سکھر کے چند دلچسپ مقامات اور شاندار تصاویر

 

سکھر پاکستان کا 14واں بڑا اور صوبہ سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے- دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر آباد یہ شہر اپنے چند دلچسپ اور پرکشش مقامات کے باعث پاکستان کے دیگر شہروں کے مقابلے میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے- اس شہر میں کچھ وقت گزارنا اور چند مقامات کی سیر آپ کے لیے سیاحت کے حوالے سے ایک منفرد تجربے کا باعث بن سکتی ہے- ہم یہاں سکھر کے چند دلچسپ مقامات کی تصاویر اور مختصر معلومات پیش کر رہے ہیں جو یقیناً آپ کو پسند آئیں گی-
 

سکھر بیراج انجینئیرنگ کا ایک حیرت انگیز کمال ہے- 1932 میں تعمیر کیا جانے والا یہ بیراج 10 ملین ایکڑ سے زائد رقبے کی حامل زمین کی آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے-
 
رات کے وقت سکھر بیراج رنگا رنگ روشنیوں کے بدولت انتہائی خوبصورت دکھائی دیتا ہے-
 
سکھر بیراج سے نکلنے والی تین نہروں کا ایک دلچسپ فضائی نظارہ- ان نہروں کو دادو کینال٬ رائس کینال اور کیرتھر کینال کے نام سے جانا جاتا ہے-
 
یہ سکھر کا مشہور لینسڈاؤن پل ہے جو قینچی پل کے نام سے مشہور ہے- یہ ریلوے پُل 1889 میں تعمیر کیا گیا لیکن اس وقت انجنئیر اس پُل کے استحکام کے حوالے سے پرامید نہیں تھے اسی لیے تجرباتی طور پر سب سے پہلے اس پُل سے ایسی ٹرین کو گزارا گیا جس میں قیدی سوار تھے جنہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی-
 
سکھر کے مرکز میں واقع یہ اس شہر کا مقبول ترین تاریخی مقام ہے جسے میر معصوم شاہ کا مینارہ کہا جاتا ہے- یہ مینارہ پہاڑی پر واقع ہے اس مینارہ میں پکی اینٹیں اور چونے کا پتھر استعمال ہوا ہے۔ یہ مینارہ 84 فٹ چوڑا٬ 84 فٹ لمبا اور گولائی میں سیڑھی کے قدموں کی تعداد بھی 84 ہے۔ سید میر محمد معصوم بکھری مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے اُمراء میں شامل تھے۔
 
یہ محمد بن قاسم کی تاریخی مسجد کے باقیات ہیں- یہ مسجد 711 عیسوی میں محمد بن قاسم نے تعمیر کروائی تھی- محمد بن قاسم نے 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کرکے ہندوستان میں اسلام کو متعارف کرایا-
 
یہ مقبرہ دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر ایک چھوٹی سی چھوٹی کے اوپر تعمیر ہے اور اسے مقامی زبان میں Sateen jo Astaan کہا جاتا ہے- اس مقبرے کے اندر سات قبریں موجود ہیں اور یہاں صرف خواتین کو داخلے کی اجازت ہے-
 
یہ اسی مقبرے کی ایک اور تصویر ہے- یہاں بھکر کے گورنر میر عبدالقاسم بھی دفن ہیں- ان قبروں کی تیاری میں پیلے رنگ کے پتھر استعمال کیے گئے اور یہ پتھر انتہائی خوبصورت انداز میں تراشے گئے ہیں-
 
لبِ مہران مقامی شہریوں کے لیے ایک تفریح سے بھرپور مقام ہے- چھٹی کے دن شہریوں ایک بڑی تعداد اس مقام کا رخ کرتی ہے- یہاں نہ صرف مختلف کھانے پینے کی اشیاﺀ کے اسٹال موجود ہوتے ہیں بلکہ دریا میں کشتی کی سواری سے بھی لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے-
 
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
03 Jan, 2017 Total Views: 4309 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Sukkur, the 14th largest city of Pakistan and 3rd largest city of Sindh Province, may not strike you as a place worth visiting when you first hear of it. It is a city we often pass by when going to other areas like Lahore. This is a place we choose to stop by for the night and for refreshments, and usually not for sightseeing. If this is true, you have no idea what you are missing.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB