خاموش پکار (میری اآواز سنو)

(Rumisa Malik, khi)

اس کالم میں معاشرے میں ایک نئے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
امریکہ میں سن 1984 میں “نیشنل رائٹس ٹو لائف کنوینشن “کے نام سے ایک کانفرنس منعقد کی گئی ۔کانفرنس کے نمائندے "ڈاکٹر برنارڈ نے تھینسن کے" کی طرف سے اسقاط حمل(Abortion) کی بنائی گئی ایک *الٹراساڈ فلم' گونگی چیخ* کی تفصیلات پیش کی گئی وہ اس طرح ہیں – ”بچہ دانی کی وہ معصوم بچی اب 15 ہفتے کی تھی اور کافی چست تھی. ہم اسے اپنی ماں کے پیٹ میں کھیلتے، کروٹ بدلتے انگوٹھا چوستے ہوئے دیکھ رہے تھے. اس کے دل کی دھڑکنوں کو بھی دیکھ پا رہے تھے اور وہ اس وقت 120 کی رفتار سے دھڑک رہا تھا. سب کچھ بالکل نارمل تھا؛ لیکن جیسے ہی پہلے اوزار (سکسن پمپ) نے بچہ دانی کی دیوار کو چھو لیا، وہ معصوم بچی ڈر سے ایک دم گھوم کر سکڑ گئی اور اسکے دل کی دھڑکن بہت بڑھ گئی.

اگر چہ کسی اوزار نے بچی کو ابھی تک چھوا بھی نہیں تھا، لیکن اسے تجربہ ہو گیا تھا کہ کوئی چیز اس کی آرام گاہ، اس محفوظ علاقے پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے. ہم دہشت سے بھرے یہ دیکھ رہے تھےکہ کس طرح وہ اوزار اس ننھی منی گڑیا سی بچی کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھی.

پہلے کمر، پھر پیر وغیرہ کے ٹکڑے ایسے کاٹے جا رہے تھے جیسے وہ کوئی زندہ مخلوق نہ ہو کوئی گاجر-مولی ہو اور وہ بچی درد سے چھٹپٹاتی ہوئی، سکڑ کر گھوم گھوم کر تڑپتی ہوئی اس قاتل اوزار سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی. وہ اس وقت بری طرح ڈر گئی تھی کہ ایک وقت اس کے دل کی دھڑکن 200 تک پہنچ گئی! میں نے خود اپنی آنکھوں سے اس کو اپنا سر پیچھے جھٹکتے و منہ کھول کر چیخنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا، جسے ڈاکٹر نے *گونگی چیخ* یعنی *خاموش پکار* کہا ہے.

آخر میں ہم نے عجیب منظر بھی دیکھا، جب سڈسی اس کھوپڑی کو توڑنے کے لئے تلاش کر رہی تھی اور پھر دبانے سے اس سخت کھوپڑی کو توڑ رہی تھی، ("کیوں کہ سر کا وہ حصہ بغیر توڑے سکشن ٹیوب کے ذریعے باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا)۔قتل کے اس گھناونےکھیل کو مکمل کرنے میں صرف 15 منٹ کا وقت لگا اور اس دردناک منظر کا اندازہ اس سے زیادہ اور کس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس ڈاکٹر نے یہ اسقاط حمل(Abortion) کیا تھا اور جس نے محض یہ فلم بنوائی تھی، اس نے جب خود اس فلم کو دیکھا تو وہ اپنا clinic چھوڑ کر چلا گیا اور پھر واپس نہ آآیا۔۔۔۔۔۔!

ایسی کہانیاں صرف امریکہ ,یورپ میں نہیں ہیں بدقسمتی سے ہم بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں یہ غلط اور گھناؤنا کام پروان چڑھ رہا ہے ۔ پاکستان میں اگرچہ ایشیائی ممالک کے مقا بلے میں ابارشن کی شرح تناسب کم ہے مگر 2002 کے بعد 2102 میں اس میں اضافہ ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بتدريج اضافہ ہو رہا ہے ۔۔اسقاط حمل کی سب سے بڑی وجہ غربت , لڑکی کا ہونا یا بچوں کی بڑھتی تعداد ااورآج کل کی "سو کالڈ محبت" یا محبت میں غلط فہمی کا ہونا ہے ۔۔آخر میں ان تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ خدارا آنے والی ہستی کو بوجھ نہ سمجھیں کیونکہ ہر آنے والی روح اپنا رزق , نصیب اور قسمت لے۔کر آتی ہے ۔خدارا اپنے باطن سے پیدا ہونے والی قیمتی چیز کو یوں سر رآہ , کچرے کے ڈھیر میں نہ پھنکیں , انھیں چیل کووں کی خوراک نہ بنائیں ۔ اپنی خواہشات , اپنے سکون اور اپنے گناہوں کو چھپانے کے لئے ان معصوم بچوں کو دنیا میں آنے سے پہلے قتل کرنے سے پہلے ان تمام لوگوں کے بارے میں ایک دفعہ ضرور سوچیں جو اس نعمت سے محروم ہیں ۔ اور قتل کرنے سے پہلے ہی ضرور سوچیں کہ آپ ایک انسان کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے قاتل ہیں ۔کیونکہ القرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ " ایک انسان کا قتل گویا پوری انسانیت کا قتل ہے-
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
30 Dec, 2016 Total Views: 177 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Rumisa Malik

Read More Articles by Rumisa Malik: 2 Articles with 430 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB