ایک آزاد عنوان قوم اور سیاست دانوں کے نام

(Sagar Haider, )

 سیاست سات رنگی ہوتی ہے اور سیاست دان قوسِ قزاح کے رنگوں جیسے
سیاست میں جو بھی شخص آیا وہ کسی نہ کسی رنگ میں رنگ ہی گیا
دنیا میں حکمرانی ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جنھیں اﷲ لوگوں کی خدمت کرنے کا موقع دیتا ہے
عزت اور ذلت اﷲ تعالی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عزت سے نوازے
ہماری پاکستانی ٹیم کے سابقہ کپتان عمران خان کو ہی دیکھ لیجئے جنھوں نے سیاست میں قدم رکھتے ہی ہلچل مچا دی چونکہ لوگ انھیں پہلے ہی پسند کرتے تھے لہذا جب انھوں نے ایک سیاسی پارٹی کا آغاز کیا تو لوگ انھیں سٹار کی نظر سے دیکھتے ہوئے ان سے امیدیں لگانے لگے اور بہت لوگو ں نے انھیں سپورٹ بھی کیا میں خود بھی ان کے ایک جلسے میں شریک ہوا لیکن جب الیکشن میں وزیراعظم نواز شریف کو بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ دے کر پاکستان کا وزیراعظم منتخب کیا تو عمران خان صاحب سے رہا نہیں گیا انھوں نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کے لیے دھرنے دیے مگر جب یہ بات ثابت ہوئی کے نواز شریف کو قوم کے زیادہ تر ووٹ حاصل ہوئے ہیں تو انھیں پھر بھی یقین نہیں آیا
اپنی ضد پر اڑے رہے اور اب تک اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں عمران خان صاحب کو اس بات کا علم بھی ہے کے نواز شریف صاحب سیاست میں ا ن سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ وہ پہلے بھی وزیراعظم کی کرسی حاصل کر چکے ہیں
اپنی ضد کو لیے مسلسل نواز شریف اور ان کی فیملی کو تنقید کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں
اسکی سب سے بڑی مثال مریم نواز اور عمران خان کی بہن کے بھیچ پیدا ہونے والی غلط فہمی ہے جہاں عمران خان نے بغیر تحقیقات کیے مریم نواز پر الزامات لگائے اور حقیقت واضع ہونے پر بھی انھوں نے اپنی جھوٹی آن بان شان بچانے کے لیے معذرت تک نہ کی جب کے ان کی بہن نے اس غلطی کے لیے معذرت کی تھی
عمران خان صاحب آپ کو عوام کی کتنی پرواہ ہے اس کا جواب میں آپ سے ہی مانگتا ہوں سانحہ پشاور میں ابھی لوگوں کے زخموں پہ مرہم بھی نہیں لگا تھا آپ نے شادی کر لی تھی کیوں ؟
کیا اس قوم کے بچے ایک ایماندار سیاستدان لیڈرکے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ؟
کیا آپ کے گھر میں ایسا کوئی سانحہ پیش آیا ہوتا تو کیا آپ شادی کرلیتے؟
میرا اپنا ضمیر تو اس بات کو گواراہ نہیں کرتا مگر آپ کی کیا مجبوریاں تھیں آپ بہتر جانتے ہیں نوازشریف صاحب نے کراچی میں امن قائم کیا لیکن آپ اسلام آباد جو کے پاکستان کا دارلخلافہ ہے اسے بند کروا دیا اور اس پر آپ بہت خوش بھی ہوں گے ملکی معشیت کا کتنا نقصان ہوا اسکی آپ کو کوئی فکر نہیں اس دن کہیں نہ کہیں لوگوں نے جو اس دھرنے میں شریک نہیں تھے بیمار تھے یا مالی پریشانی میں مبتلا تھے ان کا خیال بھی نہیں آیا ہوگا
سیاست اسے نہیں کہتے ہیں کے آپ کسی شہر کو بند کروا کر جلسے جلوس کریں جلاو گھیراو کریں بلکہ اپنے تمام مقاصد کو لوگوں کو تکلیف دیے بنا انکی پریشانیوں کو سمجھتے ہوئے پرامن طریقے سے احتجاج کریں کیا بدلاو لاہیں گے آپ اس قوم میں جس قوم میں ایمان کی طاقت کمزور ہوچکی ہے ہماری خواتین کو جلسوں میں ڈانس کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے مگر کبھی آپ نے یہ درس نہیں دیا کے خواتین کو اسلام میں پردہ کی کتنی سخت تاقید کی گئی ہے سرِ عام ناچنا کیا جائزہے کیا اسلام کے قوانین سے بڑھ کر کوئی قانون ہے کیا بدلاو اسی طرح کا لاہیں گے آپ حکمران نہیں کبھی نہیں کوئی بھی کسی قوم کو اس وقت تک متحد نہیں کرسکتا جب تک وہ اپنے مذہب و عقیدے کے تحت اپنی معاشرے میں قانون نافذ نہ کرے بدلناہے تو لوگوں کی سوچ کو بدلیے بدلنا ہے تو معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت کے بارے میں سوچیے جیتنے یا ہارنے کے بارے میں نہیں میں مانتا ہوں کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی جس کا جہاں زور تھا وہاں اس نے دھاندلی کی مگر یہ بھی حقیقت ہے کے نواز شریف صاحب کو لوگوں نے ووٹ دیے اور ان کو وزیراعظم منتخب کیا دھاندلی سے انکا ر مجھے بھی نہیں قوم کے اور دانشوروں کو بھی نہیں مگر اتنی بھی دھاندلی نہیں ہوئی کے آپ کو شکست اس دھاندلی کی وجہ سے ہوئی ہو یہ حقیقت ہے اور اسے تسلیم کیجیے قوم کی فکر کیجئے لیڈ روہ نہیں جو اپنی شان بچانے کے لیے عوام کے جذبات کا سہارا لے بلکہ وہ ہوتا ہے جسے عوام کے سکھ دکھ کا خیال ہو جو عوام کے لیے اپنی بھی شان کو قربان کر دے افسوس ہے مجھے ان حکمرانوں پر جو لاکھوں روپے کا خرچہ کر کے جلسے جلوس کر کے ریلیاں نکال کر دھرنے کرتے ہیں بدلاو کے نام پر اپنی پبلسٹی کرتے ہیں اس سے بہت بہتر ہے کے جہاں بھی غربت ہے اسے کم کرنے کی کوشش کیجئے
اپنے مفاد کے لیے دھرنے کرنے سے بہتر ہے کے تھر میں عوام جو بھوک پیاس سے مر رہے ہیں جہاں کربلا کا عالم ہے ان کے بارے میں سوچیے جہاں لوگ انسانیت کو تلاش کرتے ہوئے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں حکمرانوں کی زبان نہیں ان کا کام بولنا چاہیے میری تما م سیاست دانوں سے گزارش ہے کے زرا سوچیے اﷲ نے اگر روح زمین پر آپ کو لوگوں کی خدمت کرنے کا موقع دیا ہے تو اﷲ کی دی ہوئی اس عزت کا کوئی تو احساس کیجیے آخر مر کر آپ کو اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے میں ایک عام شہری ہوں مگر دن بدن بڑھتی ہوئی غربت اور بگڑتے ہوئے حالات کو دیکھ کر قلم اٹھانے پر مجبور ہوا ہوں اگر یہ سوشل میڈیا یا میڈیا میرے اس پیغام کو آپ تک پہنچا سکے تو مجھے خوشی ہوگی
مجھے احساس ہے غریب کا غربت کا میں لکھوں گا اے حکمرانو میں نے تم سے گلہ کیا ہے گلہ مجھے اس قوم سے بھی ہے حکمران ہم پر ہمارے اعمال کے مطابق مسلط کیے جاتے ہیں اگر کو ئی کرپٹ ہے تو ذمے دار ہم بھی ہیں کرپشن کو اگر ختم کرنا ہے تو احتساب کیجئے مگر شروعات خود سے کرو اور ختم حکمرانوں پر کرو پہلے اپنے دین کو سمجھو اپنے ایمان کو جگاو آج کل مسلمان صرف نام کے رہ گئے ہیں سارا اثر تومغربی تہذیب کا ہے تم پر تمہارا لباس تمہارا انداز تمہارا رہن سہن زر ا اپنی طرف بھی دیکھو کیا ہو تم
اگر بدل جاو تو اچھا ہے
ورنہ مر جاو تو بہتر ہے
دینِ اسلام کو پھیلانے کے لیے کتنی قربانیاں دی گئیں حضرت اما م حسین علیہ اسلام نے اپنا سر سجدے میں قلم کروا کر جس دینِ اسلام کی شان کو بچایا کیا لاج رکھی ہے جا رہی ہے آج اس اسلام کی میں یہ کہنا چاہوں گا آج کے مسلمانوں کو
کہیں فرقوں میں بٹے ہو کہیں ذاتوں کا رونا ہے
باعثِ شرم میرے لیے تمہارا مسلمان ہونا ہے
ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے انسان ہو کر انسانیت کا کوئی خیال نہیں ہے اور مسلمان ہو کر مسلمان ہونے کا خیال نہیں ہے کیا بدلاو لاو گے تم دھرنا دے کر ؟ کیا حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ آزادی ؟
مجھے ان مسلمانوں سے کوئی شکوہ نہیں ہے جو آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں مجھے تو ان مسلمانوں سے شکوہ ہے جو آزاد ہو کر بھی غلام ہیں
میرا ایک سوال ہے آج کے مسلمانوں سے
ہم زندہ قوم ہیں باہندہ قوم ہیں
کیا یہ ترانہ سننے کا حق ہے تمہیں ؟ کیا تم زندہ باہندہ قوم ہو؟
جاگو مسلمانو جاگو جاگنے کا مطلب نیند سے جاگنا نہیں ہے اپنے ایمان کو جگاو اپنے اسلام کو جگاو اپنے دلوں میں قرآن کو جگاو ایک سچا مسلمان بن کر دکھاو پھر دھرنا دو کے ہمیں اسلام کے قوانین کے تحت نیک اور ایماندار حکمران چاہیے پھر دیکھو بدلتی ہے کے نہیں اس ملک کی تقدیر بدلتے ہیں کے نہیں تمہارے حالات چپ چاپ تماشہ دیکھنے والوں میں سے رہو گے تو ایک دن تم بھی تماشہ بن کے رہ جاو گے دشمنوں کو کہاں ڈھونڈتے ہو سر حد پار ؟
دشمن تو تم خود ہو اپنے آج مسلمان ہی مسلمان کا قاتل ہے یہ تمہارے اعمال کی سیاست ہے جو حکمران تمہارے ساتھ کر رہے ہیں
اگر یعی حال رہا مسلمانو تو یاد رکھنا تم جلد ہی اپنے وجود کو مٹا دو گے بدلاو لانا ہے تو پہل اپنے آپ سے کرو پہلے خود کو بدلو پھر دوسروں میں بدلاو لانے کی کوشش کرو پھر نیا پاکستان بنانا کم سے کم میں اس جدوجہد میں تمہارے ساتھ ہوں
حکمرانوں کو الزام دینے سے یا دھرنوں سے کسی قوم میں کبھی تبدیلی نہیں آئی ہے تمہاری اس جہالت کی جنگ میں بھی نقصان کسی حکمران کا نہیں ہوتا بلکہ قوم کا ہی ہوتا ہے
ایمان کی طاقت کے آگے فرعونی غرق ہو گئے تو یہ حکمران کیا ہیں مگر سوال تو یہ ہے کے ایمان کی طاقت اب رہی کس میں ہے صرف زندگی جینا تو جانوروں کو بھی آتا ہے مگرتم تو انسان ہو اشرف المخلوقات ہو تمہاری زندگیوں کا ایک مقصد ہونا چاہیے شعور ہونا چاہیے تم خود حکمران ہو اس پاکستان کے معمار ہو تم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہے اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دینے ہیں
تین سو تیرا موممنوں نے کفار کے لشکر کو دھول چٹا دی تھی تم تو کروڑوں کی تعداد میں ہو سوچو اگر مسلمانو تم اپنے دین مذہب اور ایمان پر قائم ہو جاو تو ساری دنیا میں حکومت کر سکتے ہو
فیصلہ اب تمہارے ہاتھوں میں ہے تمہارے دین کا تمہارے ایمان کا تمہاری قوم کا تمہارے مذہب کا تمہارے پاکستان کا جب تک تم خود کو نہیں بدلو گے ایسے ہی حکمران آتے رہیں گے تم ہر دور کے حکمرانوں سے جو شکایت ہے کبھی تم نے سوچا بھی ہے کہ کیوں ہے ایسا کبھی کسی غلطی پہ ٹھوکر کھاتے ہو تو کہتے ہو کے اﷲ کی رضا ہو گی کبھی بھی یہ نہیں سوچتے کے تم لوگوں کا اپنا بھی کوئی قصور ہے
گِرو ٹھوکریں کھا کر تو کہو کے رضا ہے میری
کبھی یہ بھی سوچاہے اس میں کیا خطا ہے تیری
ٓآج مسلمان ہی مسلمان کا قاتل ہے ہر طرف لہوہی لہو دکھائی دیتا ہے تم اپنے اعمال کے سبب دنیا میں رسوا ہوتے جا رہے ہو جب تک اپنے اند ر دین اور ایمان کی طاقت کو نہ جگاو گے دنیا میں اسی طرح ذلیل اور رسوا رہو گے حکمرانوں سے شکایتیں رہیں گی اور خون کی سیاست کا شکا ر ہوتے رہو گے

تمہارے چہروں پہ ہے گناہوں کی گر اس قدر
مسلمانو تم اپنے چہروں کو پہچان نہیں رہے
مغربی زمانوں کی تہذیب کا ہے تم پہ یہ اثر
تم ننگ مسلمانی تو ہو مگر مسلمان نہیں رہے
اب رہ گیا ہے فقط تمہارا نام مسلمان
زندہ تم لوگوں کے اب ایمان نہیں رہے
پانچ وقت کا سجدہ بھی اب تم پہ گراں گزرتا ہے
مومن کے دن تو عبادت سے ویران نہیں رہے
ہوچکا ہے تمہارا ایمان اب اس قدر بے اثر
اپنے گناہوں پہ بھی تم پشیمان نہیں رہے
کیسے د و گے تبلیغِ دین کی دعوت تم کسی کو
تمہارے تو اپنے ہاتھوں میں قرآن نہیں رہے
تحریر : شاعر ساگر حیدر عباسی (کراچی )
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
03 Nov, 2016 Total Views: 316 Print Article Print
NEXT 
About the Author: sagar haider abbasi

Sagar haider Abbasi
.. View More

Read More Articles by sagar haider abbasi: 5 Articles with 1287 views »
Reviews & Comments
bohat khoob sagar sahab nice colum
By: shamrooz younus, karachi on Apr, 10 2017
Reply Reply
0 Like
good one
By: saima naz, karachi on Apr, 02 2017
Reply Reply
0 Like
nice article imran khan k liye to theek kaha aap ne
good
By: zoya, karachi on Nov, 06 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB