مردہ خاتون 40 سال بعد گھر واپس آگئی

 

بھارت میں دو بہنوں کی زندگی میں اچانک اس وقت بھونچال آگیا جب انہوں نے اپنی اس ماں کو ایک مرتبہ پھر زندہ سلامت اپنی گھر کے دروازے کھڑا دیکھا جو کہ 40 سال قبل کوبرا سانپ کے کاٹنے کے باعث مردہ سمجھ کر گنگا دریا میں بہا دیا گیا تھا-
 


بھارت کے Bidhoo گاؤں کی رہائشی Vilasa جب 1976 میں موسم ِ گرما کے آغاز میں جب اپنے جانوروں کی خوراک کا بندوبست کرنے کے لیے کھیتوں میں گئی تو اسے وہاں کوبرا سانپ نے کاٹ لیا- ولاسا کے گھر پہنچتے ہی گھر والوں نے روایتی طریقوں سے اس کا علاج شروع کردیا لیکن اتنی دیر میں سانپ کا زہر پھیل گیا اور 42 سالہ ولاسا بے ہوش گئی-

اس وقت گھر والوں نے خاتون کو مردہ سمجھتے ہوئے اس کی لاش ایک تختے پر رکھ کر اس امید کے ساتھ گنگا دریا میں بہا دی کہ اس طرح یہ اپنی زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے گی-

عام طور پر ہندو مذہب کے پیروکار اپنے پیاروں کو جلانے کے بعد ان کی راکھ گنگا دریا میں بہا دیتے ہیں لیکن انہی پیروکاروں میں چند ایسے بھی ہیں جن کا ماننا ہے کہ اگر کسی سانپ کاٹ لے اور اس کی لاش بغیر جلائے گنگا میں بہا دی جائے تو دریا اس کے جسم سے زہر نکال دیتا ہے اور زندگی لوٹ آتی ہے-

دوسری جانب Kannauj ضلع کے قریب واقع ایک گاؤں کے ماہی گیروں نے جب دریا میں لاش بہتی دیکھی تو انہوں نے اسے پانی سے باہر نکال لیا- جلد ہی ماہی گیروں پر انکشاف ہوا کہ مردہ نہیں بلکہ زندہ عورت ہے اور وہ اسے مندر لے گئے اور علاج شروع کردیا-
 


ولاسا کی صحت تو بحال ہوگئی لیکن وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھی تھی اور اپنے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر تھی- اسی وجہ سے ولاسا کو مندر میں رہنا پڑا لیکن 40 سال بعد تھوڑی بہت یادداشت واپس آنا شروع ہوگئی اور اس بات کا ذکر ولاسا نے اپنے ساتھ رہنے والی ایک لڑکی سے کیا-

اس لڑکی نے یہ تمام صورتحال اپنے ایک رشتے دار کو بتائی جس کی Vilasa کے آبائی گاؤں میں جان پہچان تھی- اور آخرکار یہ لوگ ولاسا کے گاؤں کے ایک جیترام نامی ایسے رہائشی کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوگئے جو دریا کے حوالے کرتے وقت ولاسا کی آخری رسومات میں شریک تھا-

ولاسا کی بڑی بیٹی رام کماری کے مطابق “ چیترام نے ہماری والدہ کے زندہ ہونے کے بارے میں ہمیں بتا کر حیران کردیا“-

چیترام ان کی والدہ کو لے کر ان کے گھر کے دروازے تک پہنچ گیا جہاں اس کی بیٹیاں اپنی والدہ کو زندہ دیکھ کر حیران و پریشان رہ گئیں-

82 سالہ ولاسا کی چھوٹی بیٹی منی کا کہنا ہے کہ “ ہم نے اپنی ماں کے پیدائشی نشان کو دیکھ کر فوراً انہیں پہچان لیا“-
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
05 Jan, 2017 Total Views: 5932 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Very good and true mishap. I want some able people should come forward to compile the whole episode,s evolvement started and how she landed to make comeback.In india similars, incident happened in diffrent centuries this incident should be recorded in the history books.FAITHFULL LADY SHOULD GET PROPER NOURISHMENT TO REVIVE HER. GOOD GIRLS RECOGNIZE HER MOTHER. EXTRAORDINARY FAMILY.
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, CALGARY ALBERTA CANADA on Jan, 09 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Two Indian sisters recently got the shock of their lives after their 82-year-old mother showed up at their doorstep 40 years after they had laid her body to rest on the Ganges river, following a cobra bite. It all started on a summer day in 1976, when 42-year-old Vilasa, a woman from Bidhoo village, India’s Kanpur district, went out into the fields to collect fodder for the family animals, as she had done countless time before.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB