چھوٹا سا قصبہ دنیا کی کئی بڑی چیزوں کا گھر

 

Casey کا شمار امریکہ کے سب سے چھوٹے قصبوں میں کیا جاتا ہے- یہ قصبہ صرف 2 اسکوائر میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی آبادی 3 ہزار سے بھی کم افراد پر مشتمل ہے- لیکن یہ چھوٹا سا قصبہ دنیا کی کئی بڑی چیزوں کا گھر ہے-
 


اس قصبے میں موجود دنیا کی سب سے بڑی چیزوں میں ہوا سے بجنے والی گھنٹی٬ جھولا کرسی٬ لیٹر بکس٬ اون بننے کی سلائیاں٬ کروشیا٬ لکڑی کے جوتوں کی جوڑی٬ ایک سکہ٬ پنجرہ٬ اسکیل٬ پینسل اور بہت کچھ شامل ہے-

اس قبصے میں پائی جانے والی مندرجہ بالا دنیا کی سب سے بڑی اشیاﺀ میں سے آٹھ بڑی چیزیں ایسی ہیں جن کا نام گںیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے- دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام پرکشش اشیاﺀ کی تخلیق کا سہرا صرف ایک ہی شخص کے سر ہے اور وہ Jim Bolin ہے جو اس قصبے کی ایک کاروباری شخصیت ہے-
 


بولن نے اپنے کاروبار کا آغاز اپنے گھر کے گیراج میں ایک چھوٹے سی دکان کھول کر کیا- اور آج وہ Bolin Enterprises کے نام سے ایک بڑی کمپنی قائم کرچکے جس میں 240 افراد ملازم ہیں اور یہ کمپنی ملک کے تقریباً آدھے حصے میں موجود گیس اور تیل کی پائپ لائنوں کی مرمت اور دیکھ بھال کا کام سرانجام دیتی ہے-
 


سال 2000 میں جب دنیا کساد بازاری کا شکار بنی تو بولن نے بھی اس بحران کو محسوس کیا اور اس وقت یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس قصبے میں سیاحت کو فروغ دیں گے تاکہ مقامی معیشت کو مدد مل سکے-

پائپ کے کاروبار سے وابستہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے شروع میں دیوقات ہوا سے بجنے والی گھنٹی ( wind chime ) بنانے کا فیصلہ کیا- اس پروجیکٹ پر انہیں دو سال کا عرصہ لگا اور وہ 54 فٹ لمبی گھنٹی تخلیق کروانے میں کامیاب ہوگئے-
 


یہ کمپنی چونکہ ایک پینٹ شاپ٬ ویلڈنگ شاپ اور متعدد ہنرمند افراد کی بھی مالک تھی اس لیے کمپنی نے دیگر اقسام کے میٹریل سے بھی اشیاﺀ کی تیاری کا کام شروع کردیا- جیسے کہ پرانے ٹیلیفون کے کھمبوں کی مدد سے دنیا کی سب سے بڑی کرسی تیار کی گئی یا پھر آئل ٹینکس کی مدد سے دیوقامت لیٹر بکس اور پنجرے کا فرش تخلیق کیا گیا- قصبے میں موجود تقریباً دنیا کی تمام بڑی اشیاﺀ استعمال شدہ میٹیریل کی مدد سے تیار کی گئی ہیں-
 


بولن کی تیار کردہ ان دیوقامت اشیاﺀ نے قصبے کی معیشت کو حقیقی معنوں میں استحکام بخشا- مثال کے طور پر قصبے میں موجود دنیا کے سب سے بڑے لکڑی کے جوتوں کو دیکھنے کے لیے روزانہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے اور یہ سیاح ان جوتوں میں خوش قسمتی کے حصول کے لیے سینکڑوں روپے بھی ڈال جاتے ہیں- اور یہ رقم Clark County Food Pantry کو عطیہ کر دی جاتی ہے-
 


اس کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے لیٹر باکس میں ڈالنے کے لیے سیاحوں کو پوسٹ کارڈ بھی فروخت کیے جاتے ہیں جن پر سیاح اپنی من پسند تحریر لکھتے ہیں اور یہ پوسٹ کارڈ اس دیوقامت لیٹر باکس میں ڈال دیے جاتے ہیں- روزانہ سینکڑوں پوسٹ کارڈ پر پوسٹ آفس کی جانب سے اس لیٹر باکس کے خاص پوسٹ مارک کی مہر بھی لگائی جاتی ہے-
 


بولن اس کے علاوہ بھی قصبے میں متعدد بڑی چیزیں تخلیق کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آنے والے چند ماہ میں یہ چیزیں بھی مکمل ہوجائیں گے- مستقبل کی ان اشیاﺀ میں دنیا کا سب سے بڑا جھولنے والا گھوڑا٬ دنیا کا سب سے بڑا بیس بال کا بلا اور دنیا کا سب سے بڑا گولف کلب بھی شامل ہے-
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Jan, 2017 Total Views: 4800 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
In PAKISTAN THERE are a lot of places [small villages] should become well known in the country or in the world. ANTI CHRISTwas trying to keep up with them -selves or they kept the resources up to their klan. ZULFIQAR ALI BHUTT O LIKE too many chiefs but no indians.Every citizen try to throttle other citizens.But in PAKISTASN THERE IS STILL HOPE./?/as long as antichrist out of picture,pakistani can creat miracle
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, CALGARY ALBERTA CANADA on Jan, 11 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
At just over two square miles and with less than 3,000 inhabitants, the town of Casey in Illinois might be among the smaller towns of the United States, but it's home to some of the biggest things in the world. These include a wind chime, a rocking chair, knitting needles and a crochet hook, a mailbox, a pitchfork, a golf tee, a pair of wooden shoes, a coin, a birdcage, a yardstick, a pencil, a ear of corn, saguaro cactus and many more.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB