی کو محبت ہو جاتی ہے ۔ اس محبت کا یہ عالم ہے کہ دس سال کی عمر میں جب ہم اپنے کسی دل پسند کھلو نے کے ٹو ٹ جا نے پر رو یا کر تے تھے مو جو دہ دور میں دس سال کے بچے اپنے کسی ٹیچر کے عشق میں روتے ہوئے اور خو د کشی کر تے دکھائی دے ر ہے ہیں ۔۔۔ اور کہیں تو حالات یہ ہیں کہ اپنے ہی کسی کلاس میٹ کی محبت میں گر فتار ہو ر ہے ہیں اور جہاں کہیں ماں باپ نے سید ھا ر استہ دکھا نا چا ہا تو بچے نے نکا لی باپ کی پستول اور لڑکی کو نشانہ بنا نے کے بعد خود کو بھی گو لی ما ر لی۔۔۔ یوں ایک دا ستاں شروع ہو نے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔ اور رہ گئے بچا رے ماں باپ رونے کے لیے۔۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے بچو ں کو یہ آ ئیڈ یا ز آ تے کیسے ہیں ؟ کو ن ہے جو اس نسل کو خراب کر ر ہا ہے؟ کیا اس میں قصور ماں باپ کا ہے کہ جنہوں نے بچو ں کو توجہ نہ دی اور بچوں نے گھر کے باہر محبت تلاش کی؟ یا پھر قصور وار یہ معاشرہ ہے جو ہمارے بچوں کے ذ ہن خراب کر رہا ہے۔

ہمارے ٹی وی پر چلنے والا کو ئی بھی ایسا پرو گرام نہیں ہے جس کو ایک فیملی شو کہاجا سکے ۔ یا جسے ما ں ، باپ اور بچے مل کر دیکھ سکیں ۔ با لخصوص ٹی وی سریلز اور reality shows سے ایسے بہت سے ٓ ائیڈیاز ملتے ہیں جس کو دیکھ کر ایک اچھا خا صا انسان مجرم بن جاتا ہے اور بچہ تو پھر کچے ذہن کا ہو تا ہے۔ اور تو اور کا رٹوں سر یلز بھی فحاشی کا منبع ہیں ۔ بچے کا ذہن ایک کو ڑے کا غذ کی ما نند ہے اس پر جو کچھ کندہ کر دیا جا ئے بچہ ویسے ہی سو چنے لگتا ہے۔ لیکن اس معا ملے کو پو ری طرح ٹی وی پر نہیں ڈالا جا سکتا ۔ جہاں پر انٹر ٹینمنٹ کو فحا شی سے پاک کر نے کی ضرورت ہے وہاں ماں باپ کا پورا فرض بنتا ہے کہ بچے کی ایکٹو ٹی پر توجہ دی جائے تا کہ ا ٓئندہ کسی ماں کی گو د خا لی نہ ہو۔ ماں پاب کی تو جہ اور محبت ہی وہ واحد چیز ہے جو اولاد کو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتے ہیں ۔ بچے کو یکسر نظر انداز کر دینا اور اس کے معا ملات پر تو جہ نہ دینے کا نقصا ن بچے کے ساتھ ساتھ ماں باپ کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
09 Feb, 2017 Total Views: 410 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Qurat tul ain

Read More Articles by Qurat tul ain: 4 Articles with 1408 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Bilkul Theek Likha Aap ny...
Very Nice
By: Abdul Kabeer, Okara on Feb, 22 2017
Reply Reply
0 Like
بچے محبت کرتے ہیں یہاں وہاں ملتے ہیں بات شادی تک آئے تو گھر تک رشتہ بھی جاتا ہے مگر والدین ضد اور انا کے چکر میں بچوں کی زندگی سے کھیلتے ہیں اور کچھ محبت کے نام پر عزت و ناموس سے کھیلتے ہیں محبت کو بدنام اورتماشہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے اورسب سمجھتے ہیں کہ محبت گناہ ہے کاش ایسے لوگ سمجھ سکیں کہ محبت گناہ ہو سکتی ہے مگر نکاح نہیں ہے تو کیوں محبت کرنے والوں کو نکاح میں نہیں آنے دیا جاتا ہے۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Feb, 20 2017
Reply Reply
0 Like
G meri khani b kuch esi tra ki hy men b ksi ki pyar men grftar hun or men apne bap ki ki 2 dafa minat kr chuka hun k meri shadi jis se m pyar krta hun us se kr do larki ke ghr wale razi hen or bap mera zid par hy ab men kis ko ksorwar kho mashry ko ya ksi or ko
By: Muhammad mohsin , Fortabbas on Feb, 17 2017
Reply Reply
0 Like
Bhai Jan Aap Allah Ky Hazoor Dua Krain
Allah Pak Behtar Faisla Krain Gye
By: Abdul Kabeer, Okara on Feb, 22 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB