آئی ایس آئی اور اہل مغرب کا واویلا

(Naghma Habib, Peshawar)

دشمن جب کسی قوم اور ملک پر فتح حاصل کرنا چاہے تو اس کے قلب پر وار کرتا ہے اور یہی حال پاکستان کے دشمنوں کا ہے جب بھی اسے اپنی شکست نظر آنے لگتی ہے وہ مسلح افواج اور آئی ایس آئی کو نشانہ بناتے ہیں اور مختلف اطراف سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس بار بھی وہ انتہائی احمقانہ انداز سے ایک تعلیمی ادارے کی رپورٹ کی صورت میں حملہ آور ہوئے ہیں ایسا نہیں ہے کہ لندن سکول آف اکنامکس کے ہاورڈ یونیورسٹی کے فیلو Waldman Matt کی کوئی سٹرٹیجک یا دفاعی اہمیت ہے تاہم اسے دشمن کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور تمام پاکستانیوں کو یقین ہے کہ یہ رپورٹ مغربی ممالک کی نیت کی غماز ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی طالبان کے مالی اور تیکنیکی مدد کے ساتھ ساتھ اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔ نامعلوم طالبان رہنماؤں کے انٹرویوز کا ڈھونگ رچا کر رپورٹ کو جاندار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے نو طالبان لیڈرز کون تھے افغانستان کے انتہائی مغرب دشمن علاقوں میں ان خاص لوگوں تک مصنف کی پہنچ کیسے ممکن ہوئی یہ باتیں ابھی تک منظر عام پر نہیں آئیں۔ صدر پاکستان کی طالبان سے ملاقات کا بھی بے بنیاد ذکر کیا گیا ہے۔ آئی ایس آئی کی طالبان کی سپریم کونسل کے اجلاسوں میں شرکت بھی رپورٹ میں مذکور ہے۔ رپورٹ کے مندرجات تو اب تک سب کو معلوم ہو چکے ہیں لیکن اس کے محرکات ضرور قابل غور ہیں اور ہاں یہ بات بھی بعید از عقل ہے کہ اگر طالبان کو واقعی پاکستان سے مدد مل رہی ہے تو کیا اب اس مدد کی ضرورت ختم ہو گئی ہے جو وہ خفیہ مدد دینے والے مددگار کا راز فاش کر رہے ہیں طالبان بھی جانتے ہیں کہ انہیں اپنی بقا کے لیے ابھی یہ جنگ لڑنی ہے اور اگر پاکستان حقیقت میں مدد کر رہا ہے تو کیا اس کے بعد بھی وہ ان کی مدد جاری رکھے گا یا رکھنے کی پوزیشن میں ہوگا کہیں ایسا تو نہیں کہ وسط ایشیائی توانائی کے ذخائر تک پہنچنے کے لیے علاقے میں اپنے قیام کا جواز بنانے کے لیے مغربی خفیہ ایجنسیاں ان کی مدد کر رہی ہوں اگر یہ بات اہل مغرب کو دور کی کوڑی محسوس ہو رہی ہو تو بھی اس کے امکانات آئی ایس آئی کے طالبان کی مدد کرنے سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے الزامات اب مغرب کا معمول بن چکا ہے اس سے پہلے ایڈمرل مائک ملن یہ الزام لگا چکے ہیں کہ پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا ہے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس بھی آئی ایس آئی پر طالبان کی مدد کا الزام لگا چکے ہیں۔ تاہم یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکہ افغانستان میں بدترین حالات سے دو چار ہے جب صرف چند ہفتوں میں افغانستان میں تیس اتحادی فوجی مارے گئے۔ امریکہ اسوقت افغانستان میں ستر بلین ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے اب تک ہزار سے زیادہ امریکی لاشیں لے جا چکا ہے جبکہ اسکے اتحادی لاشوں کی تعداد بھی ہزار کے قریب ہے۔ ایسے میں دوسروں پر الزام دھر دینا بہت آسان راہ فرار ہے اور محسوس یہی ہو رہا ہے کہ امریکہ اور اسکے مغربی اتحادی نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ پاکستان، آئی ایس آئی اور پاک فوج سے خوف زدہ یہ ملک اور آئی ایس آئی سے کئی گنا زیادہ بجٹ اور وسائل رکھنے والی ان کی خفیہ ایجنسیاں اپنے تمام تر مصائب اور ناکامیوں کا ذمہ دار اس ادارے کو قرار دیتی ہیں جس کے وسائل ان کے مقابلے میں بہت کم اور مسائل بہت زیادہ ہیں جس کو بیک وقت سی آئی اے، ایم آئی 5-، را، رام اور موساد بلکہ کے جی بی کا بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے اگر ان مقابلوں کے بعد وہ ان کی آنکھوں میں دھول بھی جھونک دے تو ان ملکوں کو باعزت طریقے سے اپنی ہار مان لینی چاہئے۔ لیکن بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی کسی بھی مقصد کے لیے اپنے لوگوں کی جان لینے کی سوچے گا بھی نہیں اور وہ دہشت گردی کی اس نام نہاد اور مسلط کردہ جنگ میں اپنے کئی اہلکاروں کی قربانی دے چکا ہے اس کے دفاتر کو حتیٰ کہ اسکی بسوں تک کو نشانہ بنایا گیا اور طالبان ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرتے رہے۔ اس سب کچھ کے بعد بھی اس قسم کی لا یعنی رپورٹس شائع کرنے کا سبب کچھ اور ہے یہ جس کو خود سمجھتے ہیں۔ اصل میں افغانستان پر حملے کے وقت امریکہ اور اس کے حواریوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ انہوں نے سوویت یونین کو تڑوانے کے بعد جس افغانستان کو بے یار و مددگار چھوڑا تھا وہاں انہیں اس قدر شدید مزاحمت اور ہزیمت کا سامنا کر نا پڑے گا اب جب وہاں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مورد الزام پاکستان کو ٹھہرا دیا جاتا ہے نیٹو کے بے تحاشہ ٹینکرز جسکی حفاظت کی ذمہ داری امریکہ لے چکے تھے ظاہر ہے کہ طالبان نے تباہ کیے کیا اس میں بھی پاک فوج ملوث تھی اور کیا جی ایچ کیو، پریڈ لین کی مسجد اور آئے روز پاک فوج کے قافلوں پر حملے بھی یہی پاکستانی حمات یافتہ طالبان کر رہے ہیں اور کیا پاکستان ان کو اسی سب کچھ کرنے کے لیے مدد فراہم کر رہا ہے۔ اور کیا صدر پاکستان پچاس زیر حراست ان طالبان کو آزادی کی نوید سنانے گئے تھے جن کو وہ مسلسل اپنی شریک حیات کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور ان سے کسی نرمی کے راودار نہیں۔ اصل حقیقت وہی ہے جو پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ یہ لوگ اب بوکھلائے ہوئے ہیں اور کھسیانی بلی کھمبا ہی نوچتی ہے یہ مغربی طاقتیں تو یہ تک کہہ چکی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو اسکی فوج میں موجود طالبان کے حمایتیوں سے خطرہ ہے جبکہ پاکستانیوں اور پاک فوج کو یقین ہے کہ یہ ایٹمی قوت ان کے قوت ایمانی کے بعدان کی بقا کی ضامن ہے اس لیے وہ مغربی اور مشرقی ہر بد نیت سے اس کی حفاظت کرینگے اور ان کے سامنے ہار نہ مانیں گے۔ دراصل مغربی دنیا اسلام اور خاص کر اسلامی جمہوریہ پاکستان سے خوفزدہ ہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ اس ملک کا مذہب اسلام ہے لہٰذا یہاں داڑھی بکثرت ہی نظر آئے گی اور یہ بھی کہ اس ملک کا قومی لباس شلوار قمیض ہے لہٰذا اکثریت اسی لباس میں ملبوس ہو گی وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ مسلمان ہونے کے ناطے یہاں تمام لوگ نمازی ہیں لہٰذا ٹوپی کا استعمال بھی عام ہوگا اب اگر ان سب خوبیوں اور خاصیتوں کے باعث امریکہ اور اہل مغرب پورے پاکستان کو طالبان سمجھے تو ان کی جہالت ہے۔ اور ان کو اپنی سوچ پر غور اور نظر ثانی کر لینی چاہیے اور اگر وہ پاکستانی قوم اور فوج کے بارے میں اپنے معاندانہ رویے میں تبدیلی کر لے تو اس کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ اس وقت پاکستان کو امریکہ کی ضرورت نہیں بلکہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے ورنہ بصورت دیگر افغان جنگ اس کو مزید مہنگی پڑے گی پاک فوج نے اپنے جتنے افسروں اور جوانوں کو اس جنگ میں کھویا اگر اس کے باوجود بھی مغرب اس کو قصور وار قرار دے رہا ہے تو حکومت پاکستان کو بھی اپنی حکمت عملی پر غور کر لینا چاہیے۔ زیر تبصرہ رپورٹ کی وجوہات میں سے ایک پاکستان کا شمالی وزیرستان میں آپریشن نہ کرنا بھی ہے جس کے لیے امریکہ پورا زور لگا رہا ہے اور مختلف حربے آزما رہا ہے۔

ایران پر مغربی پابندیاں لگنے کے باوجود پاکستان کا اس کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی مغرب کے سیخ پا ہونے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے بہرحال وجوہات جو بھی ہوں سب سے بڑی وجہ بدنیتی اور مغرب کا وہ دکھ ہے کہ ایک اسلامی ملک ایٹمی طاقت بن کر اس کے صلیبی ارادوں کی راہ میں روکاوٹ کیونکر بن گیا۔

جیسا کہ میں اوپر لکھ چکی ہوں کہ حکومت پاکستان کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی ضرور کر لینی چاہیے اور اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے صرف میڈیا وار پر اکتفا کرنے کی بجائے سفارتی سطح پر اسے اٹھانا چاہیے اور برطانیہ سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ملک سے ایسی رپورٹ شائع ہونے پر پاکستان سے سرکاری طور پر معافی مانگے اور یہ گارنٹی بھی لینی چاہیے کہ آئندہ ایسی بے بنیاد خبروں اور رپورٹس کو شائع نہیں کیا جائے گا جمہوریت اور آزادی صحافت اپنی جگہ لیکن ذمہ داری کا ثبوت دینا ان کے حق میں بھی بہتر ہے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 Jun, 2010 Total Views: 5696 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Naghma Habib

Read More Articles by Naghma Habib: 406 Articles with 191245 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
mitti ki muhabbat ma in ashufta saron ne
woh qarz chukaye hain jo wajib b na the
By: Farheen Naz Tariq, Chakwal on May, 26 2016
Reply Reply
0 Like
A last letter of one Proud Pakistani Soldier to his wife

Major. Imran Ahmed, 4th Batallion.
Miranshah, North Waziristan, F.A.T.A.

August 14, 2011

Mrs. Maira Imran.
Lahore, Punjab, Pakistan

Assalamoalaikum,

Kaisi ho Maira? Ummeed hai khairiat se hogi, main bhi khairiat se hee hoon. Maira shayad yeh khat mera aakhri khat ho isliye isko sambhaalkar rakhna, kamsekam jab tak Zaid bada nahin hojaata. Kal Zaid ki doosri saalgirah thi, main aa nahin paaya. Kaise aata? Hum logon ko ek family ke liye nahin, humaari 17 crore logon ki family ke liye kaam karna padraha hai. Meri taraf se Zaid ko bohot pyaar karna aur humaare study ki cabinet ki sabse aakhri daraaz mein green file ke neeche ek envelope hai, woh Zaid ko dedena. Maine us envelope ko aise hee waqt ke liye rakh chorha tha. Usmein uske liye mera tohfa aur ek khat bhi hai joh usko akele padhne dena.

Is waqt tak toh is khat par do aansoo girchuke honge, aakhir tum aurtein itni emotional kyun hoti ho main kabhi samajh nahin paaya. Zaid ko is tarah ka matt banaana, I want my son to be brave just like me. Zaid ki tasveerein dekhi maine, pehle kabhi nahin kaha ab kehraha hoon, woh bilkul tumpar gaya hai. Uski aankhein, uske baal, uska maatha, sab kuch tumpar hai. Pehle kabhi shayad male ego ki waja se nahin kaha, ab socha keh hee doon. Maira yeh jung bohot mushkil hai kyunke ismein donon taraf humaare apne hain, aur jung ka asal marhala apnon ko goliaan maarna hota hai. Aksar toh dus baar sochte hain, par jab pehle goli wahan se aati hai toh jawaab mein humein bhi goli chalaani padti hai. Yahan rehne waale bohot takleef se guzar rahe hain, sirf isliye taake hum unke gharon ko is operation ke liye istamaal karsakein. Sab kisi na kisi tarah is mulk ke liye qurbaanian dene par lage huye hain, aakhir yeh mulk hai hee itna pyaara.

Parson humaari duty ek school mein lagaayi gayi. Ek foji ke liye chowkidaar ki tarah school ki rakhwaali karne se badtar kuch nahin hai, yehi sochkar bohot dair tak mera muun bana raha. Par phir jab saare bacchon ko school aakar buland awaaz mein Pakistan ka qomi taraana gaate huye suna toh yoon samjho saara ghussa pighalgaya. Un bacchon ko bina darr ke padhta dekhkar dil ko bohot khushi huyi, unke chehre mutmayeen thay kyunke woh jaante thay ke kuch nahin hoga kyunke hum wahan hain. Ek dehshatgard ne school ki imaarat ke andar bomb fix kardiya tha, agar hum evacuation karvaate toh bohot sa jaani nuqsaan hosakta tha, isi liye maine wohi kiya joh ek foji ka farz tha apne mulk ke bacchon ke liye. Maine us bomb ko haath mein uthaaya aur usko lekar school ki imaarat se duur bhaag gaya. Bahar jaakar blast hogaya aur main yahan hospital mein admit hogaya. Mujhe is sabka koi afsos nahin hai Maira, kyunke woh bacche salaamat rahe. Maine toh foj join hee isliye ki thi taake apne is paak watan ko apni jaan ka nazraana desakoon. Main shaheed hoon Maira, mujhe inhi alfaaz mein yaad kiya karna, aur Zaid se kehna ke woh bhi sabko fakhr se bataaye ke uska baap mulk ki khidmat karte waqt on duty shaheed hua hai. Zaid bohot pyaara baccha hai Maira, aur ab tumhein akele usko paalna hoga. Aaj marte marte waseehat kar raha hoon, Zaid ko bhi foji banaana Maira. Is kaam mein ek ajeeb sa nasha hai, shaahadat ka nasha, mulk ke liye jaan qurbaan karne ka nasha, aur is nashe ke aage duniya ka har kaam pheeka hai. Meri maut par afsos naa karna, jashn manaana kyunke main teen sau bacchon ko bachaakar jaan deraha hoon, aur waise bhi shaheedon ki maut par roya nahin fakhr kiya jaata hai.

Maira, tumhein ab khud hee apna khayaal rakhna hoga. Apne ammi abbu ko apne paas bulaalena, tumhein akele rehne ki aadat nahin hai. Maira jab tum mere ramp ceremony (funeral) par aaogi toh wahan meri uniform, medals aur badges Zaid se collect karvaana. Main chahta hoon woh is umar mein hee ek foji hone ke jazbe ko mehsoos kare. Bas main itna kehsakta hoon ke mujhe intezaar hai ab apne mulk ke hilaali parcham se lipatkar shaheed kehlaaye jaane ka. Main aaunga apni ramp ceremony par, dekhne ke liye ek shaheed ki maut par kitni ronaq hoti hai. Jab mere honour mein goliaan fire karke salaami diye jaane ki awaaz sununga, tabhi meri rooh ko sukoon pohonchega. Ab alvida kehdeta hoon kyunke is sabko kehne ke baad naa hee tum aur padhne ka qaabil hogi aur naa hee main likhne ke. Isliye alvida, apna aur Zaid ka bohot khayaal rakhna. Tumhaare paas Zaid is mulk ki amaanat hai, aur amaanat ko ek din lautaana hee hota hai. Main intezaar karunga Zaid ki shahaadat ka. Khayaal rakhna.


With Love,

Major Imran Ahmed, Punjab Regiment, 4th Batallion.
By: Muhammad Rizwan Afzal Khan, Nowshera on Aug, 17 2011
Reply Reply
1 Like
Apni jaan nazr karon , Yan apni wafa pesh karon qoom k mardy mujahid tujhy kia pesh kron!!!!
By: Haboor, SHAHKOT on Dec, 02 2015
0 Like
میرے چارھ گرو کو نوید ھو
میرے صفے دشمناں کو خبر کرو
وھ جو قرض رکھتے تھے ھم جان پر
وھ قرض آج ھم نے چکا دیا
By: Muhammad Zubair, Multan on Jul, 18 2011
Reply Reply
0 Like
اے جان و فا مانگ یہ سر مانگ یہ جاں مانگ
ہم نے بھی سوچا ہے کہ کچھ حق تو ادا ہو

By: Behram Khan, Malakand on Jun, 24 2011
Reply Reply
0 Like
excellent ..very weldone..good job done
By: zaveyarkhan, dist dir on Jun, 23 2011
Reply Reply
0 Like
americans were in fact earning 400 to 500 billions dollars a year from narcotics produced in afghanistan before 9/11, taliban destroyed it by eliminating poppy fields, now u can well understand why they attacked afghanistan?
By: hero, london on Jun, 23 2011
Reply Reply
0 Like
Every country of the world is having an intelligence agency...always work for its interest ..this is one of the world best of which we should be proud...but unluckily being so much targeted/criticized//openly...that our enemies must be celebrating.... for doing their job
By: Zaveyar khan, rawalpindi on Jun, 20 2011
Reply Reply
1 Like
A good and thought provoking article, well done.
By: Zaveyar Khan, Rawalpindi on Jun, 19 2011
Reply Reply
0 Like
Well said, see the propaganda of the hypocrite west and the US. Saying something one day and another the other day.
US is surely losing in Afghanistan and making Pakistan a scapegoat
By: anwar wazir, Wana on Jun, 18 2011
Reply Reply
0 Like
true its true i ll totally agree with you but muslims ko ab dushmano k khilaf tyari krnii pre gi nhi to ye kafir musalmano pe ese toot pare ge jese koi bhoka khane pe toot ta he jesa k nabi s a w ki hadees he k aik waqt esa bhi aye ga jb tmhari tadaad kafiro se kafi zayada hogi lekin wo tum pr ese char doren ge jese koi bhooka khane pe toot ta he.
By: junaid, lhr on Mar, 30 2011
Reply Reply
0 Like
Top ten intelligence agencies ranking for 2010 by an international magazine:-

(10) ASIS (Australia)

(9) RAW (India)

(8) DGSE (France)

(7) FSB (KGB) (Russia)

(6) BND (Germany)

(5) MSS (China)

(4) CIA (America)

(3) MI-6 (UK)

(2) MOSSAD (Israel)

(1) ISI (Pakistan)

Proud to be a Pakistani
By: Pakistan Kay Sola Crore Awam, Pakistan on Jan, 20 2011
Reply Reply
1 Like
"Wonderful"
By: Habib Ullah Khan, Swat on Nov, 02 2010
Reply Reply
0 Like
A good article and I agree with Mrs Naghma but this is not the first time that foreign media is targeting ISI there have been a number of incidents where Pak Army and its intelligence agencies have been targeted with the intentions to defame these prestigious organisations .
By: Malik Nadeem akhtar, Islamabad on Oct, 19 2010
Reply Reply
0 Like
آپ نے ٹھیک لکھا ہے کہ(اس ملک کا مذہب اسلام ہے لہٰذا یہاں داڑھی بکثرت ہی نظر آئے گی اور یہ بھی کہ اس ملک کا قومی لباس شلوار قمیض ہے لہٰذا اکثریت اسی لباس میں ملبوس ہوگی وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ مسلمان ہونے کے ناطے یہاں تمام لوگ نمازی ہیں لہٰذا ٹوپی کا استعمال بھی عام ہو گا اب اگر ان سب خوبیوں اور خاصیتوں کے باعث امریکہ اور اہل مغرب پورے پاکستان کو طالبان سمجھے توان کی جہالت ہے) اس میں شک نہیں کہ اہل مغرب جاہل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم کر دی ہے
By: Abdullah Khan, Islamabad on Jul, 06 2010
Reply Reply
1 Like
I am really impressed by the understanding of the truth and portraying of the true picture of the basic problem by the author .I appreciate it. Today ,there is a need to show the our people and the world, the true picture of the problems, this nation and the whole Muslim world is facing. We need to act as Talat Hussain today at individual level .
By: nawaz, faisalabad on Jun, 20 2010
Reply Reply
0 Like
koi mane ya na mane.hum to afghan taliban k saath hain jo k sache mujahid hain.hamare dil se kal bhi un ki fatah ki dua niklte thi aj bhi nikalti hai.INSHALLAH dekhna aik din islam ko bachane wale ye azem mujahid zaror kamyab ho gi.
By: hassan raza, gojra on Jun, 17 2010
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB