نمونیہ کی علامات٬ وجوہات اور علاج٬ ڈاکٹر مبینہ آگبٹوالہ

 

عالمی سطح پر پاکستان ان ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں نمونیہ انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے- ویسے تو یہ مرض سارا سال ہی پایا جاتا ہے لیکن موسم سرما میں یہ بیماری زیادہ سے زیادہ پھیلتی ہے بالخصوص اس وقت تک جب شدید سردی ہو- نمونیہ کا اگر بروقت اور درست علاج نہ کروایا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے- ہماری ویب نے نمونیہ سے متعلق اہم معلومات کے حصول کے لیے معروف چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر مبینہ آگبٹوالہ سے خصوصی ملاقات کی اور ان سے نمونیہ کی وجوہات٬ علامات اور اس کے علاج کے بارے میں دریافت کیا-ڈاکٹر صاحبہ اس خطرناک بیماری کے بارے میں کیا معلومات فراہم کرتی ہیں٬ آئیے جانتے ہیں-

ڈاکٹر مبینہ آگبٹوالہ کہتی ہیں کہ “ آج کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں سردی شدت اختیار کررہی ہے٬کہیں بارش٬ کہیں ٹھنڈی ہوائیں اور کہیں برفباری ہے٬ ایسے موقع پر کئی بیماریاں سر اٹھاتی ہیں جن میں سے ایک نمونیہ بھی ہے“-
 


“ ویسے تو نمونیہ سال بھر رہتا ہے لیکن سردی کے موسم میں یہ زیادہ پھیلتا ہے- نمونیہ بچوں اور بڑوں میں یکساں پھیلتا ہے اور اگر اس کا صحیح طریقے سے علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے“-

“ نمونیہ کو "infection of lungs" کہتے ہیں اور اس کی دو اقسام ہوتی ہیں- ایک قسم میں پھیپھڑوں کا ایک پورا حصہ انفیکشن کا شکار ہوجاتا ہے جبکہ ایکسرے میں پھیپھڑوں پر سفید رنگ کے Patches نظر آتے ہیں -

“دوسری قسم میں نمونیہ پھیپھڑوں کے تمام حصوں میں موجود سانس کی نلکیوں کے ذریعے پھیلتا ہے- یہ قسم 6 ماہ سے 2 سال کے بچوں میں عام پائی جاتی ہے جبکہ نمونیہ کی پہلی قسم بڑے بچوں یا بالغ افراد میں عام ہے“-
 


“ یہ دونوں نمونیہ مختلف جراثیم کی وجہ سے ہوتے ہیں جبکہ دونوں نمونیہ لاحق ہونے کے جراثیم بھی علیحدہ ہوتے ہیں“-

ڈاکٹر مبینہ کا مزید کہنا تھا کہ “ بچوں میں نمونیہ تیز بخار کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ساتھ ہی نزلہ٬ ناک سے پانی بہنا اور کھانسی کی شکایت بھی پیدا ہوجاتی ہے- لیکن والدین اسے عام بات سمجھتے ہیں جبکہ یہ خطرناک علامات ہوتی ہیں اور فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے“-

“ نمونیہ بچوں میں 12 سے 24 گھنٹے کے دوران بڑھ جاتا ہے- ایسے میں ماؤں کو چاہیے کہ چند باتوں پر ضرور نظر رکھیں- ایک یہ کہ بچے کی سانس کی رفتار کیا ہے؟ بچوں اور بڑوں کے سانس لینے کی رفتار میں فرق ہوتا ہے- اگر بہت چھوٹا بچہ ہے تو اسے ایک منٹ کے دوران 50 مرتبہ سانس لینا چاہیے اور اگر اس سے زیادہ ہے تو یہ خطرناک بات ہے“-

“ اگر 2 سال سے زیادہ عمر کا بچہ ہے اور ایک منٹ میں 40 سے زائد مرتبہ سانس لے رہا ہے تو یہ بھی خطرے کی علامت ہے- آپ اپنی گھڑی کے ساتھ بچے کے سینے کے اوپر نیچے ہونے کی تعداد کو چیک کریں“-

ڈاکٹر مبینہ نمونیے کی مزید علامات کچھ یوں بتاتی ہیں کہ “ دوسری علامت بچے کی پسلیوں کا تیز تیز چلنا ہوتا ہے جبکہ تیسری علامت یہ ہے کہ پسلیوں اور پیٹ کے درمیان گڑھا سا بن جاتا ہے“-
 


“ بخار کے ساتھ یہ تینوں علامات بجوں میں پائے جانے والے نمونیہ کی ہیں- اور اگر آپ کو یہ دکھائی دیں تو فوراً بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جائیں- اب ڈاکٹر فیصلہ کرے گا کہ بچے کو واقعی نمونیہ ہے یا پھر سینے کا انفیکشن ہے“-

“ اس کے علاوہ بچے کی ناک سے خر خر کی آواز بھی آتی ہے- یہاں تک کہ آپ نارمل سلائن بھی ڈالتے ہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوتا“-

ڈاکٹر مبینہ کہتی ہیں کہ “ نمونیہ کی تصدیق کے لیے عموماً خون کا ٹیسٹ اور ایکسرے کروایا جاتا ہے- نمونیہ لاحق ہونے کی صورت میں فوراً اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال شروع کروایا جاتا ہے- اب بچے کو کونسی اینٹی بائیوٹک دینی ہے اور کتنی مقدار میں دینی ہے اس بات کا فیصلہ بھی ڈاکٹر خود کرے گا“-

“ نمونیے کا علاج صرف اینٹی بائیوٹک اور انجیکشن کے ذریعے ہی ممکن ہے- ہمارے ہاں خود سے دوائیاں لینے کا رجحان بہت زیادہ ہے لیکن یاد رکھیں نمونیے کا علاج کبھی ایسے نہیں ہوسکتا“-

اکثر مریض اسپتال میں داخل ہونے سے انکار کردیتے ہیں اور بضد ہوتے ہیں کہ انہیں دوائی دے کر گھر بھیج دیا جائے- اگر چیسٹ انفیکشن ہو تو مریض کی بات مانی جاسکتی ہے لیکن نمونیہ میں مریض کو ضرور اسپتال میں رکھنا پڑتا ہے کیونکہ اس میں مریض کو IV Antibiotics دی جاتی ہیں اور اکثر Nebulize بھی کیا جاتا ہے“-

“ خود سے دوائیاں استعمال کرنے سے نمونیہ بگڑ بھی سکتا ہے اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے“-

ڈاکٹر مبینہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ “ نمونیہ میں اینٹی بائیوٹکس کا کورس 7 سے 10 دن کا ہوتا ہے اور اس میں خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے دوبارہ بھی کروائے جاتے ہیں“-
 


“ نمونیہ میں کھانسی شدید ہوتی ہے اور اس کھانسی کے ساتھ بلغم بھی آتا ہے- چھوٹا بچہ بلغم باہر نہیں نکال پاتا اور وہ خر خر کرتا ہے- ایسے میں بچے کو ایک خاص انداز کے ساتھ رکھا جاتا ہے کہ وہ باآسانی بغلم باہر نکال لے اور یہ بلغم پیلے رنگ کا ہوتا ہے“-

نمونیہ سے بچاؤ کے بارے میں ڈاکٹر مبینہ کا کہنا تھا کہ “ چھوٹے بچوں کو نمونیہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں اور بالغ افراد بھی نمونیہ سے بچاؤ کے خاص انجیکشن ضرور لگوائیں“-

“ اس کے علاوہ بچوں کو سرد ہواؤں اور ٹھنڈ سے محفوظ رکھیں- بعض ایک ہی کمرے میں چار پانچ افراد کمرہ بند کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو نمونیہ ہوتا ہے- یاد رکھیں نمونیہ کھانسی اور چھینکوں سے دوسرے افراد تک پھیلتا ہے اس لیے کمرے میں تھوڑا بہت ہوا کا گزر ضرور رہنے دیں“-

“ اگر آپ بروقت نمونیہ کا علاج کروا لیں گے تو نہ تو یہ آپ کے بچے کے لیے خطرناک ثابت ہوپائے گا اور نہ ہی اسے زیادہ نقصان پہنچا سکے گا“-
 

 

Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
27 Jan, 2017 Total Views: 3045 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
At international level, Pakistan ranks third among those countries where Pneumonia is increasing at a rapid rate. Although, this disease is there throughout the year but its intensity increases during winters . Pneumonia can be fatal if its not treated at the right time. In order to discuss the causes, symptoms, and treatment options of Pneumonia; HamariWeb team visited famous Child Specialist, Dr. Mubina Agboatwala. The information gathered in this interview is presented in this article.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB