لڑکوں نے میدان مار لیا٬ دلچسپ صورتحال

 

اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے محنت کرنا کوئی خاص بات نہیں لیکن محنت کر کے اپنے مقصد کو حاصل کرلینا واقعی ایک بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے- اپنے مقاصد حصول کے لیے ایسی ہی محنت کی تھی چند طالبعلموں نے جنہیں بالآخر کامیابی حاصل ہوئی- ہم بات کر رہے ہیں کراچی کے میٹرک کے سالانہ امتحانات برائے 2016 میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کی-

گزشتہ روز کراچی میٹرک بورڈ نے سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2016 ریگولر کے نتائج کا اعلان کیا- میٹرک بورڈ کی جانب سے اس موقع ان امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کے اعزاز میں ایک تقریب بھی منعقد کی- اس تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جناب معین خان تھے- تقریب میں پوزیشن ہولڈر طلبا کو عبدالستار ایدھی لیجنڈری شیلڈ سے نوازا گیا- اس کے علاوہ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلم کو 50 ہزار٬ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلم کو 30 ہزار اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلم کو 20 ہزار روپے کا چیک سے بھی نوازا گیا- یقیناً یہ پوزیشن ہولڈر طالبعلم دوسرے طلبا کے لیے ایک زندہ مثال ہیں- ہماری ویب نے ان طلبا سے خصوصی بات چیت کی جو کہ اب آپ کے پیشِ خدمت ہے-

سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں میٹرک سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2016 میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے خوش نصیب طالبعلم محمد حمزہ خان سے- حمزہ نے 850 میں سے 798 نمبر حاصل کیے اور یہ پوزیشن اپنے نام کی-

 


ہماری ویب: اسکول کا نام؟
محمد حمزہ خان= عثمان پبلک اسکول کیمپس 9-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
محمد حمزہ خان= بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں- اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کروں گا کہ مجھے یہ مقام حاصل ہوا- اس کے علاوہ اپنے اساتذہ اور والدین کا بھی شکریہ ادا کروں جن کی محنت اور مدد سے میں نے یہ پوزیشن حاصل کی-

ہماری ویب: ہمیشہ خود سے پڑھائی کی یا پھر کوچنگ بھی جوائن کیا ہے؟
محمد حمزہ خان= نہیں میں صرف اسکول اور گھر پر ہی پڑھتا تھا-

ہماری ویب: آئندہ کس مضمون کے انتخاب کا ارادہ رکھتے ہیں؟
محمد حمزہ خان= پری انجنئیرنگ میں داخلہ لوں گا-
 


ہماری ویب: تعلیم کے نظام کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے؟
محمد حمزہ خان= کتابوں میں اچھے مضامین شامل کیے جائیں تاکہ بچوں میں دلچسپی پیدا ہوں٬ اس کے علاوہ اساتذہ بھی محنت سے پڑھائیں کہ بچوں کو سمجھ آئے-

ہماری ویب: آپ کے خیال میں نصاب میں کس طرح کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟
محمد حمزہ خان= یہ نصاب بھی بہتر ہے کافی حد تک لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس میں جیسے جیسے ترقی ہورہی ہے اس حوالے سے بھی مضامین شامل کیے جائیں-

ہماری ویب: آج کل کے دور میں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی سہولت ہر عمر کے فرد کے پاس موجود ہے٬ لیکن کیا اسکول کے طلبا کو اس کی اجازت ہونی چاہیے؟
محمد حمزہ خان= واقعی یہ صحیح چیز نہیں ہے کیونکہ اس سے بچوں کی پڑھائی سے توجہ ہٹ جاتی ہے-

ہماری ویب: اگر آپ کو ایک دن کے لیے پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا جائے تو سب سے پہلا کام کیا کریں گے؟
محمد حمزہ خان= میں سب سے پہلے اسلام نافذ کروں گا تاکہ لوگ اسلام پر عمل کریں اور اس کے بعد عوام کی بہتری کے لیے اقدامات کروں گا-

ہماری ویب: آپ دوسرے طالبعلموں کو تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کیا پیغام دیں گے؟
محمد حمزہ خان= ہر کام اپنے وقت پر اچھا لگتا ہے جیسے پڑھائی کے وقت پڑھائی اور کھیل کے وقت کھیل- اس کے علاوہ کامیابی کے لیے اﷲ تعالیٰ سے دعا بھی ضرور کرنی چاہیے-

اب ہم بات کرتے ہیں میٹرک سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2016 میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے خوش نصیب طالبعلم سکندر علی کھوکر سے- سکندر نے 850 میں سے 796 نمبر حاصل کر کے یہ پوزیشن اپنے نام کی-
 


ہماری ویب: اسکول کا نام؟
سکندر علی کھوکھر= سینٹ پیٹرک سیکنڈری اسکول-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
سکندر علی کھوکھر= بہت خوشی ہورہی ہے کہ میری سیکنڈ پوزیشن آئی- فرسٹ کے لیے رہ گیا خیر یہ نصیب کی بات ہے-

ہماری ویب: آپ کے والدین کیا کرتے ہیں؟
سکندر علی کھوکھر= میرے والد صحافی ہیں جبکہ والدہ ہاؤس وائف-

ہماری ویب: ہمارے ملک میں دو اقسام تعلیمی نظام موجود ایک میٹرک بورڈ سسٹم اور دوسرا کیمبرج سسٹم٬ آپ کے خیال میں کیا صحیح ہے؟
سکندر علی کھوکھر= میں اس کی مخالفت نہیں کرتا٬ جس کی جتنی حیثیت ہو وہ اسی طرح داخلہ لے- البتہ میٹرک بورڈ کو چاہیے کہ وہ اپنا معیار اتنا بلند کریں کہ طلبا کیمبرج سسٹم کی جانب سے جانے کا سوچیں ہی نہیں-

ہماری ویب: تعلیم کے نظام کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے؟
سکندر علی کھوکھر= گورنمنٹ اسکولز کی حالت درست کرنی چاہیے- مجھے اپنی پوزیشن کی زیادہ خوشی اس وقت ہوگی جب کسی گورنمنٹ اسکول کی بھی پوزیشن آئے گی- گورنمنٹ اسکولوں کو گریس مارکس دینے چاہئیں تاکہ وہاں کے طلبا بھی اچھے کالجز میں داخلہ لے سکیں-
 


ہماری ویب: آپ کی نظر میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
سکندر علی کھوکھر= امن و امان کی صورتحال بہتر ہونی چاہیے- اس کے علاوہ گورنمنٹ اسکولوں میں معیاری اساتذہ کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے-

ہماری ویب: مستقبل میں خود کو کہاں دیکھتے ہیں؟
سکندر علی کھوکھر= پری انجنئیرنگ میں انٹر کروں گا اور اسی میں گریجویشن بھی- اس کے بعد سی ایس ایس کروں گا-

ہماری ویب: آج کل کے دور میں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی سہولت ہر عمر کے فرد کے پاس موجود ہے٬ لیکن کیا اسکول کے طلبا کو اس کی اجازت ہونی چاہیے؟
سکندر علی کھوکھر= ضرورت سے زیادہ استعمال نہیں ہونا چاہیے- صرف آگاہی اور سوشل میڈیا پر دوستوں سے رابطے کے لیے استعمال کرنا چاہیے- مکمل طور پر بھی پابندی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اسکول کے ہی چند کام ایسے ہوتے ہیں جو صرف انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ممکن ہوتے ہیں-

ہماری ویب: اگر آپ کو ایک دن کے لیے پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا جائے تو سب سے پہلا کام کیا کریں گے؟
سکندر علی کھوکھر= سیاست میں آنے کا شوق نہیں ہے اس لیے اس سوال کو رہنے ہی دیجیے-

آخر میں ہم بات کرتے ہیں میٹرک سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2016 میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے خوش نصیب طالبعلم عبدالاحد سے- عبدالاحد نے 850 میں سے 795 نمبر حاصل کیے اور یہ پوزیشن اپنے نام کی-
 


ہماری ویب: اسکول کا نام؟
عبدالاحد= ایس ایم پبلک اکیڈمی-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
عبدالاحد= بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں٬ بہت خوشی ہورہی ہے- اﷲ تعالیٰ کا اور اپنے والدین اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے یہ مقام ملا-

ہماری ویب: ہمیشہ خود سے پڑھائی کی یا پھر کوچنگ بھی جوائن کیا ہے؟
عبدالاحد= جی ہاں پورے سال کوچنگ بھی جوائن کی-

ہماری ویب: آپ کے والدین کیا کرتے ہیں؟
عبدالاحد= میرے والد گورنمنٹ آفیسر جبکہ والدہ ہاؤس وائف ہیں-

ہماری ویب: آئندہ کس مضمون کے انتخاب کا ارادہ رکھتے ہیں؟
عبدالاحد= پری انجنئیرنگ میں داخلہ لینے کا ارادہ ہے-
 


ہماری ویب: ہمارے ملک میں دو اقسام تعلیمی نظام موجود ایک میٹرک بورڈ سسٹم اور دوسرا کیمبرج سسٹم٬ آپ کے خیال میں کیا صحیح ہے؟
عبدالاحد= جی ہاں کیمبرج سسٹم کو بھی قائم رہنا چاہیے٬ جن لوگوں کی حیثیت ہے اور وہ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں ضرور اس میں داخلہ لینا چاہیے-

ہماری ویب: تعلیم کے نظام کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے؟
عبدالاحد= کتابوں کے معیار کو بلند کرنے کی ضرورت ہے ان میں نئے مضامین شامل کیے جانے چاہئیں-

ہماری ویب: آپ کے خیال میں نصاب میں کس طرح کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟
عبدالاحد= کورس کی ہر کتاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے- ہر کتاب میں نئے مضامین شامل کیے جائیں ابھی جب ہم ان کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں صرف پرانے دور سے متعلق مضامین ہی پڑھنے کو ملتے ہیں-

ہماری ویب: آپ کی نظر میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
عبدالاحد= پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بھی تعلیم ہی ہے- کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے تعلیم انتہائی ضروری ہے- جب ہم تعلیم پر توجہ دیں گے اور ترقی کریں گے تو ہمارے دیگر مسائل خودبخود ہی حل ہوجائیں گے-

ہماری ویب: مستقبل میں خود کو کہاں دیکھتے ہیں؟
عبدالاحد= فی الحال میرے دماغ میں بہت سی باتیں ہیں- کبھی سوچتا ہوں کہ انجنئیر بنوں تو کبھی سوچتا ہوں کہ سی ایس ایس کروں- غرض کہ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ زندگی میں بننا کیا ہے-
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
05 Aug, 2016 Total Views: 5351 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Do not worry try and try you will be succeeded in future take it easy and try again and again.
By: mahfuzurrehman, Karachi on Aug, 09 2016
Reply Reply
0 Like
Assalam O alaikum kal mai ne larkion se mutalliq likhatha ke larkian larkon se behtar taleem hasil kar rahi hain jab ke mai ne larkon ki parahi par tanqeed ki thi lekin aaj mai ne jab hamariweb on kia tu jan kar khosi hoye ke kafi salon ke bad larkon ne kamyabi hasil ki jis ki jetni tareefen ki jayen kam hai mai bahut khosh hon in larkon par jo kamyabi hasil ki hain larkon ko bhi parhne me mehnat karni chayye khod allah na ban jaye apna kam khod kare aur baqi allah talah par chore di jaye taqdeer ka malik allah talah hai rizq o raza ka woh hai malik hai watu izzo mantashao wato zillo mantashao baqi ander stood hai is liye majeed kuch likhna bekar hai omeed karte hain ke larke parh kar field me aayen ghar chalana mard ka kam hai aurton ka nahi aur maa ka kam bachon ki tarbiat deni hai maa baap ko bachpan se hi larkon aur larkion ko control me rakhni chayye ye in ke mustaqbil ka sawal maa ko tarbeat dene ka ziadah muqa milta hai is liye tamam bachon ko parahi ki tawajjah deni chayye namaz bhi pabandi se parahayen aur achi tarbiat den.
By: mahfuzurrehman, Karachi on Aug, 08 2016
Reply Reply
0 Like
I AM DISABLE AND RTD PERSONA OF LOCAL SOCIETY.LOCAL SOCIETY DOES NOT GIVE ME ANY GRADE IN THE SOCIETY. I DO NOT EXCEPT SOCIETY,S BEHAVIOR BUT I HONOUR THEM A LOT FOR THERE WORK FOR THE UP BUILD OF THE COUNTRY.WHEN I AM MOVING OUT- SIDE, MY MIND DOES NOT STOP THINKING HOW CAN THEY SET UP THE COUNTRY SO FAST. I BECOME SO OCCUPIED WITH THINKING AND I HAVE TO STOP THINKING WHEN MY MIND SAYS WE ARE HISTORICALLY A LOT OLDER THEN WESTERN SOCIETY THEN I FIND MYSELF USELESS AND WORTH -LESS.I DO NOT WANT THESE-BOYS YOUNG GIRLS TO FALL IN MY CATEGORY. I WANT THIS YOUNG- BLOOD TO BE SMART IN THE BOOKS ONLY BUT OTHER FIELDS TOO.BUILD YOUR OWN COUNTRY AND DO NOT BECOME LIKE ME . DISPLACE PERSON. CONGRATULATION. BUT REMEMBER;';ROME WAS NOT BUILD IN A DAY
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, CALGARY ALBERTA CANADA on Aug, 07 2016
Reply Reply
0 Like
Congratulations to all successfull candidates., wish you best of luck, Allah apko or kamayabiyan ata kren...ameen..
By: zai,, karachi. on Aug, 06 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Announcement of result or Preparation of result is very easy but successfully passing the Examination is very hard. Those students can evaluate who gets leading position in the results and make their parents and teachers proud. These students should be encouraged at every stage. On this purpose Hamariweb has chit chat with position holders of the matric science.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB