مختلف ممالک میں عیدالاضحیٰ کے منفرد رنگ

 

آج دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مسلمان عیدالاضحیٰ کا تہوار انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منا رہے ہیں- اسلام میں عیدالفطر یا عیدالاضحی عیش و عشرت یا دولت کی نمود و نمائش کا نام نہیں بلکہ اپنی ضروریات اور خواہشات کو قربان کر کے غربا اور مساکین میں خوشیاں بانٹنے کا نام ہے۔ اگر بات کریں صرف عیدالاضحیٰ یا بقرعید کی تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ تہوار مختلف انداز میں اپنے علاقائی رسم و رواج کے مطابق منایا جاتا ہے۔اور ہر ملک کے باسی اپنے اپنے انداز میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔آپ بھی دیکھیے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں یہ تہوار کیسے منایا جاتا ہے…؟
 

پاکستان
پاکستان میں لوگ نمازِ عید ادا کرتے ہی فوراً اپنے قربانی کے جانور کا ذبحہ کرنا شروع کردیتے ہیں اور عام طور پر یہاں دوپہر تک قربانی کا گوشت تقسیم بھی کر دیا جاتا ہے۔ بیشتر گھروں میں عید قرباں کے دن ناشتے میں سویوں کھائی جاتی ہیں جبکہ بعض گھروں میں مرد ناشتے سے بھی گریز کرتے ہیں اور قربانی کر کے اس کا گوشت کھانا پسند کرتے ہیں۔ پاکستان کے اکثریت گھرانوں میں قربانی کے بعد کلیجی کو بھون کر اس کے سالن کے ساتھ روٹی کھانا پسند کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے بعض شہروں میں قربان کئے گئے جانوروں کے سری، پائے بیاہی بیٹیوں کو بھجوائے جانے کی روایت بھی پائی جاتی ہے۔عام طور پر لوگ دوپہر کو بریانی یا مٹن پلاؤ ضرور بناتے ہیں، بعض گھروں میں چانپیں بنانے کا رواج ہے، سرائیکیوں اور پٹھانوں میں نمکین گوشت کا رواج ہے، ہر گھر اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹا یا بڑا دیگچہ گوشت کا بوائل ہونے رکھ دیتا ہے، یہ ہلکا نمکین دم پخت گوشت کمال کا لذیز ہوتا ہے۔


امریکہ
امریکہ میں مسلمان بغیر ناشتہ کیے ہی عیدالاضحیٰ کی نماز مقامی مسجد میں ادا کرتے ہیں- نماز کی ادائیگی کے بعد یہ لوگ ایک پرتکلف دعوت کا اہتمام کرتے ہیں- اس دعوت میں خاندان کے علاوہ دوستوں کو بھی شریک کیا جاتا ہے- یہ لوگ اس طرح ایک ہی جگہ اکھٹے ہو کر اس تہوار کا بھرپور لطف اٹھاتے ہیں-


روس
روس میں تقریباً 8 ملین مسلمان موجود ہیں اور ان میں سے 2 لاکھ مسلمان ماسکو میں رہائش پذیر ہیں اور ماسکو ہی کی جامع مسجد میں سب بڑا اجتماع بھی منعقد کیا جاتا ہے- یہ مسلمان ایک طویل سفر طے کر کے جامع مسجد تک آتے ہیں اور وہاں عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرتے ہیں- یہاں جانوروں کو مذبح خانوں میں ذبح کیا جاتا ہے-


مراکش
مراکش میں بھی دوسرے ممالک کی طرح عید کے نماز کے فوراً بعد گائے،بکرے،دنبے اور اونٹ قربان کر کے سنت ابراہیمی ادا کی جاتی ہے۔ مراکش میں غرباء میں گوشت تقسیم کیے جانے کے ساتھ ساتھ دوستوں اور رشتہ داروں کو دعوت میں بلوا کر ان کی خاطر مدارت بھی کی جاتی ہے۔مراکش میں عید سے قبل مٹھائیاں اور ٹافیاں خصوصاً بنوائی جاتی ہیں تا کہ عید پر بچوں میں تقسیم کی جا سکیں۔ قربانی کا گوشت پکانے سے قبل روائتی کھانے پکتے ہیں۔ ناشتہ میں گندم اور دودھ کا دلیہ کھایا جاتا ہے اس کے علاوہ سیمن،ہرچا،بیہنگر اورہرچل جیسی لذیز ڈشز پکائی جاتی ہیں۔


انڈیا
انڈیا کے بعض صوبوں میں عید الضحیٰ کا تہوار کے موقع پر کشیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ مسلمان گائے کی قربانی کرتے ہیں جبکہ ہندو مذہب کے پیروکار اسے ایک مقدس جانور مانتے ہیں- لیکن پھر بھی بھارت کے مسلمان انتہائی جوش وخروش کے ساتھ عیدالاضحیٰ مناتے ہیں اور بعض اوقات تو ہندوں بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں- ایسی کئی مثالیں دیکھنے میں آئی ہیں جن میں انڈیا کی مشہور ہندو شخصیات نے اس موقع پر خود بھی قربانی کی ہے-


یونان
یونان کے دارالحکومت ایتھنز مسلمانوں کی آبادی 10 لاکھ سے زائد ہے- لیکن اتنی بڑی آبادی کے باوجود یہاں کوئی جامع مسجد موجود نہیں-یہاں کے مسلمان کسی حد تک انتہا پسندی کا شکار بھی ہیں- تاہم یہ مسلمان یمونٹی سنٹروں کے ہالز میں اپنی نماز ادا کرتے ہیں۔


مصر
مصر کے مسلمان اس دن کو انتہائی جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ عید کی نماز کے فوراً بعد پالے یا خریدے گئے جانوروں کو ذبح کرنے کا فریضہ سر انجام دے کر دوستوں اور رشتے داروں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ مصر میں عید الاضحٰی کا تہوار تین روز تک منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر مختلف تنظیمیں اور خیراتی ادارے گوشت اکٹھا کر کے غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند ادارے غزہ اور صومالیہ کے فاقہ زدہ اور غریب مسلمانوں کو بھی گوشت بھجواتے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ خاندان کے لوگ عید کے دن اکٹھے ناشتہ کرتے ہیں اور اس موقع پر تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔ گوشت تقسیم کرنے کے بعد اکثر خاندان دریائے نیل کے کنارے پکنک منانے نکل جاتے ہیں۔


ترکی
ترکی میں بھی دن کا آغاز مساجد میں نماز کی ادائیگی کے ساتھ ہوتا ہے، اور سورج نکلنے کے بعد عید کی نماز پڑھ کر پہلے خدا کے حضور خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں اور پھر قربانی کے جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے اور اسلامی روایات کے مطابق گوشت کی تقسیم کا عمل پورا کیا جاتا ہے۔ ترکی میں عید قربان کا تہوار چار دن تک منایا جاتا ہے۔عید کے موقع پر ترکی مسلمان رشتے داروں کی دعوتیں کرتے اور جوابی دعوتیں قبول کرتے ہیں۔ ترکی میں گھروں پر جانور کو ذبح کرنا منع ہے۔لوگ اپنے جانوروں کو قریبی مذبحہ خانوں میں ذبح کرواتے ہیں۔ یہاں اکثر لوگ قربانی کے جانوروں کا خون اپنے بچوں کے ماتھوں پر ملتے ہیں تاکہ وہ بلاؤں سے محفوظ رہ سکیں ۔


چین
چین میں تقریباً 20 ملین مسلمان آباد ہیں اور یہاں بھی عید کے موقع پر مساجد میں دیکھے جانے والے اجتماع بہت روح پرور ہوتے ہیں۔ اس خاص موقع پر بزرگوں کے بچے،پوتے، پوتیاں، نواسے اورنواسیاں خصوصی طور پر مختلف شہروں سے ہزاروں میل کا سفر طے کر کے اپنے بڑوں کے ساتھ عید منانے آتے ہیں۔ چین میں لوگ جانور ذبح کر کے صرف 3 ٹکڑے کرتے ہیں ۔ایک ٹکڑا گھر کے لیے رکھا جاتا ہے ۔دوسرا ٹکڑا رشتے داروں اور تیسرا غرباء میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ چین میں عید کا سب سے بڑا تہوار کاربن فیسٹیول ہوتا ہے۔اس موقع پر مقامی حکومتیں مسلمانوں کے لیے اجتماعی دعوت کا اہتمام بھی کرتی ہیں ۔


بنگلہ دیش
بنگلہ دیش میں عید الضحیٰ کا تہوار تین روز تک جاری رہتا ہے۔بنگالی مسلمان بھائی عید کی نماز پڑھتے ہی جانوروں کو قربان کرنے کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ عید کی چھٹیوں کے دوران رشتہ داروں کی دعوتیں کی جاتی ہیں۔ان دنوں لوگوں کی بڑی تعداد پارکوں اور دریاؤں کی سیر کو نکلتی ہے۔عید کے موقع پر قومی شاہراہوں کو قومی پرچم اور جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے۔ لوگوں کی کثیر تعداد اپنے دیہاتوں کا رخ کرتی ہے اور ڈھاکہ جیسا شہر صحرا کا منظر پیش کرتا ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
01 Sep, 2017 Total Views: 4396 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
There are some cows and some oxes and buffalos are sold on e-t price some cattle are needed to build status.some bulls are too strong to be harnessed.at the time of slaughtering,some of the cattle staged very bad reactions. to avoid personal injury or catastrophic accident,trained gun - men are needed to stun the cattle
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, CALGARY ALBERTA CANADA on Sep, 18 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Before Islam, Arab festivals were just for fun and enjoyment but since Islamic Festival took place in Arab cities they amend their life. In Islam Eid Al Fitar and Eid-ul-Adha is not the name of any fun and enjoyment festival, it gives you the message of helping needy people and share happiness with them. If we talk about Eid Al Fitar and Eid Eid-ul-Adha then these festivales are celebrated differently in all over the world.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB