جہیز ایک لعنت

(Afsana Mehar, )

ہمارے معاشرے میں جہیز ایک لعنت کی شکل اختیار کر گیا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں شان و شوکت یا امارت کا اظہار، نمود و نمائش، شہرت اور تفاخر کا اظہار، اسراف کی حد تک اس کا اہتمام اور وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ یا محض ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی رسم کے طور پرعدم استطاعت کے باوجود قرض لے کر اس کا اہتمام کرنا شامل ہیں ..

آج کے دور میں لوگوں کی حیثیت اور مرتبہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو کتنا جہیز دے سکتے ہیں۔ شادی پر کتنا خرچ کر سکتے ہیں۔ لوگ خود بھی اپنی بیٹی کو جہیز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو زیادہ سے زیادہ جہیز دیں تاکہ وہ اپنے سسرال میں پریشان نہ ہو اور اس کو وہاں طعنے نہ سننے پڑیں.. سونے پر سہاگہ لڑکے والے بھی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے خاندان میں شادی کی جائے جو ہمیں ہمارے مرتبے کے مطابق جہیز دیں۔

میری نظر میں اس لعنت کے فروغ کے ذمہ دار ہر وہ اپرمڈل کلاس اورامیر طبقے سے تعلّق رکھنے والے لوگ ہیں جو اپنی بیٹیوں کو جہیز دے کر باقی تمام لوگوں کو پابند بنا دیتے ہیں کے اب وہ بھی اپنی بیٹیوں کو بھر بھر کر جہیز دیں.. امیر حضرات تو اپنی بیٹی کو انتہا سے زیادہ جہیز دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے غریب لوگ بھی اس مصیبت کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی ناک رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کر کے جہیز دیتے ہیں جن کی وجہ سے بعد میں بہت سی پرشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کاش ہم سب مسلمان نبی صلّی الله علیہ وسلّم کی تعلیمات پرعمل کرکے جہیز کی اس روایت کو ختم کردیں تو لالچی لوگوں کے ہاتھوں یوں کسی کی بیٹی کی جان نہ جاۓ...

کراچی میں عائشہ کو اسکے سسرال والوں نے اسی جہیز کے لیے قتل کردیا .. تقریباً ہر روز ہم ٹی وی اور اخبارات میں ایسے واقعات پڑھتے ہیں مگرمیں پوچھتی ہوں آخر کب تک جہیز کے لیے لالچی لوگوں کے ہاتھوں بیٹیاں اپنے والدین کو بھکاری بناتی رہین گی؟

آخر کب تک اس جہیز کی وجہ سے بیٹیوں کا سکھ چین اورانکی زندگی چھین لی جاۓ گی ؟؟

ہمارے معاشرے کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ لڑکی والے چاہےامیر ہوں یا غریب الله کے واسطے جہیز نہ دیں... مگر ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ لڑکیاں خود اپنے والدین سے یہ خواہیش رکھتی ہیں اور بعض اوقات انھیں مجبور بھی کر دیتی ہیں کہ ان کے والدین ان کو گھر کا سارا سامان ، پیسے زیور اور پتا نہیں کیا کیا دیں.. جہیز کے معاملے میں نہ ہی والدین کچھ سمجھنے کو تیّار ہیں اور نہ ہی ایسی لڑکیاں ... میں سمجھتی ہو کہ لڑکی والوں کی یہ شرط ہونی چائے کے ایک "لعنت" کے ساتھ ہم لڑکے والوں کو اپنی بیٹی نہیں دیں گے... ہمیں اپنے بیٹوں کو اتنا خوددار اور اس قابل بنانا چاہیے کہ وہ خود گھر کا سامان خریدے اور اپنی بیوی کی تمام ذمہ داریاں پوری کرے... لڑکی کا شوہر گھر کے سامان کا انتظام کرے چاہے ایک بستر اور کچھ باورچی خانے کا سامان ہی خریدنے کی حثیت ہو اسکی... اور ہم اپنی بیٹیوں کی تربیت اس انداز سے کریں کہ وہ ہر چیز پر صبرو شکر اور قناعت اختیار کریں اور اپنے شوہر سے اسکی حیثیت سے بڑھ کر اور غیر ضروری چیزوں کی ڈیمانڈ نہ کریں...شاید پھ اس معاشرے اور بیٹیوں کے گھروں میں سکون ہوگا...

اب ہم کچھ لڑکے والوں کی چالاکیوں کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں... آج کل انہوں نے جہیز مانگنے کا نیا اندازاختیار کیا ہنے.. یعنی لڑکے والے کہتے ہیں کے "ہمیں تو کچھ نہیں چاہیے ، آپ جو کچھ بھی دین گے اپنی بیٹی کو دین گے"، یا "ہمیں جہیز نہیں چاہیے بس لڑکے کو ذرا set ہونے میں مدد کردیں آپ تھوڑی سی"... مدد میں آپ انھیں جوتا مارلیں مگر جہیز نہ دیں.. یہ ہم نے ہی اپنی پھول جیسی بیٹیوں کوان لالچی لوگوں کے سامنے بوجھ بنا کر پیش کردیا ہےکہ یہ لوگ اب اعلانیہ ہم سے کار اور بنگلےتک کی ڈیمانڈ کرنے لگے ہیں...

میری یہ ہی التماس ہے کہ جیسے ہمارے نبی صلّی الله علیہ وسلّم نے حضرت فاطمہ کا نکاح کیا تھا اتنا آسان نکاح اور شادی ولیمہ کرلیں تو ہر بیٹی خوش رہےگی حضرت فاطمہ کی طرح...

یہاں ایک بات باور کرنا بہت ضروری ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلّم نے اپنی کسی بیٹی کو جہیز نہیں دیا تھا... حضرت فاطمہ کے علاوہ بھی انکی اور بیٹیاں بھی تھیں .. لوگوں نے یہ غلط فہمی پالی ہوئی ہے کہ انہوں نے حضرت فاطمہ کو جہیز دیا تھا.. یہ غلط بات ہے ... نبی صلی الله علیہ وسلّم دراصل حضرت علی کے ولی بھی تھے .. حضرت علی کی کفالت کرنے والے بھی ہمارے نبی تھے... حضرت علی کے پاس حضرت فاطمہ کو دینے کے لیے حق مہرکی رقم تک نہ تھی.. تو ان کو نبی صلی الله علیہ وسلّم نےمشورہ دیا کہ حضرت علی جنگ میں حاصل ہونے والے نیزے کو فروخت کرکے حق مہر کی رقم حاصل کریں اور اس رقم سےہی گھر کا کچھ ضروری سامان خریدا جاۓگا ... لہذا حضرت علی بازار کی طرف گۓ.. راستے میں انھیں حضرت عثمان ملے... حضرت علی نے انھیں سارا معاملہ بتایا... لہذا حضرت عثمان نے ان سے مہنگے دام میں وہ نیزہ خرید لیا... اس رقم سے حضرت علی نے حضرت فاطمہ کو حق مہر ادا کیا...اور اسی رقم سے نبی صلی الله علیہ وسلّم نے حضرت علی کے کفیل کی حثیت سے گھر کا کچھ اھم سامان خرید کر دیا... کیا ہمارے نبی اس معاملے میں ہمیں تعلیم نہیں دی؟؟ کس صحابی یا ازواج مطہرات کے جہیز کے بارے میں ہم نے کبھی پڑھا یا سنا ہے کبھی؟؟

بھرپور جہیز دینے میں وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ بھی کار فرما ہوتا ہے۔ بالخصوص اصحابِ حیثیت اس نیّت سے لاکھوں روپے جہیز کی نذر کردیتے ہیں... پھر واقعی ان کے بیٹے اپنے جائداد والے باپ کی وفات کی بعد اپنی بہنوں کو وراثت سے ان کا شرعی حق نہیں دیتے اور یہی کہتے اور سمجھتے ہیں کہ باپ نے جہیز کی صورت میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دے دیا، اب یہ ساری جائداد صرف بیٹوں کی ہے۔ اس طرح یہ رسم ہندؤوں کی نقل ہے خدارا اس ہندوانہ رواج سے چھٹکارا حاصل کریں..

رمشا اکبر
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Jan, 2017 Total Views: 139 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Afsana Mehar

Read More Articles by Afsana Mehar: 12 Articles with 3599 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB