عبدالستار ایدھی لیجنڈری ٹرافی اور پوزیشن ہولڈر طلبا٬ خصوصی انٹرویو

 

ایک موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اﷲ علیہ نے نوجوان طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں آج آپ سے سربراہ مملکت کی حیثیت سے نہیں بلکہ ذاتی دوست کی حیثیت سے مخاطب ہوں۔ میرے دل میں نوجوانوں خصوصاً طالب علموں کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ آپ پر قوم اور والدین کی طرف سے بھاری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہم سب کا فرض ہے کہ متحد ہوکر ملکی تعمیر و ترقی میں مصروف ہوجائیں۔‘‘

واقعی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے روشن مستقبل کی ذمے داری ہمارے آج کے طالبعلموں کے کاندھوں پر ہے- لیکن ہمارا کل سنوارنے میں وہی طالبعلم کامیاب ہوں جو آج تعلیمی میدان میں کامیابیاں سمیٹیں گے- چند ایسے ہی کامیاب طلبا اس وقت سامنے آئے جب گزشتہ روز کراچی میٹرک بورڈ نے جنرل گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2016 ریگولر کے نتائج کا اعلان کیا- میٹرک بورڈ کی جانب سے اس موقع ان امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کے اعزاز میں ایک تقریب بھی منعقد کی- اس تقریب کے مہمان خصوصی معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی مرحوم کے صاحبزادے فیصل ایدھی تھے- تقریب میں پوزیشن ہولڈر طلبا کو عبدالستار ایدھی لیجنڈری ٹرافی سے نوازا گیا- اس کے علاوہ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو 50 ہزار٬ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالبہ کو 30 ہزار اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو 20 ہزار روپے کا چیک سے بھی نوازا گیا- یقیناً یہ پوزیشن ہولڈر طالبعلم دوسرے طلبا کے لیے ایک زندہ مثال ہیں- ہماری ویب نے ان طلبا سے خصوصی بات چیت کی جو کہ اب آپ کے پیشِ خدمت ہے-

سب سے پہلے ہم بات کریں گے میٹرک جنرل گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2016 میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی خوش نصیب طالبہ امن بلوچ سے- امن بلوچ نے 850 میں
 سے 741 نمبر حاصل کیے-

 


ہماری ویب: اسکول کا نام؟
امن بلوچ= سٹیزن سیکنڈری اسکول-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
امن بلوچ= بہت اچھا لگ رہا ہے- میری کامیابی کا سہرا میرے ٹیچر اور والدین کے سر ہے-

ہماری ویب: آپ کے والدین کیا کرتے ہیں؟
امن بلوچ= والد پرائیوٹ جاب کرتے ہیں جبکہ والدہ ہاؤس وائف ہیں-

ہماری ویب: آپ کتنا ٹائم پڑھائی کو دیتی ہیں؟
امن بلوچ= کوئی حد نہیں تھی بس پڑھتی رہتی تھی-

ہماری ویب: ہمیشہ خود سے پڑھائی کی یا پھر کوچنگ بھی جوائن کیا ہے؟
امن بلوچ= نہیں کبھی کوچنگ نہیں گئی-

ہماری ویب: آئندہ کس مضمون کے انتخاب کا ارادہ رکھتی ہیں؟
امن بلوچ= ابھی فیصلہ نہیں کیا-

ہماری ویب: زندگی میں کیا بننا چاہتی ہیں؟
امن بلوچ= ٹیچر بننے کی خواہش ہے-
 


ہماری ویب: آپ کے خیال میں مستقبل میں آرٹس کی فیلڈ کا کیا اسکوپ ہے؟
امن بلوچ= بہت وسیع اور روشن اسکوپ ہے-

ہماری ویب : آپ پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتی ہیں؟ اور اس کے لیے کن عملی اقدامات کی ضرورت ہے؟
امن بلوچ= ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں اور اس کے لیے ہمیں محنت کرنی ہوگی اور دل لگا کر پڑھنا ہوگا-

ہماری ویب: طالبعلموں کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال کو کیسا سمجھتی ہیں؟
امن بلوچ= اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کریں اور غیر ضروری استعمال بہتر نہیں ہے-

ہماری ویب: آپ دوسرے طالبعلموں کو تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کیا پیغام دیں گی؟
امن بلوچ= کامیابی چاہتے ہیں تو دل لگا کر پڑھیں-

اب ہم بات کرتے ہیں میٹرک جنرل گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2016 میں دوسری پوزیشن اپنے نام کرنی والی خوش قسمت طالبہ الفیہ سے- الفیہ نے 850 میں سے 736 نمبر حاصل کیے اور یہ پوزیشن اپنے نام کی-
 


ہماری ویب: اسکول کا نام؟
الفیہ= ایف سی مورث والا گرلز سیکنڈری اسکول-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
الفیہ= بہت اچھا محسوس ہورہا ہے- میرے اساتذہ اور والدین کی محنت تھی جو رنگ لے آئی-

ہماری ویب: آپ کے والدین کیا کرتے ہیں؟
الفیہ= میرے والد الیکٹرونک آئیٹم کی سپلائی کرتے ہیں-

ہماری ویب: آپ نے اس سے پہلے کبھی کوئی پوزیشن حاصل کی ہے؟
الفیہ= اسکول کی سطح پر ہمیشہ ٹاپ تھری پوزیشن میں ہی رہی-

ہماری ویب: آپ کتنا ٹائم پڑھائی کو دیتی ہیں؟
الفیہ= دن رات محنت کرتی تھی لیکن اس بات کا کبھی اندازہ نہیں لگایا کہ میں نے کتنے گھنٹے پڑھا-
 


ہماری ویب: کیا آپ کے ایگزامینیشن سینٹر میں نقل کا بھی رجحان تھا؟
الفیہ= جی نہیں ایسا کچھ نہیں تھا٬ بہت سختی تھی-

ہماری ویب: لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل گروپ میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی یا پھر اس میں وہ لوگ داخلہ لیتے ہیں جو پڑھائی میں کمزور ہوتے ہیں- آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں؟
الفیہ= یہ بالکل غلط ہے- میری سائنس میں اچھی پوزیشن تھی لیکن میری دلچسپی جنرل گروپ میں تھی اسی لیے میں نے اس کا انتخاب کیا- جو محنت کرتا ہے اسے اس کا پھل ضرور ملتا ہے-

ہماری ویب: بحیثیت طالبعلم آپ کو کس طرح کے مسائل کا سب سے زیادہ سامنا رہا؟
الفیہ= لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پڑھائی بہت متاثر ہوئی-

ہماری ویب: تعلیم میں کامیابی کے لیے والدین کے کردار کو کس طرح دیکھتی ہیں؟
الفیہ= انسان کی بنیاد ہی اس کے والدین ہوتے ہیں- میری کامیابی کا سہرا میرے والدین اور میرے اساتذہ کے سر ہے کیونکہ ان کی مدد کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں تھا-

ہماری ویب: آئندہ کس مضمون کے انتخاب کا ارادہ رکھتی ہیں؟
الفیہ= میں اکنامکس کی فیلڈ میں جاؤں گی-

ہماری ویب: زندگی میں کیا بننا چاہتی ہیں؟
الفیہ= میں ٹیچر بننا چاہتی ہوں-

آخر میں ہم بات کرتے ہیں میٹرک جنرل گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2016 میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ حنا جاوید سے جنہوں نے 850 میں سے 734 نمبر حاصل کیے-
 


ہماری ویب: اسکول کا نام؟
حنا جاوید= ڈی اے نیلم ہائی اسکول-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
حنا جاوید=بہت خوش ہوں اور اﷲ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور اس کے ساتھ ہی اپنے والدین اور اساتذہ کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں-

ہماری ویب: آپ کے والدین کیا کرتے ہیں؟
حنا جاوید= میری والدہ ہاؤس وائف ہیں اور والد کی الیکٹرونکس کی شاپ ہے-

ہماری ویب: آپ نے اس سے پہلے کبھی کوئی پوزیشن حاصل کی ہے؟
حنا جاوید= 6 سے 10 کلاس تک فرسٹ یا سیکنڈ پوزیشن آتی رہی ہے-
 


ہماری ویب: آپ کتنا ٹائم پڑھائی کو دیتی ہیں؟
حنا جاوید= روز تو نہیں پڑھتی تھی لیکن امتحانات کے دنوں میں بہت زیادہ محنت کرتی تھی-

ہماری ویب: لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل گروپ میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی یا پھر اس میں وہ لوگ داخلہ لیتے ہیں جو پڑھائی میں کمزور ہوتے ہیں- آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں؟
حنا جاوید= واقعی لوگوں کا یہی خیال ہوتا ہے لیکن میرے آٹھویں کلاس میں سائنس میں 98 فیصد نمبر تھے اور اس کے باوجود میں جنرل گروپ کا انتخاب کیا-

ہماری ویب: بحیثیت طالبعلم آپ کو کس طرح کے مسائل کا سب سے زیادہ سامنا رہا؟
حنا جاوید= ہمارے اسکول میں سال میں 7 سے 8 بار امتحانات منعقد ہوتے تھے اور اس وجہ سے بہت زیادہ تیاری کرنی پڑتی تھی جس میں بہت مشکل پیش آتی تھی- اور اسی وجہ سے کسی اور چیز میں دلچسپی بھی نہیں لے سکتے تھے-

ہماری ویب: طالبعلموں کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال کو کیسا سمجھتی ہیں؟
حنا جاوید= ہر چیز استعمال کے لیے بنائی جاتی ہے لیکن اگر اس کا استعمال حد میں رہ کر کیا جائے تو ٹھیک ہے ورنہ غلط ہے-
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
03 Aug, 2016 Total Views: 3425 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Masha Allah mehnat me barkat hai aur is me koi shak nahi lekin larkon se shikayat hai ke woh parahi me dil nahi lagate aur na apne ander koi sonch paida karte hain ke woh kuch apne liye qaum ke liye kuch banen maa baap par aaj kal larke bojh ban gaye hain aur bhi wajuhat hain jis ki wajah kar ladke parhne me dilchaspi nahi lete hain lekin agar larke parhen tu ek na ek din kamyab honge tasalsul zarori hain Allah talah larkon ko hedayet de ke woh apne pairon par khara ho saken larkian parhne me me bahut dilchaspi leti hain is liye kamyabi ko cho rahi hain
By: mahfuzurrehman, Karachi on Aug, 07 2016
Reply Reply
0 Like
ALL THOSE OUTSTANDING PERSONALITIES SHOULD BE LOGGED ON ALL GOVERNMENT LEVELS. THEY ALL SHOULD B E INCLUDED IN ALL ADVISORY COMMITTEE VOLUNTLY. ALL INNOVATIVE PEOPLE SHOULD BE SOUGHT AND HELPED. ALL COUNTRIES ARE STRUGGLING FOR ANY ADVICE
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, CALGARY ALBERTA CANADA on Aug, 06 2016
Reply Reply
0 Like
Excellent.
By: ATEEQ AHMED AZMI, Karachi on Aug, 04 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Hamariweb conducted special interviews of Position holder’s students of Metric General Group of Board of Secondary Education Karachi. Amen Baloch, Alifya and Hina Javaid are the brilliant students as first, second and positions respectively. Position holders shared their feeling on success, about their teachers, education system, parents and their time table.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB