وہ حیرت انگیز جانور جو آج دنیا میں موجود نہیں

 

ہمارے اس رنگا رنگ کرہ ارض کو عطا کردہ رنگینی میں ایک بڑا کردار جنگلی حیات کا بھی ہے اور دنیا میں جانوروں کی لاکھوں اقسام پائی جاتی ہیں- لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان جانوروں کی چند اقسام ایسی بھی ہیں جو اب دنیا میں موجود نہیں- ان جانوروں کے ناپید ہونے کی بنیادی وجوہات میں آبادی میں اضافہ٬ ماحولیاتی تبدیلی اور جنگلات کی بہت زیادہ کٹائی شامل ہے- ہمارے آج کے آرٹیکل میں چند ایسے ہی جانوروں کا ذکر موجود ہے جو آج دنیا میں موجود نہیں-


Malagasy Hippopotamus
یہ دریائی گھوڑا آج کے جدید دریائی گھوڑے کے مقابلے میں کچھ چھوٹا ہوتا تھا اور مڈغاسکر میں پایا جاتا تھا- ابتدا میں اندازہ لگایا گیا کہ یہ دریائی گھوڑے دنیا میں ایک ہزار سال قبل پائے جاتے تھے لیکن نئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ دریائی گھوڑوں کی اس خاص قسم کا اختتام 1970 میں ہوا-


Baiji
اس ڈولفن کو کئی ناموں سے جانا جاتا جاتا جس میں چینی دریائی ڈولفن اور Yangtze دریائی ڈولفن کے نام شامل ہیں- یہ میٹھے پانی کی ڈولفن تھی اور چین کے Yangtze نامی دریا میں پائی جاتی تھی- بہت زیادہ ماہی گیری کی وجہ سے 1970 کے بعد یہ ڈولفن ختم ہونا شروع ہوگئیں اور آخری ڈولفن 2002 میں ختم ہوئی-


Javan Tiger
یہ ٹائیگر انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں عام پائے جاتے تھے اور یہ ٹائیگر کی ایک انتہائی چھوٹی قسم تھی- 20ویں صدی میں اس جزیرے کی آبادی میں بےپناہ اضافہ ہوا اور جنگلات کی کٹائی ہوئی تو ان ٹائیگر کی بقا کو خطرات لاحق ہوگئے اور 1993 سے یہ ناپید ہونا شروع ہوگئے-


Steller's Sea Cow
یہ سمندری جانور بحر اوقیانوس میں کثیر تعداد میں پایا جاتا تھا- لیکن کھال کے تاجروں نے اس جانور کے گوشت اور کھال کے حصول کے لیے اس کا بعد کثیر تعداد میں شکار کیا جس کی وجہ سے یہ سمندری جانور معدومی کے خطرے سے دوچار ہوگیا- یہ سمندری گائے اپنی دریافت کے صرف 27 سال بعد ہی ختم ہوگئی-


Formosan Clouded Leopard
تیندوے کی یہ خاص قسم تائیوان سے تعلق رکھتی تھی اور یہ ایک انتہائی نایاب قسم بھی تھی-تاہم بہت زیادہ جنگلات کی کٹائی سے ان جانوروں کے قدرتی مسکن کو شدید نقصان پہنچا اور وہ تباہ و برباد ہوگئے- یہاں تک کہ سال 2004 میں تیندوے کی اس نایاب قسم کے ناپید ہونے کا اعلان کر دیا گیا- رات میں 13 ہزار کیمرے لگا کر اسے تلاش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کی موجودگی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی-


Chinese Paddlefish
بعض اوقات اس مچھلی کو Elephant مچھلی کے حوالے سے بھی جانا جاتا تھا اور یہ میٹھے پانی کی ایک بہت بڑی مچھلی تھی- لیکن بہت زیادہ مچھلی کے شکار نے 1980 میں مچھلی کی اس خاص نسل کی بقا کو شدید خطرے سے دوچار کردیا- آخری مرتبہ یہ مچھلی چین کے Yangtze نامی دریا میں جنوری 2003 میں دیکھا گیا اور اب یہ مکمل طور پر ناپید ہوچکی ہے-


Pyrenean Ibex
پہاڑی بکرے کی اس خاص قسم کا تعلق جزیرہ نما Iberian سے تھا- لیکن 19ویں اور 20ویں صدی میں بہت زیادہ شکار کی وجہ سے پہاڑی بکروں کی یہ خاص نسل تیزی سے کم ہونے لگی- 20ویں صدی کے دوسرے حصے میں علاقے میں ان پہاڑی بکروں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی یہاں تک کہ سال 2000 میں یہ بالکل ہی ناپید ہوگئے-


Dodo
یہ پرندہ موریشیس نامی جزیرے سے تعلق رکھتا تھا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پرندہ اڑنے کی صلاحیت سے محروم تھا- دریافت ہونے والی باقیات کے مطابق اس پرندے کا وزن تقریباً 21 کلوگرام تک ہوا کرتا تھا جبکہ اس کی لمبائی ایک میٹر تک ہوتی تھی- اب اس پرندے کی موجودگی ہمیں صرف ڈرائنگ اور پینٹنگز میں ہی دکھائی دیتی ہیں-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
15 Dec, 2017 Total Views: 9955 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
behtreen article i loved it /
By: jimmy, paklahore on Dec, 13 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Extinction is a natural process; a typical species used to become extinct within 10 million years of its first appearance on Earth, but these days, when the planet faces a number of serious problems such as overpopulation, pollution, climate change etc., the species loss is now occurring at a rate more than 1,000 times greater than it would be naturally.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB