پاکستان سے متعلق مثبت حقائق جو دنیا کو نہیں بتائے جاتے

 

دوسروں کی طرح٬ ہم پاکستانیوں نے بھی اپنے ملک کے بارے میں منفی سوچ قائم کر رکھی ہے- ہم کسی بھی چیز کے مثبت پہلوؤں کے بارے میں جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے- ہماری یہ سرزمین ہر اس خوبی سے مالا مال ہے جو کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ کرسکتی ہے- پاکستان چند ایسے چونکا دینے والے حقائق کا بھی مالک ہے جنہیں پڑھ کر یقیناً آپ اس ملک کے بارے میں مثبت رائے قائم کرلیں گے لیکن افسوس کی بات ان مثبت حقائق کا دنیا کے سامنے ذکر ہی نہیں کیا جاتا- ہمارے ملک میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو اسے دنیا کا ایک بہترین ملک بنا سکتی ہیں-
 

پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے بڑا شراکت دار ہے اور سب سے زیادہ تعاون کر رہا ہے-
 
دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں پاکستان میں مہاجرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور وہ پاکستان ان مہاجرین کی میزبانی فرائض سرانجام دے رہا ہے-
 
دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ پاکستان میں واقع ہے جسے گوادر پورٹ کے نام سے جانا جاتا ہے-
 
پاکستان دنیا کا سب سے بڑا بائیومیٹرک سسٹم رکھتا ہے جو کہ نادرا کے زیرِ انتظام ہے-
 
پاکستانی قوم دنیا کی سب سے زیادہ انگلش زبان بولنے والی آبادیوں میں تیسرے نمبر پر ہے-
 
دنیا کی سب سے زیادہ نوجوانوں پر مشتمل آبادی والے ممالک میں پاکستان کا 6واں نمبر ہے-
 
پاکستان آرمی دنیا کی چھٹی سب سے بڑی ملٹری فورس کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے-
 
پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ مزدور اور افرادی قوت کے وسائل رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے-
 
دنیا کو سب سے زیادہ انجنئیر اور سائنسدان مہیا کرنے والے ممالک میں پاکستان 7واں نمبر ہے-
 
پاکستان 45 ملین طالبعلم رکھتا ہے اور یہ تعداد آسٹریلیا اور کینیڈا کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے-
 
ایک اندازے کے مطابق سال 2050 تک پاکستانی قوم دنیا کی چوتھی بڑی قوم ہوگی-
 
دنیا کو سب سے زیادہ دودھ فراہم کرنے والے ممالک میں پاکستان کی چوتھی پوزیشن ہے-
 
پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا تجارتی خدمات سرانجام دینے والا ملک ہے-
 
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
19 Mar, 2017 Total Views: 9785 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
جغرافیائی تزویراتی اہمیت کا مطلب کسی ملک کے محل وقوع کے حوالے سے اس کی اہمیت ہوتا ہے کہ اسے اپنی جغرافیائی حیثیت کی بنا پر کیا فوائدحاصل ہوسکتے ہیں اور وہ اس کے بل بوتے پر کسی طرح پر بین الاقوامی سطح پر قابل ذکر اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ پاکستان جغرافیائی طور پر ایک لاثانی محل وقوع کا حامل ہے ۔اس کی سمندری خدودخلیج فارس کے ساتھ ملتی ہیں ۔یہ چین اور جنوبی ایشیا کا گیٹ وے ہے۔ یہ وسطی ایشیائی ریاستوں جن کو کوئی سمندر نہیں لگتا کو بحر ہند اور بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ بھارت کے ساتھ اس کی سرحد مشترک ہے۔ یہ تیل کی دولت سے مالامال خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔یہ جنوبی ایشیا اور جنوب مغربی ایشیا کو ملانے کے لیے پل کا کام کرتا ہے۔درہ خیبر کے ذریعے افغانستان تک اور شاہراہ قراقرام کے ذریعے چین تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ کراچی اس کی بڑی بندرگاہ ہے اور دنیا بھر کے بحری جہازوں میں ایندھن بھرنے کا ایک بڑا اڈہ ہے۔ چین گودار بندر گاہ کو بھرپور تجارتی سرگرمیوں کے قابل بنانے میں اس لیے دلچسپی رکھتا ہے کہ یہ اس کے لیے تزویراتی فوائد کی حامل ہے۔
By: Ghufran ul Haque, Karachi on Aug, 26 2016
Reply Reply
0 Like
MASHALLAH ...........
LONG LIVE PAKISTAN .....
PAKISTAN ZINDABAD .......
By: Ali, Wazirabad on Apr, 10 2016
Reply Reply
0 Like
کیونکہ ان مثبت حقائق کو بتانے سے نہ تو آسکر ایوارڈ مل سکتا ہے اور نہ ہی نوبل پرائز ۔ یہ اعزازات صرف پاکستان کا منفی رخ دکھانے سے ملتے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے ۔ اور حکمران سیاستدان دیندان تو دنیا میں آئے ہی اسلئے ہیں کہ پاکستان کو واقعی ناپاکستان کرکے رکھ دیں ۔ خدا ان سب کو جلد اپنے پاس بلا لے قوم کو داغ مفارقت عطا ہو ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Apr, 09 2016
Reply Reply
0 Like
mashAllah...................i feel proud,agar elite ke hatho se paisa le kar pakistani garib awam main bant dia jaye to pakistani qoam super power ban sakti hai,
By: azeem, lahore on Apr, 09 2016
Reply Reply
0 Like
MASHA ALLAH.... ITNE WASAIL DEKH KAR TO AISA LAGTA HAI KE HAMAIN DOOSRAY MUMALIK KO IMDAD DENI CHAHIYE.......LEKIN YE HUKMRAN IS MULK KO BHIKARI BANANAY MAIN LAGAY HUAY HAIN.
By: kashif sherjee, Karachi on Apr, 09 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
If you think you know everything about Pakistan being a Pakistani, well, you’re in for a certain shock – there is always more to what the eyes see and the mind knows. These are small details that matter in big places.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB