مناسب رشتہ تلاش کرنا آسان یا وبالِ جان؟ فیصلہ آپ خود کریں!

 

پہلے زمانے میں بلاشبہ شادی کرنا کوئی خاص بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا کہ آج کے زمانے میں ہے- گھر کے بزرگ رشتہ طے کر دیتے تھے اور شادی ہوجاتی تھی- مگر اب ایسے حالات نہیں٬ لڑکی پسند کرنے کے لیے لڑکے والوں کی آمد کسی عذاب سے کم نہیں لگتی- آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیوں؟ آپ خود ہی پڑھ لیجیے:


آمد سے قبل کیا جانے والا فون
عموماً لڑکی کے گھر پر رشتہ لے جانے سے قبل ایسا فون ضرور کیا جاتا ہے جس میں یہ سوال کیا جاتا ہے “ آپ ذرا اپنی بیٹی کا وزن٬ قد اور رنگ چیک کر کے بتائیں٬ ہم فون ہولڈ پر رکھتے ہیں“-


آپ کے آباؤ اجداد کے متعلق سوال
ایسے لوگوں کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں ہوتا کہ آپ سندھی٬ پنجابی یا اردو بولنے والے ہیں بلکہ یہ آپ کے آباؤ اجداد کی پوری تاریخ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں- “ والد جب پیدا ہوئے تو ان کے کان میں اذان کس نے دی تھی؟ “آپ کے پردادا کس دفتر میں ملازمت کرتے تھے؟“وغیرہ وغیرہ-


لڑکے والوں کی غیر حقیقی توقعات
عموماً رشتے لانے والوں کی توقعات کچھ ایسی ہوتی ہیں٬ “ ہمیں تو شریف سیدھی سادی لڑکی چاہیے جو دیکھنے میں کترینہ کیف کی طرح خوبصورت ہو٬ ماڈرن ہو٬ پردہ کرے اور گھر سے باہر نہ جائے“- یا پھر “ ہمیں ڈاکٹر بہو چاہیے جو میرے بیٹے سے شادی کر کے بیٹھ جائے اور باقی عمر گول روٹی بنانے میں گزار دے“-


مہمانوں کی تواضح کیسے کریں؟
لڑکی کی والدہ اس پریشانی میں رہتی ہیں کہ “ سموسے٬ رول٬ جلیبی٬ کیک٬ دہی بھلے کافی ہیں یا چائے کے ساتھ ان کو کھانا بھی کھلاؤں؟“-


آخر میں کیسے کپڑے پہنوں؟
لڑکی کے لیے یہ بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے کہ میں پہن کے کیا جاؤں؟ پوری الماری کے کپڑے اس موقع کے لیے مناسب نہیں لگتے- اور آخر میں اسی پریشانی میں رہتی ہیں کہ میں اچھی لگ رہی ہوں یا نہیں؟-


کمرے میں داخل کیسے ہوں؟
اگلا مرحلہ ہوتا ہے کہ ڈرائنگ روم میں داخل کیسے ہوں؟ “ ٹرے تھام کر داخل ہوں٬ اکیلی جاؤں یا امی کے ساتھ“-


اور انٹرویو شروع
لڑکے کی ماں: بیٹا کھانا بنا لیتی ہو؟
لڑکی: جی آنٹی٬ یہ سب کچھ میں نے ہی تو بنایا ہے-

لڑکے کی ماں: مشاغل کیا ہیں بیٹا؟
لڑکی: واٹس ایپ اور فیس بک-


لڑکے اور اس کے گھر والوں کا صرف “ آپ کو “ دیکھنا
بڑی نازک صورتحال ہوتی ہے ایک لڑکی کے لیے کہ جب کمرے میں موجود تمام مہمانوں کی نظروں کا محور صرف “ وہی “ ہوتی ہے- دل کرتا ہے زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے!-


جھوٹی تعریفیں اور لفاظیاں
لڑکے کی ماں جھوٹی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی٬ “ میرا بیٹا تو ماشاﺀ اﷲ بہت ہینڈسم ہے“٬ “بہت معصوم سیدھا سادا ہے میرا بیٹا“- بظاہر دیکھنے میں یہ دونوں باتیں آپ کو جھوٹ لگ رہی ہوتی ہیں-

دوسری طرف رشتہ کرانے کے لیے لفاظیوں کا ریکارڈ بنایا جارہا ہوتا ہے: “ ہمیں بالکل بھی جہیز نہیں چاہیے٬ صرف آپ کی بیٹی چاہیے“- “ آپ کی بیٹی راج کرے گی میں اس کا بہت خیال رکھوں گی“- آپ میں سے 90 فیصد لڑکیوں کو یہ باتیں جھوٹ کے سوا کچھ نہیں لگ رہی ہوں گی!


جانے کے بعد لڑکے کی ماں کا دوبارہ فون آنا
ملاقات کے اگلے روز آپ کو بےچینی سے جواب کا انتظار ہوتا ہے- اور پھر جب لڑکے کی ماں کا فون آتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ “ استخارہ صحیح نہیں آیا“ تو یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہ محض ایک بہانہ ہے اور آپ کو انکار کردیا گیا ہے-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
06 Feb, 2017 Total Views: 12991 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
i have 6 years expriense sub theek hai lekin is ka salution kiya hai ? mai tu larka ho kar b aram se ghar he bath geya hoon ab jo ho ga kud he nasseb mai a jeye ga try try again
By: syed wazir ali naqvi, rawalpindi on Feb, 07 2017
Reply Reply
0 Like
Main bary adab sy kehna chahta hun k ye bemari sirf larky waloon ki hi nahin balky larki waloon ki tarf sy bhi ha or iska khamyaza hum ny 10 sal bhugta ha. Ager ye kaha jay k demands sirf larky waloon ki hoti hn to galat ha. Demands larki waloon ki aj kal larky waloon syou ziada hn maslan ya to larka bahir hona chaiy chahy wahan Bartan hi q na dhota ho, ager bahir ni to uski job govt honi chaiy or us mn b wo koi bht bara officer ho. Private b job krta ho MD k nichy na ho, usk bad apna gher ho, gari honi chaiy, larky ka status prime minister sy km ni hona chaiy. Shadi k for an Bad larka larki ko ly k separate home mn jay or or or.... khair ye bht bari jahalat ha aj kal hmary muashry mn qk hum ny apny apko zarooriat e zindgi ki had tk mehdoodh kr dia ha or humyn har tara ki zaroorat agly gher sy hi milny chaiy na k hum khud kch karyn. Ye aik bht bara lamha e fikria ha hmari any wali generation k liy or khud hmary liy b
By: Irfan , Hannover Germany on Feb, 07 2017
Reply Reply
0 Like
Absolutely Right aesa he ho raha hai is dour mein... ALLAH hum sab ko naik hidayat day Aameen ...
By: Danish Khan , Karachi on Feb, 07 2017
Reply Reply
0 Like
ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم اپنے دین کی تعلیمات پر درست طور سے عمل کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں یہاں لڑکیوں کے بالوں میں سفیدی آجاتی ہے مگر ہم بناجہیز کے اور خوب صورتی کے کسی کو اپنی بہو بنانے کو تیار ہی نہیں ہوتے ہیں۔کہیں اگر بدقسمتی سے کوئی ایسا کرنے کا سوچ بھی لے تو لڑکی کے والدین کی طرف سے یہ جانتے بوجھتے کہ لڑکی کی پسند بھی شامل ہے اور جہیز بھی نہیں دینا پڑے گا وہ محض اس وجہ سے کہ لڑکی کا والد یا والدہ لڑکی کی شادی اپنے ہی بھائی یا بہن کے ہاں کرنا چاہ رہے ہیں تو لڑکے کی شرافت اور غریبی کے ساتھ اپنی ہی بیٹی کو پسند کی شادی کی سزا انکار کی صورت میں دیتے ہیں ۔بہت کم ایسا ہوتا ہے جہاں والدین اپنی ہی بیٹی یا بیٹے کی پسند کی خاطر جھک کر اپنے بچوں کی خوشی کو دیکھتے ہیں۔بہت سے والدین تو اگر کوئی پسند کی شادی کے حوالے سے اُنکے گھر تک پہنچ جائے تو اُنکی ’’خاطر تواضع‘‘ ایسی کرتے ہیں کہ وہ پھر وہاں جانے سے ہی انکاری ہو جاتے ہیں اور کچھ ایسا اس لئے بھی کرتے ہیں تاکہ پھر سے ’’مہمان‘‘اس حوالے سے وہاں آتے ہوئے ہزار بار سوچیں یا اِیسے سلوک کے بعد ازخود ہی رشتہ لینے سے انکاری ہوجائیں۔یعنی ہم نے اب اس نکاح جیسے مقدس معاملے کو بھی ایک ایسا معاملہ بنا لیا ہے جس میں فساد کرنا اور کرانا لازمی ہوگیا ہے جو کہ ہماری بدقسمتی ہے
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Feb, 06 2017
Reply Reply
4 Like
apno me to keerey (false) itne nazar arahe hote hn...
By: zai,, karachi, on Feb, 05 2017
Reply Reply
3 Like
haha bht achai aur interesting mozo per kalam uthaya hai bahi.
By: Alina, Islamabad on Feb, 05 2017
Reply Reply
2 Like
Sab Apnay Apnoo me he rishta talash krnay ki har mumkin koshish krain to in tamam jhotoon or bey waja interrogation se chhutkara paya ja sakta hai.
By: MUHAMMAD AMJAD, Karachi on Feb, 05 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Marriage isn’t a small decision, neither for the guy and nor for the girl and despite there being good people around who don’t typically do this, any girl who has ever had rishtay waalay come over to see her for their son can relate to being confronted with such people.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB